کا کیچہ منہ رکھتا ہوں ، شوگر کنڑول رہتی ہے ۔،میٹھا بھی کھاتا رہتا ہوں، :عبدالستارایدھی

* اہلیہ بہت کنٹرول کرتی ہیں ،میٹھا نہیں کھانے دیتیں ،وہ نہ ہوں تو خوب مزے کرتا ہوں ،اور یہ اس لئے نہیں لیتا کہ سا ئیڈ افیکٹ نہ ہوجائے۔

* عورت کے قابل نہیں رہا تاہم مشن والی کوئی لڑکی مل جائے تو ضرور شادی کرلوں گا ،ذیا بیطس اور کمزوری کے معاملے میں ایلو پیتھک علاج پر بھروسہ نہیں ۔

* اِس مرتبہ 1مہینے کے بعد غسل کیا ،ایک دفعہ 6مہینے بعد بھی نہایا ،لوگ باہرکی مَیل اتارتے ہیں مگر اندر سے مَیلے رہتے ہیں،پانی کا ضیاع کرتے ہیں ۔

سوشل ورک ، سیاست ، انصاف ، انقلاب ، اور صحت پر ایک تفصیلی اور جامع انٹر ویو

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

شوگر: یعنی اپ قومیت مذہب کے تعصب کے بغیر خدمت کرنا چاہتے ہیں؟

عبدالستارایدھی: آپ کو یہ نہیں لگتا کہ ہمارا مذہب فساد اورجھگڑے جیسی کوئی چیزنہیں چاہتا ؟یہ سب کچھ ہم نے اپنے مفاد کی خاطر پیداکیا ہے۔تعصب کی بنیاد پر انسانوں کو تقسیم کرتے ہیں ،استحسال کرتے ہیں ۔ہمارے ہاں شادی کے معاملے میں یہ حال ہے کہ غریب کی بچی کی شادی نہیں ہوتی ۔ہے پھر غریب بھی اُصول پسند نہیں،دیکھا جائیے جتنا غریب کی زنڈگی میں سکون ہے اور کسی میں نہیں ہے بشرطیکہ سادگی اختیار کرے،سچ ہونا چاہیے محنت ہونی چاہیے ،وقت کی پابندی ہونی چاہیے کیونکہاِن4چیزوں میں ہمیشہ سہولت ہے۔میری عادت ہے کبھی کوئی دعوت آئے تو 1گھنٹہ پہلے پہنچتاہوں،جو انسان وقت کی قد نہیں کرتا وہ ناکام ہے۔میری والدہ مجھے سکول وقت پر بھیجتی تھیں ،2پائی دیتی تھیں اور کہتی تھیں کہ 1پائی تم کھانا اور 1کسی غریب بچے کو دے دینا ۔سادگی کی عادت مجھے والدکی طرف سے ملی ہے ،میرے والد بہت سادہ تھے ،سر کے بال منڈائے رکھتے کپڑے دُھلوائے ،زیادہ سے زیادہ سے زیادہ کا میرا ریکارڈ یہ ہے کہ ایک دفعہ 6مہینے بعد بھی نہایا ہوں۔ پاکستان لوگ ہفتے میں 1دفعہ نہاتے تھے ،جمعہ کے لیے لیکن اب دن میں 2دفعہ نہاتے ہیں،صرف باہر کی مَیل اتارتے ہیں مگر اندر سے مَیلے سے مَیلے رہتے ہیں ،پانی کا ضیاص کرتے ہیں ۔میں نے حال ہی میں کسی انٹر ویو میں کہا تھا کہ مسئلہ بہت بڑاہے اور بہت جلد ایک سنگین صورت اختیار کر جائے گا۔مرے ہوؤں کو روتے رہتے اور زندہ انسانوں کی نا قد ری کرنے والی اِس قوم کی قدم کے مقدر میں بہت کم یہ مواقع آئے کہ ایک جیتا جاگتا لح اُن کے درمیا ن موجود ہو ۔ آزادی سے لی کر اب تک خدمت کی ایک لمبی روایت قائم کرنے والے مینارۂ نور نے اِس میدان میں بہت سے نئے آنے والوں کے لیے بھی روشنی بکھیری ۔55سال گزرنے کے باوجود یہ بلند ہمت اور نو جوان بوڑھا سر دیوں کی یخ بستہ راتوں کو 3بجے بھی ایک فون کال پر جاگ جاتاہے اور دیوانہ وارَ کسی گندے نالے میں اُتر کر ایک لاواث لاش کو نکال لاتا ہے ۔سال کے 365دن ملیشیا میں ملبوس عبدالستار ایدھی کو بیر ونی دُنیا میں فاور ٹر یسا ،کا خطاب بھی دیا گیا ۔ملک بھر کے غریب عوام کی یہ محبوب شخصیت 22برس سے ڈٹ کر ذیا بیطس کا مقابلہ بھی کر رہی ہے مگر اُس دانشمندی سے نہیں وحس کے ساتھ وہ اتنے بڑے کام کو چلارہے ہیں۔

شوگر : آپ کے ذہن میں اِس کا م کا خیال کیسے آیا؟

عبدالستار ایدھی : میں پاکستان میں اِسی نیت سے آیا تھا ، پاکستان بنا تو 6ستمبر 47ء کو سمندر کے راستے کراچی پورٹ پر اُتر نے کے بعد میرے دل میں یہی ارادہ تھا کہ صحت کے شعبے میں کام کروں گا کیونکہ صحت کامعاملہ تو اُس کی جان بھی جا سکتی ہے ،وہ 2سال کے لیے تعلیم میں تا خیر بھی کر سکتا ہے ، دوسرے معلاملات میں سب کچھ کرسکتا ہے لیکن صحت کا معاملہ ایسا نہیں ۔بہرحال (میمن ) برادری کے ساتھ مل کر کام شروع کیا لیکن میری سوچ ہمیشہ وسیع پیمانے پر کام کرنے کی تھی کہ انسانوں کوایک جیسا سمجھا جائے اور ذات براور ی کی بنیادپر تقسیم نہ ہو۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6

Comments

comments