برادری میں کام کرتے ہوئے مزہ نہ آیا تو علیحدہ ڈسپنسری کھولی ،جگہ بھی خرید لی لیکن وہاں بھی وہی تعضبات پھیلادیئے گئے ،دوا بھی بغیر چٹھی کے نہیں دی جاتی تھی ۔ اس پر میرا دل ٹوٹ گیا اور میں وہاں سے ہٹ گیا ،پھر اِس جگہ پر زمین کا ٹکڑالیا لیکن اِس میں میمن حضرات کا ایک گروپ شامل تھا ۔کچھ سال اِسے چلاتا رہا مجھے محسوس ہو ا کہ ایک مخصوص کمیو یٹی کے نام دجہ سے میری ترقی رُک رہی ہے ۔کام تو میں عام انسانوں کے لیے کر رہا ہوں لیکن یہ نام اِسے محدود کر دیتا ہے ۔ پھر یہاں فری ڈسپنسری کھولی ،4آنے لیتے تھے ،جس کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے اُس سے کچھ نہیں لیتے تھے ۔میں نے سارے سِلسلوں کو ختم کرکے عبدالستارایدھی فاؤنڈ یشن ،رکھ دیا چونکہ میرے خلاف ماحول پایاجا تا تھا اِس لیے فاؤنڈیشن بننے کے بعد برادری کے لوگ میرے خلاف ہوگئے ،فی الحقیقت حقوق العباد پر کام کرنا بہت کٹھن ہے۔

شوگر:جب آپ بھارت سے پاکستان آئے توخالی ہاتھ تھے،اُس وقت تو خودآپ کومدد کی ضرورت تھی لیکن لینے کی بجائےآپ نےخود کچھ دینےکا سوچا؟

عبدالستارایدھی: پہلےمیں نے نوکری شروع کی،میرے سیٹھ اُس وقت 125روپےماہانہ دیا کرتےتھےلیکن میراخیال تھا کہ مجھےاتنے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیشہ سوچتا تھا کہ اپنی ضرورت تک کماؤں،اِس کے بعدکوئی کام اچھاکروں گا۔ انسان کوکچھ حاصل کرنےکےلیےایک منزل متعین کرنا پڑتی ہے اورایک دفعہ جب منزل طےہوجاتی ہے توپھروہ آگےبڑھتاجاتا ہے۔ ذہن میں یہ تھا کہ اپنے وسائل کی حدگیسےاتنا کام کیاجائے کہ لوگ خود متاثرہوکر کہیں کہ ایسا ہوناچاہیئے۔ بیرحال ایساہی ہوا اب اللہ کےفضل سے بہت آگےنکل چکےہیں۔ ڈسپنسری ے بعد میں نےایک چھوٹی سی پرانی ایمبولنس گاڑی لی۔ اس کا نام ’’غریبوں کی ایمبولینس‘‘ رکھا۔اِس پرڈرائیونگ سیکھی اورخود چلانے لگا۔ یہاں ڈسپنسری سے باہرچھوٹا کمرہ ہواکرتا تھا،2گھنٹے وہاں بیٹھارہتا۔ بہرحال آگے بڑھتاگیا مخالفتمیں بھی اضافہ ہوتا گیا لیکن میں نےاِس کی کوئی پرواہ نہ کی۔

شوگر:سب سے پہلے اپنوں ہی کی طرف سے مخالفت ہوئی تھی؟

عبدالستارایدھی:جی ہاں!برادری کے لوگ ہی تھے، میں یہی کہا کرتاکہ برادری اورتقسیم کی بنیادپر کام کرنے کی بجائے انسانیت انسانیت کی بنیادپر کرہ اور سب کو فائدہ دو لیکن سرمایہ دار تو اپنا ہی فائدہ سوچتاہے۔ میرےایک دوست لندن سےآئے تھے،کہتےکہ ایدھی صاحب 55سال گئےہیں آپ ابھی تک نہیں تھکےاوراب بھی جنت اورثواب کے پیچھے بھاگے جارہےہیں اورخداخدا کے گیت گاتےرہتےہو،اگرتم یہ راہ اختیار نہ کرتے،انقلاب کا راستہ پکڑتےاوراتنے ہی سال اُس کےلیےصرف کرتے توتم نظام تبدیل کرسکتےتھے۔ ہمارےمعاشرےمیں چیریٹی کےراستے ادارےہیں لیکن کوئی ادار1یل چیئردینے کےلیے تیارہے۔ اِصل کام کرنےکےلیے کوئی بھی تیارنہیں ہے بلکہ ویلفیئرایک بن گئی ہے ۔کسی کوبھی دھندہ نہ ملتا ہو، یہ کام شروع کردیتاہے تاہم اب کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نےبڑے پیمانے پرکام شروع کیا ہے ثلاآنکھوںکے ارکینسرکے ہسپتال ہیں لیکن زیادہ ترکام اِسی طرح سے چل رہا ہے۔ یہ بہت بڑی انڈسڑی بن چکی ہے اورچلتی ٹرین میں توسبھی چڑھ جاتے ہیں۔

شوگر:جو لوگ آپ کو دیکھ کرخدمت خلق کرنا چاہتے ہیں،انہیں راستہ دیکھنا اب آپ کی ذمہداری ہےکہ یہ کام کیسےکیا جاتاہے؟

عبدالستارایدھی : مین نےایک پوری کتاب تیارکرائی ہے جو تہینہ درانی نےاِسی سلسلےمیں کھی ہے میں نےاُس سےیہی کہاتھا لوگوں کویہ بتانا ہےکہ سوشل ورک کیسے کیاجاتا ہے؟یہ درحقیقت تربیت کی کتاب ہےاس کےعلاوہ میں نے 6کتابیں مزید تیارکی ہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6