شوگر:آپ نےابتدا میں نشے کےمریضوں کےلیے کافی کام کیااوراس کےبعد چھوڑدیا کیا کوئی مشکلات تھیں؟اب کبھی نہیں سُنا کہ آپ نشے کے مریضوں و علا ج کے لیے جاتے ہیں۔

عبدالستارایدھی :جی نہیں!چھوڑا نہیں اب بھی نشے کرمریضوں کولےجاتے ہیں لیکن اِس کاکوئی باقاعدہ علاج نہیں ہے۔آپ زیادہ پانی پیئں،وضو کریں نماز شروع کردیں خودبخود آپ کے اندر قوت ارادی پیدا ہوجائےگی تکلیف بہت زیادہ ہےتو کھانا کھانے کے بعد اسپر دکھالیں۔ نشےکے مریضوں میں اچھائیوں کی نسبت برُائیاں زیادہ ہیں، اتنی برُائیاں ہیں کہ ماں باپ کو بھی نہیں بخشتے، بہنوں کاجہیز تک بیچ دیتے ہیں،زہین اتنا جرائم پسند ہوجاتا ہے کہ اِس پر قابو پانامشکل ہوجاتا ہے۔ 5,4مرتبہ علاج کراکے جانےکے بعد بھی پھراُسی لت میں پڑجاتے ہیں۔

شوگر:نشےکےمریض کاعلاج آپ کیسےکرتےہیں؟

عبدالستارایدھی :ہم نے باقاعدہ ایک سیل بنارکھا ہے۔ایسے مریض کوکمرے میں بند رکھتےہیں گلوکوزلگاتے ہیں اورزیادہ سے زیادہ پانی پلاتےہیں۔ گلوکوزلگانا اِس کاعلاج تونہیں ہے مگرلوگوں کےذہنوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہےکہ جب تک گلوکوزنہیں لگائیں گےعلاج اچھا نہیں ہوگا۔

شوگر:کھا ر اورمیں آپ کی جوسب سےپہلی ڈسپنسری تھی،ویسےہی چل رہی ہے؟

عبدالستارایدھی:جی بالکل!وہی جزک میڈیسن دی جاتی ہیں،وہاں یہی کہاگیا ہےکہ پیٹنٹ اوریہ نہ لکھیں کیونکہ غریب پر بوجھ پڑتا ہے۔اُنہیں تاکید کریں کہ سادگی اختیارکریں،صفائی کاخیال رکھیں اگرکوئی بیماری مثلاً کھانسی،نزلہ وغیرہ ہےتوگرم پانی استعمال کریں،اِس میں تھوڑی بلدی ڈال لیں،میں خود بھی کبھی کبھی دودھ میں بلد ڈال کرپیتا ہوں۔

شوگر:تعلیم کےشعبے کےلیے بھی آپ نےکچھ کیا؟

عبدالستارایدھی :نہیں!ابھی تک تونہیں کیا لیکن اتنی تعلیم توہرانسان کےپاس ہونی چاہیےکہ اخبار پڑھ لے،حساب کتاب کرسکے،ہمارے سارے سنٹروں میں دری سکول چل رہےہیں۔اب ہم نے پروگرام بنایا ہےکہ 2گھنٹے کےلیے اساتذہ رکھیں جن کوہم تنخواہ بھی دیں گے تاکہ وہ بچوں کو پڑھاسکیں بچوں کودینا پڑیں تواُن کوبھی وظیفہ دیں گے لیکن سب سے بڑامسئلہ یہ ہےکہ غریب کا زہن اِس کام کےلیے تیار نہیں،وہ خود اپنی حالت بدلنے پرآمادہ نہیں۔

شوگر:کچھ آئندہ منصوبوں کےبارے میں بتائیں کہ آپ کیا کرناچاہ رہے ہیں؟کیا موجودہ کام ہی کو توسیع دیناچاہ رہےہیں یاکوئی نئےمنصوبےشروع کریں گے؟

عبدالستارایدھی :جہاں جہاں ایدھی ہوم نہیں ہیں وہاں ایدھی ہوم بنانےکاخیال ہے۔آج ہم نےپورے پاکستان میں ایمبولینس سروس کوسستا کردیا ہے۔ ہیلی کاپٹر والا منصوبہ بھی چل رہا ہےجس میں ہیلی کاپٹراور 3جہاز شامل ہیں۔ لاہورمیں بھی شروع کرنےکا ارادہ تھا مگرمیں کسی نہ کسی اُلجھن میں پڑا رہتا ہوں۔

شوگر:آپ نےاتنااچھاکام کیا ہےتواچھےساتھی بھی ضرورملےہوں گے؟

عبدالستارایدھی :نہیں!بہت مشکل ہے،مجھےکسی پربروسہ نہیں،تنگ آکراپنے بیٹے کوبلایا،بیٹی کوشامل کیا اب کچھ صورت حال بہتر ہےاورمالی معاملات میں برکت پیداہوگئی ہے۔ اب میرا بیٹا یہ سوال کرتا ہے’’مجھےیہ سمجھ نہیں آتی کہ رپورٹ کےاندر متفرق اخراجات کےبارے میں کیوں لکھاجاتا ہے؟ یہ اخراجات توبالکل ہونےہی نہیں چاہئیں‘‘یعنی متفرق اخراجات کوبھی کنٹرول کیا ہے۔

شوگر:آپ کی فاؤنڈیشن میں تنخواہوں کامعیارعام معاشرےجیسا ہی ہےیا کچھ کم ہے؟

عبدالستارایدھی:اُتنا ہی بلکہ کُچھ زیادہ ہےلیکن ہم اِسے تنخواہ نہیں الاؤنس کہتے ہیں،کام کرنےوالوں کوبھی ملازم نہیں رضاکار کہتےہیں یعنی میں اپنے کارکنان میں یہ سوچ پیدا کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خدمت کاکام ہےاِس کو نوکری نہ سمجھیں۔

شوگر:لیکن آپ کو دیکھ کرکچھ اچھی متالیں بھی قائم ہوئی ہیں،عمران خان اورابرارالحق نےآپ کو دیکھ کرکام شروع کیا۔

عبدالستارایدھی:اداکار اورکھلاڑی یہ کام بہت اچھےطریقےسے کرسکتےہیں کیونکہ یہ لوگ عوام کےدلوں پرچھائے ہوئے ہیں اورعام طبقے پران کےاثرات ہوتےہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6