شوگر:افغانستان میں آپ کےکام کوکس نظر سےدیکھا جاتا ہے؟

عبدالستارایدھی:بہت اچھےطریقےسےملتےہیں اوربڑی قدرکرتےہیں،کوئی تکلیف نہیں دیتے۔

شوگر:طالبان کےزمانے میں بھی آپ کوکام کرنےکی آزادی تھی؟

عبدالستارایدھی:جی ہاں!اُن لوگوں نے ہمیں بہت عزت دی۔

شوگر:امریکہ بھی وہاں بیٹھا ہوا ہےکیا وہ بھی آپ کی مدد کرتا ہے؟

عبدالستارایدھی :نہیں بس ایک دفعہ ہمارے سنٹر پر آئےاورمعلومات حاصل کرکے چلےگئےکہ ہم کیاکرتے ہیں؟کیوں کرتے ہیں؟وغیرہ۔انہوں نےکوئی ایسی منفی بات نہیں کی وہ ہمیں بہترطورپرجانتےہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں اب حالات ٹھیک ہوجائیں گے۔

شوگر:آپ نے دنیا کا کتنے میل سفر کیا ؟

عبدالستارایدھی:صرف پاکستان ہی میں لاکھوں میل ایمبولینس چلائی ہے،اسِکےعلاوہ دنیا کے 37ممالک دیکھے ہیں اوراِن ممالک میں ہمارے سنٹرز قائم ہیں۔

شوگر:یہ تمام سنٹرز اپنی رپورٹیس کیسےبھیجتے ہیں؟

عبدالستارایدھی: فیکس کےذریعے،بڑی جلدی مجھےتمام تفصیلات اورحساب کتاب معلوم ہوجاتا ہے۔

شوگر:کیا آپ صرف گجراتی زبان جانتے ہیں یاکبھی انگریزی سیکھنےکےلیےبھی کوشش کی کیونکہ آپ کوباہر کے ممالک میں ٹی وی پرانٹرویو دینا ہوتےہیں؟

عبدالستارایدھی: نہیں اب تو اُردو،انگلش سب زبانیں سمجھ لیتا ہوں میں زبان غلام نہیں ہوں۔

شوگر:آپ کوئی سیکرٹری وغیرہ کیوں نہیں رکھتے؟

عبدالستارایدھی : میں سارا حساب کتاب خود ہی رکھتا ہوں۔ فاؤنڈیشن کاپیسہ بھی میرے ذاتی اکاؤنٹ میں ہے۔ میں چارٹرڈاکاؤنٹٹ قسم کےلوگوں کو قابلِ اعتبار نہیں سمجھتا۔ پاکستان بھرکے کام کو ایک لڑکی کمپیوٹراورلیزر پر چلا رہی ہے،اس کی تعلیم میٹرک بھی نہیں ہے،میں دراصل لوگتیار کرتا ہوں کیونکہ سماجی اورسوشل اداروں کاکام ہی یہی ہے۔

شوگر:یہ ایک بڑاجینئس قسم کاکام ہے؟

عبدالستارایدھی : بس اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہوئی ہے۔ رات کوجب بھی 4,3بجے آنکھ کھلےلکھنا شروع کردیتا ہوں اللہ تعالیٰ نے یہ میرے ذہن میں ڈالا،اِسی نےمجھ سےکام کرایا اوروہی کامیاب بھی کرتا ہے۔ کتابیں لکھتا ہوں لیکن زیادہ کتابیں لکھنےکی ضرورت نہیں رکھتے،اَب الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے،میرے خیال میں %10افراد اخبار پڑھتے ہوں گے لیکن الیکٹرانک میڈیا کی رسائی تقریباً %70افراد تک ہے۔ میرا ارادہ ہےکہ اپنا ٹی وی چینل شروع کروں ،سوشل چینل ہوگا،لوگوں کوخدمت کی طرف راغب کریں گے،خبریں نہیں ہوں گی تفریح ہوگی،اشتہارات بھی چلیں گے۔ایسے ٹی وی چینل پہلے بھی دنیا میں چل رہےہیں۔ ہمارے ملک میں صرف سرمایہ داروں کے فائدے کےلیے کام ہوا ہےغریبوں کےلیےنہیں۔ میں جاگیرداروں،سرمایہ دواروں کےخلاف نہیں ہوں لیکن یہ غریبوں کاحق ماررہے ہیں۔

شوگر:آپ غریبوں کو یہ پیغام دیتے رہے ہیں کہ اپنی حالت بدلنےکیلیےخود بھی کچھ کرو؟

عبدالستارایدھی : میں نےحال ہی میں انڈس ٹی وی پرایسی بہت سی باتیں لوگوں کو سمجھائی تھیں کہ غریبوں کی یہ خامی کچھ کم نہیں ہےکہ اِن میں سادگی،وقت کی پابندی اور محنت ہے،حیثیت سےزیادہ خرچ کرتےہیں جو ضرورت نہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6