یہ اِدارہ 1988ء میں بنا۔ پورے پاکستان میں یہ واحد اِدارہ ہے جو چارسےچودہ سال کےبچوں کوزندگی کا شعوردینےمیں مددیتا ہے، یہاں دس بارہ شعبےہیں یعنی آڈیوویڈیوکمپیوٹر سیکشن وغیرہ، ایک بہت اچھی لائبریری ہے۔ ان ڈور، آؤٹ ڈورگیمز ہیں۔ ہم نے بچوں کوسستی ترین تفریح مہیا کرنےکی کوشش کی ہے، آپ کو حیرت کہ اس ادارے کی ممبرشپ فیس صرف دوروپے مہینہ ہے تاکہ غریب بچے بھی یہاں آسکیں، 26000 کے قریب بچے ہمارے ممبرہیں۔ امجد اسلام امجد کو 1988ء میں ستارۂ امتیازاور 1987ءمیں پرائڈآف پرفارمنس ملا

اطہرشاہ خان نے اِن سے کہا کہ

تمہارےاندرڈراما لکھنے کا
قدرتی فن موجود ہے اِس لیے
لکھنے کی کو شش کرو

بیسٹ رائٹرکا ٹیلی ویژن دس میں سے چارمرتبا مل چکا ہے۔ ان کا ٹی وی ڈراما ’’وارث‘‘چینی زبان میں ڈب کیاگیا ہے، ان کی متدد کتابوں کا ترجمہ بھی چینی میں ہوا ہے اس سال بھی نیشنل ایوارڈ ان کی کتاب کو ملا۔امجد اسلام امجد کا ٹیلی ویژن کی طرف آنا حسنِ اتفاق ہی ہے۔ جب ٹی وی نیانیا آیا تو اطہرشاہ خان ’’لاکھوں میں تین‘‘ نامی ایک سیریل لکھا کرتے تھے۔ وہ یونیورسٹی میں ان ک ساتھ تھے۔اطہرشاہ خان نے ان سے کہا کہ تمہارے اندر ڈراما لکھنے کا قدرتی فن موجود ہے اِس لیے لکھنے کی کوشش کرو پھر امجد اسلام امجد نے 1968ء میں ایک پلے لکھا ۔اس وقت توان کا زیادہ رجہان شاعری کی طرف تھا گویا یہ پہلا موقعہ تھا کہ بطور ڈراما نگارانہیں دریافت کیا گیا۔


جب انہوں نے پہلہ پلے ’’ٹوٹی کہاں کمند‘‘ لکھا تو ٹیلی ویژن نے اسے فیل کر دیا۔ پانچ سال تک ٹیلی ویژن والے انہیں فیل کرتے رہے کہ یار تمہیں ڈراما وراما لکھنا نہیں آتا شاعری واعری کیا کرو لیکن امجد صاحب ڈراما لکھنے کی کوشش کرتے رہے، انہیں یقین تھا کہ وہ لکھ سکیں گے۔’’ٹوٹی کہاں کمند‘‘ نشر نہیں ہوا وہ سکرپٹ ہی گم ہو گیا تھا۔اس کی تھیم پر بعد امجد اسلام امجد نے ایک سٹیج پلے ’’گھر آ یا مہمان‘‘ لکھا جو انکا پہلا سٹیج پلے تھا۔73ء میں راولپنڈی ٹی وی سے اخباروں کے زریعے یہ اعلان آیا کہ نئے رائٹر پہلا کھیل بھیجیں۔امجد اسلام امجد نے بھی’’آخری خواب‘‘ بھیج دیا، یہ دوقسطوں میں نشرہوا اورنئے لکھنے والوں کو مقابلے میں فرس1974ء خواتین کاسال تھا، تب ساحرہ کاظمی نے ان سے دو کھیل لکھوائے ’’موم کی گڑیا‘‘اور ’’برزخ‘‘۔ اس کہ بعد 23مارچ 1975ء کو لاہورسے ان کا پہلا کھیل’’خواب جاگتے ہیں‘‘شروع ہوا۔ اس دن ان کی شادی تھی، اس پر انہیں پہلا گریجویٹ ایوارڈ ملا ۔

اس کہ بعد سی اب تک چھبیس برسوں میں انہیں پندرہ دفعہ گریجویٹ ایوارڈ مل چکا ہے۔لوگوں میں تاثر ہے کہ امجد اسلام امجد کا پہلا ڈراما ’’وارث ‘‘ ہے حالانکہ ’’وارث‘‘ ان کی پہلی سیریل تھی، اس سے پہلے وہ دس بارہ ڈرامے لکھ چکے تھے شاید’’وارث‘‘ پہلا ڈرامہ تھا جسے اس زمانے میں اتنی شہرت ملی تھی ۔س رات وارث چلتا تھا سڑکیں سنسان ہو جا تی تھیں۔’’ میرا خیال ہے کہ پاکستان چینل پر شا ید ہی کوئی ایسی سیریل ہوی ہو جس میں چھ سات لوگ بیک وقت ہٹ ہوئے ہوں۔ محبوب عالم کو پھلے کوئی جانتا نہیں تھا‘‘۔ ’’دہلیز‘‘اور’’سمندر‘‘کو بھی بہت مقبولیت حا صل ہوئی تھی لیکن ’’وارث‘‘ جیسی نہیں ۔ کسی نے بھی نہیں کہا کہ ’’وارث‘‘ پسند نہیں آیا۔ بہت سے ڈاکٹر کہتے تھے کہ ’’وارث‘‘ والا دن ہمارا فارغ ہوتا ہے کیونکہ اس شام مریض ہی نہیں آ تے ۔ کچھ لوگوں نے اس ڈرامے کے لیے شادیاں لیٹ کر دیں۔

میں بھارت گیا تو لوگوں نے بتایا کہ جالندھر، پٹیالہ، امرتسر، میں بھی اس ڈرامے کے وقت لوگ دوکانیں بند کر دیتے تھے جیسے پاکستان میں کرتے ہیں بلکہ ایک سینما مالک نے مجھے بتایا کہ وہ چھ سے نو کا شو بند کر دیتے تھے، یہ شواس ڈرامے کی وجہ سے کوئی دیکھنے ہی نہیں آتا تھا ۔

Page:  | 2 | 3 | 4