اس کے پاس فراعت ہے بڑی صحبت ہے،خالی دماغ ہے، یہ ساری چیزیں مل جل کرمنشیات کی لت کا باعث بنتی ہیں۔یہ بڑے خوناک عوامل ہیں۔ میں یہ تمام چیزیں لکھنےکی کوشش کی ۔ یہ ایک ٹینکیکل،سائینٹیفک اورمیڈیکل موضوع تھا، اس میں ایک تو مدد آپ (ڈاکٹرصداقت علی ) نے کی کیونکہ گزشتہ دس بارہ سال میں جب بھی آپ سے ملاقات ہوئی تو اسی موضوع پرگفتگو ہوئی اورآپ نے بتایا کہ آپ کیا کررہے ہیں، کس طرح لکھنا ہے،پھر کچھ لوگ تھے جن میں میرا ایک بھانجا تھا جو منشیات کا عادی ہوکر فوت ہوا، وہ بھی میرے لیے ایک بڑا سانحہ تھا، میں نے اسے بہت قریب سے دیکھا کہ کس طرح اس کے رویے تبدیل ہو جائے ہیں کس طرح آدمی ایک ایسی دنیا میں رہنا شروع کردیتاہے جاحقیقی دنیا سے الگ ہوتی ہے۔

پاکستان ٹیلی ویژن اپنے عروج
اور عظمت میں اتنا مست تھا کہ
اس نے نئی راہیں تلاش کرنے
کی بہت کم کوشش کی

منشیات کی بیماری کے متعلق کوئی ایسی سیریل ہونی چاہیئے جوکئی برسوں تک چلتی رہے جس طرح بعض ممالک میں ہوتا ہے’’ لیکن ہمارا ٹیلی ویژن اس وقت ایک عجیب مرحلے سے گزر رہاہے۔ ہم نے 70ء اور 80ئکی دہائی بہت اچھی گزاری اور 1985ء تک ٹیلی ویژن کا گراف اوپر ہی جاتا رہا۔85ء امیں ایک ٹھہراؤ سا آیا پھرایک دم پستی شروع ہوگی جب پرائیوٹ چینل این ٹی ایم آیا اوراس سے مسابقت شروع ہوئی۔ یہ صحت مند مسابقت نہیں تھی کیونکہ پاکستان ٹیلی ویژن اپنے عروج اورعظمت میں اتنامست تھا کہ اس نے نئی رائیں تلاش کرنے کی بہت کم کوشش کی۔ پرائیوٹ سیکٹرمیں بدقسمتی سے بہت سے لوگ ایسےآگئے جیسے فلموں میں آگئے تھے۔

ان کاکام پروڈکشن نہیں، پیسے ان کاکام پر وڈکشن نہیں ، میسے ان کے پاس تھوڑے ہیں اورقسمت آزمائی یا ایڈونچر کیلئے آگئے ہیں۔ گھٹیا اورسستا ساسکرپٹ لے لیتے ہیں ، پھر پروڈیوسر کو مجبور کرتے ہیں کہ پچاس شفٹوں والا کام بیس شفٹوں میں کریں، منشیات کی بیماری کے متعلق کوئی ایسی سیریل ہونی چاہیئے جوکئی برسوں تک چلتی رہے جس طرح بعض ممالک میں ہوتا ہے’’ لیکن ہمارا ٹیلی ویژن اس وقت ایک عجیب مرحلے سے گزر رہاہے۔ ہم نے 70ء اور 80ئکی دہائی بہت اچھی گزاری اور 1985ء تک ٹیلی ویژن کا گراف اوپر ہی جاتا رہا۔85ء امیں ایک ٹھہراؤ سا آیا پھرایک دم پستی شروع ہوگی جب پرائیوٹ چینل این ٹی ایم آیا اوراس سے مسابقت شروع ہوئی۔ یہ صحت مند مسابقت نہیں تھی کیونکہ پاکستان ٹیلی ویژن اپنے عروج اورعظمت میں اتنامست تھا کہ اس نے نئی رائیں تلاش کرنے کی بہت کم کوشش کی۔ پرائیوٹ سیکٹرمیں بدقسمتی سے بہت سے لوگ ایسےآگئے جیسے فلموں میں آگئے تھے۔ ان کاکام پروڈکشن نہیں، پیسے ان کاکام پر وڈکشن نہیں ، میسے ان کے پاس تھوڑے ہیں اورقسمت آزمائی یا ایڈونچر کیلئے آگئے ہیں۔

گھٹیا اورسستا ساسکرپٹ لے لیتے ہیں ، پھر پروڈیوسر کو مجبور کرتے ہیں کہ پچاس شفٹوں والا کام بیس شفٹوں میں کریں، اس طرح یہ پروڈیوسرکام کولپیٹ لیتے ہیں۔ لپیٹنے لپیٹنے میں پروڈکشن کا معیاد گررہا ہے۔ اس دوران انڈین ٹی وی دوبارہ آیا، ایک دفعہ اس نے 70ء میں یلغار کی تھی جسے ہم نے بڑی اچھی طرح روک لیا تھا لیکن اس دفعہ بھارتی ٹیلیویژن کی پیشکش بہت اچھی تھی۔ اس پرائیوٹ ٹیلی ویژن کے پیچھے سرمایہ، محنت اور تخلیق بہت تھی۔ اگرچہ کانٹینٹ اور پرفارمنس کے لحاظ سے انڈین ٹی وی اب بھی پاکستانی ٹی وی کا مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن ان کی پیش کاری ہماری نسبت بہت اچھی ہے‘‘۔پی ٹی وی جو لوگ شروع میں آئے تھے ،ان میں سے ایک دوکوئی بھی ٹی وی کے لیے تربیت یافتہ نہیں تھا لیکن وہ محنتی تھے، نئی چیز سیکھنے کے بڑے شوقین تھے اور نئی چیزمیں تجربے کی بہت گنجائش ہوتی ہے پی ٹی وی کے دس بارہ برسوں میں جو پروڈیو سرز اور رائیڑز آئے وہ زیادہ ترریڈیو کے تربیت یافتہ تھے یا لٹریچر کے ٹرینڈ لوگ تھے ۔ جیسے اشفاق احمد، شوکت صدیقی،اطہر شاہ خان،کمال احمد رضوی، بانو آپا، منوبھائی، یونس جاوید، سلیم چشتی اور حمید کا شمیری۔’’اسکے بعد خصوصاً پروڈیوسرز سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہونا شروع ہوگئے جو صرف بی اے یا ایم اے ہوتے تھے۔ ان میں سے %80لوگ ٹی وی کے لیے بنے نہیں ہوتے تھے، انہیں ایک نوکری ہی مل جاتی رہی، وہ نوکری ہی کرتے رہے، محنت یا تخلیق یا کچھ سیکھنا بہت کم لوگوں نے کیا۔

میں اپنی شاعری ہی کو ترجیح دیتا
ہوں، ڈرامے میں شہرت
زیادہ ملی ہے

امجد اسلام امجد نے پروڈیوسر کنورآفتاب احمد، محمد نثار حسین، یاورحیات،ساحرہ کاظمی اورایوب خاور کے ساتھ بطور مصنف کام کیا۔’’کچھ اچھے پروڈسرباقی سٹیشنوں پرنہیں جن کے ساتھ میں کام نہیں کرسکا۔اداکاروں میں عابد علی، فردوس جمال،محبوب عالم مرحوم ،روحی بانو،عظمٰی گیلانی، ظاہرہ نقوی مرحومہ ،قو ی خان،خیام سرحدی، وسیم عباس اورعارفہ صدیقی نے میرے پلے کیے، دیگر بہت سارے اچھےایکٹرز ہیں یہ تومیں نے چند نام لیے ہیں۔ بعض اداکاروں سے مراسم بھی روحانی سے ہوجاتے ہیں جیسے عابد کاشمیری ہیں، وہ میرے ہوپلے میں ہوتے ہیں ،ان کے چہرے کا تاثرکامیڈین والا نہیں، وہ عابد کاشمیری میں سے بہت سارے کریکٹرز نکالے ہیں۔ امجد اسلام امجد کی شخصیت کئے پہلو ہیں جن میں سے ڈرامہ نمایاں پہلو بن چکا ہے لیکن انہیں شاعری اچھی لگتی ہے۔

Page:  | 2 | 3 | 4