میں اپنی شاعری ہی کو ترجیح دیتا ہوں،ڈرامے میں شہرت زیادہ ملی ہے ملک کے اندر اور دوسرے ممالک میں کروڑوں ہیں اور دوسری بیٹی کی شادی ایس پی سیالکوٹ ناصرحنیف قریشی سے ہوئی، بیٹا شاعر اور رجحان نظم ہے۔ آجکل وہ ایکسپریس نیوز ٹیلی وژن میں پروڈیوسر ہے۔ امجد صاحب کو 22سال سے ذیابیطس ہے اوروہ انسولین لے رہے ہیں۔’’واک کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن تسلسل نہیں رہتا۔ سیر میں لمبےلمبے گیپ آجاتے ہیں‘‘۔ امجد اسلام امجد 90ء میں سعودی عرب کے شہر ریاض گئے تھے،ان کے بیگم کو معدے کا کچھ مسئلہ تھا،امجد صاحب کے ایک مداح الخالد لیب کے انچارج تھے۔ان کے ہاں بیگم کے ٹیسٹ ہو رہے تھے تو صاحب نے بھی کرالیے ۔’’ان ٹیسٹوں سے پتا چلا کہ مجھے شوگر ہے۔ میں آٹھ نو سال مختلف گالیوں ہی پررہا لیکن شوگر کنڑول نہ ہوئی تو ڈاکٹرمحمود علی ملک صاحب نے انسولین کا مشورہ دیا۔ اب چالیس یونٹ صبح تیس لیتا ہوں، میری عاتیں بھی کچھ ایسی ہیں ۔ رات کی انسولین اکژمس ہوجاتے ہے البتہ صبح کی انسولین با قاعد گی سے لگا لیتاہوں۔

ابھی تک میری راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں بنی تھی لیکن سال ڈیڈھ سے کچھ محسوس کرتا ہوں مثلاًانگلیوں میں سنسناہٹ رہتی ہے، تھاوٹ ہو جاتی ہے،نیند زیادہ آجاتی ہے، بازوؤں میں کبھی درد رہتا ہے۔ یاداشت بھی متاثر ہورہی ہے اسے قوت ارادی کہہ لیں یا ضد کہ میں نے گلوکومیٹر لاکر رکھا ہوا ہے لیکن دو دو مہینے شوگر چیک نہیں کرتا یعنی فعال انداز میں اپنی ذیابیطس کے پیچھے نہیں پڑا۔‘‘ امجد اسلام امجد کا جوانوں کے لیے پیغام ہے کہ ایک تو محنت کبھی ضائع نہیں جاتی دوسرا یہ کہ آدمی اگر زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے اس سے قطع نظر کہ اس کے حقوق کا خیال رکھا جارہا ہے یا نہیں یہ بات ایک اندرونی اطمینان دیتی ہے کہ آپ نے دنیا کے لیے کچھ کیا ہے، باقی محبت کا پھیلائیں۔ایک نظم جو وہ اکثر بطور پیغام دیتے ہیں وہ محض تین سطروں ہے۔

محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا

لوک ڈرامادیکھتے ہیں اس کا ٖیڈبیک اسی حساب سے ہے لیکن میرا بنیادی کام شاعری ہے جس کے ذریعے میں نے زندگی گزاری اور گزارنا چاہتا ہوں۔ پاکستان میں اردوکو سرکاری زبان اور ذریعہ ء تعلیم ہونا چاہیے تھا۔ آپ دیکھیں کہ مشاعرہ نہیں ہوتا حالانکہ یہ اتنا بڑا شہر اور اردو کا مرکز ہے کہ یہاں تو بہت سرگرمیاں ہونی چاۂیں‘‘۔امجد اسلام امجد دس بارہ سال سے باقاعدہ کالم نگاری بھی کررہے ہیں ۔84 ء میں روزنامہ امروز میں لکھنا شروع کیا۔

امروز بند ہوگیا تو انہوں نے بھی کالم لکھنا چھوڑ دیا۔ پھر 1990ء میں روزنامہ جنگ میں لکھنا شروع کیا اور اب تک لکھ رہے ہیں۔ امجد صاھب نے دو سفر نامے بھی لکھے،ایک امریکہ،انگلینڈ اور بھارت کا 84ء کا سفر نامہ ’’شہر در شہر‘‘ہے۔ پھر 91ء میں رائیٹرز کے وفد کے ساتھ چین گئے تو،اس پر کتاب ’’ریشم ریشم ‘‘لکھیں۔امجد اسلام امجد نے پانچ فلمیں لکھیں جن میں سے دو بہت ہٹ ہوئیں لیکن انہیں فلم ے لیے کام کرنا پسند نہیں ۔کاب انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اس طرف دوبارہ نہیں جانا ۔ 1997ء میں ان کی ایک فلم آئی ’’جوڈرگیا وہ مرگیا ‘‘اس سے قبل ’’چوروں کی بارات ‘‘ نے گولڈن جابلی کی۔’’میں نے فلم ’’قربانی ‘‘سے آگاز کیا تھا جس میں ادا کار ندیم اور شبنم تھے ۔میں نے اس کے مکالمے لکھے تھے۔پھر’’حق مہر‘‘ اور’’نجات‘‘ تھیں ۔میں نے تین سٹیج ڈرامے لکھے لیکن سٹیج کی حالت دیکھ کر 1986ء میں آخری ڈرامہ لکھا۔سٹیج پر جو کچھ وہ کرتے ہیں اس حساب سے تو کچھ نہیں لکھا جاسکتا،انہیں سکرپٹ کی ضروت نہیں ہوتی،وہ ڈرامے کی شکل ہی بگاڈ دیتے ہیں پچھلے ایک سال سے بہت زیادتی ہورہی ہے کہ دیے ہیں۔امان اللہ سے اچھا کام لیں تو وہ بہت بڑے ایکڑ ہیں،اسی طرح سہیل احمد بہت اچھا کام کررہے ہیں۔امجد اسلام امجد کی بیوی ان کی کزن ہیں،وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے اس لیے کہیں دور جانے کی ضرروت نہیں پڑی ان کے تین بچے ہیں، بڑی بیٹیاں ہیں،ایک بیٹی کی شادی مزاح نگار انور مسعود کے بیٹے محمد عاقب نور سے ہوئی ہے جو اسلام آباد میں چارٹرڈاکاؤنٹنٹ ہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4