مصا ئب آلام ذیابیطس، جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلاوٗ ہے
: امجد اسلام امجد

قوت ارادی کہہ لیں یا ضد کہ شوگر باقائدگی سے چیک نہیں کرتا، انسولین لگانے میں بھی کوتاہی ہو جاتی ہے۔ اس لئے کچھ منفی علامات سامنے آ جاتی ہیں نویں جماعت میں رسالے کا ایڈیٹر بنا، شروع میں پی ٹی وی والوں نے میرے ڈرامے ’’فیل‘‘ کر دیے، بعد میں پرائڈ آف پرفارمنس سمیت کئی ایورڈ ملے امجد اسلام امجد ایک انتہائی کامیاب شخصیت ہیں، انہوں نے جو سوچا وہ کر دکھایا، وہ عزم، ہمت اور عمل کے پیکر ہیں۔ اتنی لگن اور محنت سے کام کرتے ہیں کہ نا ممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں، لوگ جن راہوں کو خارزاد سمجھ کر انہیں ان پر چلنے سے روکتے ہیں، وہ انہی پر چلتے ہیں اورانہیں گلزاربنا لیتے ہیں، اس طرح منزلیں ان کی راہ میں آنکھیں بچھأ رہتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب پی ٹی وی والوں نے کہا کہ آپکو تو ڈراما لکھنا ہی نہیں آتا امجد صاحب کااصرارتھا کہ لکھوں گا،ضرور لکھوں گا اور کامیاب لکھوں گا۔ ان کے ڈرامے بغیر پڑھے فیل کردیے گئے مگرانہوں نے تہیہ کیا کہ نہ صرف ڈرامے لکھنے ہیں بلکہ فرسٹ کلاس لکھنے ہیں۔ پھر ایساہی ہوا اوران کے کئی ٹی وی ڈراموں کو ایواڈ ملے ۔شاہد لوگ ڈرامے ہی کو امجد کا اصل شعبہ سمجھے ہوں کیونکہ ان کا صرف ایک ڈراما’’وارث‘‘ کئی ڈراموں پر بھاری رہا مگر امجد صاحب کا کوئی ایک شعبہ نہیں،کوئی ایک جہت نہیں، وہ ہمہ جہت ہیں اور ہرشعبے میں بازی لے جاتے ہیں۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

وہ چالیس کتابوں کہ مصنف ہیں، بیسٹ سیلر ہیں، متعدد کتابیں انعامات جیت چکی ہیں۔ ان میں سے کچھ کے ترجمے دوسرے ملکوں میں ہوۓ ہیں۔ انہیں پی ٹی وی کے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ ملا بلکہ ان کا تو پہلا ڈراما ہی اول رہا تھا۔ وہ پرأیڈ آف پرفارمنس تک پہنچے ہیں۔ ان کا کالم روزنامہ جنگ میں شائع ہوتا ہے، ایڈیٹر تو وہ نویں جماعت میں ہی بن گئے تھے، سب کچھ بجامگرامجد اسلام امجد اپنا اصل شعبہ شاعری کو ہی سمجھتے ہیں۔ ان کی شہرت ملکی سرحدیں پھلانگ کرسات سمندرپار تک پہنچ چکی ہے۔ وہ مشاعروں میں شرکت کے لیے بیرون ملک جاتے رہتے ہیں، اس حوالے سے اب تک سترہ ممالک جا چکے ہیں۔

اس سب کچھ میں کوئی یہ نا بھول جائے کہ امجد صاحب روشن خیال ماہرتعلیم اورمنتظم بھی ہیں۔ وہ مختلف اداروں میں ڈائریکٹراورڈائریکٹرجنرل کےعہدوں پررہے ہیں اورابھی بھی ہیں۔امجد اسلام امجد 14 اگست 1944ء کو لاہور میں پیدا ہوئے، مسلم ماڈل سکول سے میٹرک کیا، نویں جماعت میں وہاں کہ رسالے’’نشانِ منزل‘‘ کے ایڈیٹربنے۔ فرسٹ ائیرمیں ان کی چیزیں مختلف جرائد میں چھپنا شروع ہو گئیں، اس وقت چٹان، قنذیل ،شمع اور رومان وغیرہ شائع ہوتے تھے۔امجد اسلام امجس نےانٹراسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے کیا۔ تب تک کرکٹ میں بہت دلچسپی رکھتے تھے، بی اے اسلامیہ کالج سول لائینزاورایم اے پنجاب یونیورسٹی اورئینٹل کالج سے کیا۔

وہاں ابھی پڑھنا شروع کیا تھا کہ ستمبرکی جنگ شروع ہوگئی، اس پر امجد اسلام امجد نے ایک نظم لکھی جواحمد ندیم قاسمی کے پرچے ’’فنون‘‘میں چھپی۔ یہ شاعری میں ان کی اہم پیشرفت تھی۔ پنجاب یونیورسٹی لٹریری سو سائٹی کےچئیرمین اوریونیورسٹی کے رسالے’’محور‘‘کے چیف ایڈیٹربنے۔ وہاں سےنکلے تو ایم اے او کالج میں لیکچرشپ جوائن کی۔ اس ک بعد 1975 میں پنجاب آرٹ کونسل بنی تو اس میں انہیں ڈیپورٹیشن پرڈپٹی ڈائریکٹرڈرامیٹک بنا کربھیجا گیا، وہاں انہوں نے چارسال کام کیا پھرواپس ایجوکیشن میں چلے گئے۔ 1997ء میں ڈائریکٹرجنرل اردوسائنس بورڈ بن گئے، وہاں تین سال کام کیا۔ اب ڈیڑھ سال سے پراجیکٹ ڈائیریکٹرچلڈرن لائبریری کمپلیکس کےطورپرکام کررہے ہوں۔

Page:  | 2 | 3 | 4

Comments

comments