ذہنی قوت بہت اہم ہے انسان جو سوچے وہی ہوتا ہے ڈاکڑ عالیہ آفتاب

خوبصورت شخصیت کی حامل ڈاکٹر عالیہ آفتاب امریکہ سے نفسیات میں پی ایچ ڈی کر کے آئی ہیں۔ کنیئرڈ کالج کے زمانے ہی سے ان کی زیادہ دلچسپی نفسیات میں تھی، ایم ایس سی گورنمنٹ کالج سے کی۔ سائیکوتھراپی میں ان کی دلچسپی کا خصوصی آغاز ایک واقعہ سے ہوا،ان کی ایک قریبی سہیلی اتنی بیمار ہو گئی کہ چلنا پھرنا بھی ممکن نہ رہا ۔ وہ اس کی مدد کرنا چاہتی تھیں، انہوں نے اسے کچھ سا ئیکا لوجیکل کونسلنگ دی اور کہا مجھے یہ لگتا ہے کہ تمھیں اینگزائیٹی ہے اورکسی چیز کے ذہنی دبائو کی وجہ سے تمہارا جسم متاثر ہو رہا ہے۔ وہ چیک اپ کروانے گئی تو سائیکوسومیٹک مسئلہ سامنے آیا یعنی ایسی جسمانی بیماری جس کی وجہ اینگزائٹی تھی۔ وہ عالیہ آفتاب کے پاس آئی اور کہا تم نے بالکل صحیح کہا تھا، اب مجھے بتائو میں کیا کروں؟ اگرچہ اس وقت ان کے پاس اتنی زیادہ پروفیشنل کوالیفکیشن نہیں تھی اس کے باوجود ان کی مدد سے وہ لڑکی کافی حد تک بہتر ہوگئی،اس سے انہیں یہ پتا چلا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو نفسیاتی مسائل اورعلاج کی اہمیت کا شعور نہیں۔ انہوں نے سوچا کہ انہیں اسی شعبے میںآنا چاہئے ۔ اس کے بعد انہوں نے امریکہ سے نفسیاتی علاج میں جدید کورسز کیے۔ماہنامہ شوگر نے اپنے قارئین کے استفادہ کے لیے ڈ اکٹر عالیہ آفتاب سے انٹرویو کیا۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

پاکستان میں نفسیات کی پریکٹس کرتے ہوئے آپ کوکن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ ’’ زیادہ تر لوگ میڈیسن پر انحصار کرتے ہیں ۔ مریض آتے ہی کہہ دیتے ہیں کہ پلیز ہمیں کوئی دوائی بتا دیں تاکہ جلدی ریلیف مل جائے۔ سائیکالوجسٹ بھی کافی پرانے طریقوں پر چل رہے ہیں۔ہمیں جدید نفسیاتی طریقوں کی مدد سے رویوں کی تبدیلی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہم لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کریں تو کافی حد تک تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہمارے ہاں خواتین بالخصوص ا بھی تک سائیکو تھراپی سے اجتناب برتتی ہیں ۔‘‘ آپ تھراپی کی بات کرتی ہیں، ہمارے ہاں تو ابھی تک اچھی خاصی پڑھی لکھی خواتین بھی تعویز لینا پسند کرتی ہیں؟ ’’آپ نے صحیح کہا میرے پاس اس طرح کے کئی لوگ آتے ہیں۔ ایک لڑکی اندرون شہر سے آرہی ہے ‘ اس کی عمر بیس سال ہے۔ اسے خیالی دنیا میں رہنے کا مسئلہ ہے ،اس کے ماں باپ اتنے پڑھے لکھے نہیں ، وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس پر کوئی تعویز دھاگا ہوا ہے۔ مجھ سے پوچھتے ہیںکہ ا س پر کسی چیز کا اثریا جادو تو نہیں ہے؟ ابھی تک بہت سے لوگوں کا اس طرف رجحان ہے، اصل میں نفسیاتی علاج میںاعتقاد کی بہت اہمیت ہے چنانچہ ہمارے معاشرے میں اسی چیز کے حوالے سے استحصال کیا جاتا ہے۔’’اسے ختم کیسے کیا جاسکتاہے ؟‘‘ حکومت نے صحت سے متعلق قوانین تو بنادیئے ہیں لیکن ان کا صحیح اطلاق نہیں کیا گیا۔قوانین کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی کے پروگرام ہونے چاہئیںجن سے لوگوں کو پتا چلے کہ نفسیاتی مسائل کا حل تعویز دھاگوں میں نہیں۔ اس سے کافی زیادہ فرق پڑے گا۔ ہمارے ہاں خصوصاً عورتوں کا میڈیا سے زیادہ تعلق نہیں بن پاتا ،میں نے دیکھا ہے اخبار پڑھنے اور اس مسئلے پرگفتگو کرنے سے لڑکیوں میں ایک آگاہی پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے اندر کی خود ساختہ دنیا سے نکل آتی ہیں۔ گھر والوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں لڑکی کی ذمہ داری صرف چار دیواری میں گھر کا کام کرنا ہی نہیں بلکہ اس کا لوگوں کے ساتھ میل جول بھی ضروری ہے، اس سے کافی فرق پڑتا ہے۔‘‘ آپ سے مشورے کے لیے عورتیں زیادہ تر کس طبقے سے آتی ہیں؟ ’’زیادہ تر متوسط طبقے سے آتی ہیں۔ لوئر مڈل کلاس سے اتنے کیس نہیں آتے ،وہ زیادہ تر تعویذ دھاگوں پر یقین رکھتے ہیں ۔‘‘ ایک تو اعلمی ہے لیکن لوگوں کی کچھ معاشی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں ؟’’ لوگ دکھاوے کے کاموںکیلئے پیسے کہیں نہ کہیں سے نکال لیتے ہیں، اگر ان میں یہ رجحان پیدا کریں کہ آپ کی صحت بہت اہم ہے، اگر آپ کپڑوں کے دو جوڑے کم بنالیں اور وہی پیسے اپنی دوا پر لگالیں تو ان کیلئے کتنا بہتر ہوگا۔‘‘ ہمارے ہاں سائیکالوجسٹ کا وہ مقام نظر نہیں آتا جو ایک پروفیشنل کے طور پر ہونا چاہئیے۔؟ ’’ہمارے ہاں کونسلنگ کو لیبل کردیا گیا ہے ۔ لوگ سائیکالوجسٹ کے بارے میںکہہ دیتے ہیں کہ ان کا تو اپنا ہی دماغ کھسکا ہوا ہے، یہ کسی کو کیا ٹھیک کریں گے۔ ہمارے ہاں بچپن سے یہ چیز کہہ دی جاتی ہے کہ ڈاکٹروں کے پاس تب جانا ہے جب آپ پاگل ہوجائیں۔ پڑھے لکھے کنبوں کو بھی سمجھانا پڑتا ہے‘‘۔ آپ کی ٹریننگ امریکہ میںہوئی آپ اپنے ملک اوروہاں نفسیات کی تعلیم کے حوالے سے کیا فرق دیکھتی ہیں؟ ’’یہاں پر ٹیکسٹ پر بہت زور دیتے ہیں جبکہ وہاں پر یکٹیکل اور ریسرچ پر زور دیا جاتا ہے ۔ امریکہ میں میری بارہ گھنٹے کی کلاس ہوتی تھی اور اس میں ہم ایک یا دوگھنٹے کتاب کھولتے تھے۔ ہم زیادہ سے زیادہ پریکٹیکل کرتے تھے ۔ میںکہتی ہوں ٹیکسٹ آپ گھر پر جاکر پڑھیں لیکن جو پریکٹیکل پریکٹس آپ میرے ساتھ کرسکتے ہیںوہ کہیں پر نہیں کرسکتے ۔اسی مقصد کے پیشِ نظر میں نے ایک کتاب لکھی ہے ۔میں نے اس میں مختلف ٹیکنیکس بھی بتائی ہیں ،ان میں یوگا، مددگار ورزشیں، مراقبہ اور این ایل پی بھی ہے۔‘‘ آپکی سپیشلائزیشن کس نفسیاتی طریقہ علاج میں ہے؟ ’’میری سپیشلائزیشن کلینکل ہپنو تھراپی اور این ایل پی میں ہے ۔ سب کچھ ہمارا لاشعوری ذہن ہی کرتا ہے۔ہماری زندگی کے تجربات اس میں سٹور ہوتے ہیں۔ این ایل پی اور ہپناسس پروگرام کی مختلف تیکنیکوں کے ذریعے ہمارے نفسیاتی مسائل حل کرتے ہیں۔بعض اوقات ہم فرد کے ماضی کی گہرائی اوربچپن میںچیزیں ڈھونڈتے ہیں، علاج کے یہ طریقے اب بہت ترقی کر چکے ہیں۔‘‘

Page:  | 2

Comments

comments