ڈاکٹرعبدالسلام نے 1971ء میں فیض احمدمیڈیکل کالج میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر جوائن کیا تھااس کے بعد73ء میں میرا ٹرانسفر میڈیکل کالج میں ہو گیا وہاں میں73ء سے 2000ء تک وہاں رہا اس میں 76ء میں اسسٹنٹ ہو گیا ،79ء میں پروفیسر ہو گیا اور2000ء میں ریٹائرڈ ہو کر لاہور میڈیکل کالج میں ہوں یہ میرا نٹروڈکشن ہے، یہ میری کوالیفیکیشن ہے ، ایم ڈی میڈیسن پی ایچ ڈی اور بی ایس سی، پی ایچ ڈی میں میرا گولڈ میڈل ہے۔

شوگر:میڈیکل کے نصاب کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پڑتی ہے یا یہ اپ ڈیٹیڈ ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:یہ ایسا نصاب ہے جس میں ریسر ہو رہی ہے اور مختلف چیزیں آتی رہتی ہے اور میرا خیال ہے کہ میڈیکل سائنسز کے اندر زیادہ تر اسی سبزیکٹ کو ترجیح دی جاتی ہے اس لیے اس کو اپ ڈیٹ کرنا چاہیئے۔ اب میرا خیال ہے کہ پاکستان میں لوگوں کے اندر ایئرنس آئی ہے ، اب کورسز کو رینیو کر رہے ہیں کیونکہ پنجاب یونیورسٹی ایک نان میڈیکل انسٹیٹوشن تھی اس پر بہت بوجھ ہیں اور وہ سوچ ہی نہیں سکتی تھی کہ اس کے کیا کورسز ہونے چاہیئے ۔آج سے بنا تھا لوگوں نے اس کی بڑی مخالفت کی انہوں نے اسے بنایا اور اب وہاں سے جو ایف سی پی ایس کر کے نکلے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو ریلائز کر لیا ہے کہ وہ ایک صحیح ادارہ ہے۔ پاکستان سے جو ایف سی پی ایس باہر امریکہ کرنے جاتے تھے ان کا بہت خرچہ آتا تھا ۔ ہمارے جو ڈاکٹر ایف سی پی ایس کرتے ہیں انہیں پانچ چھے کیسے آپریشن کے لیے ملتے ہیں کیونکہ وہاں تو لائف اتنی ٹھیک نہیں ہے، یہاں پر ایف سی پی ایس پارٹ ون میں وہ ڈریکٹ آپریشن کر لیتے ہیں، کوئی پارٹ ٹو میں کرتے ہیں ۔ سرجری وغیرہ ہمارے ایف سی پی ایس زیادہ افیشنٹ ہوتے ہیں اور میڈیکل سائیڈ پر بھی ایسا ہی ہے ۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

شوگر:کارڈیک کی سرجری کرتے ہوئے خاص کر ذیابیطس افراد کی کون سی احتیاط کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:آپریشن سے پہلے تو آپ ذیابیطس کے مریض کاالیکٹروائیڈ اور ہیموگلوبن اے ون سی وغیرہ چیک کریں اس کے بعد پھر آپ اس کا آپریشن کروا دیں ۔شوگر کنٹرول ہونا لازمی ہے اس کے بغیر آپریشن نہیں کرنا چاہیئے۔

شوگر:سرجری کے ڈاکٹر ان چیزوں کا خیال رکھتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:جی ہاں کیوں نہیں رکھتے ہیں رکھتے ہیں یہ ذیابیطس افراد کے لیے نہیں سب کے لیے ضروری ہے ، جو سمجھ دار مریض ہوتے ہیں وہ بتا دیتے ہیں کہ مجھے ذیابیطس ہے اور پھر ڈاکٹر احتیاط کے طور پر اس کی شوگر چیک کرواتا ہے کہ کنٹرول ہے یا کہ نہیں ہے۔

شوگر:پاکستان میں انٹرنیشنل لیول پر سرجری کیسی ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:پاکستان میں انٹر نیشنل لیول پر سرجری بہت اچھی ہے ، ہمارے جو ڈاکٹر سرجری کر رہے ہیں وہ بہت اچھے ہیں ، بڑے بڑے اچھے سرجن ہیں ۔ کارڈیک سرجری میں خالد حمید ہیں ، ہاشمی صاحب تو شاید باہر چلے گئے ہیں اور بھی ڈاکٹر ہیں خالد حمید ہے ڈاکٹر یحییٰ ہیں وہ بھی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر کی مہارت اسی سے گنی جائے گی آپ دیکھیں کہ جو وہ سرجری کر رہے ہیں ان کی پرسنٹیج کتنی ہے کہ اتنے آپریشن کیے اور ان کا سروائیول ریٹ کیا ہے اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

شوگر:کارڈیک سرجری میں لوگوں پاکستان سے انڈیاجاتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میرا خیال ہے کہ بچوں کی کارڈیک سرجری میں ہمارے ہاں اتنی سہولت نہیں ہے اس لیے جاتے ہیں،کچھ عرصے کے بعد اس سائیڈ کے بھی ڈاکٹر ہیں وہ بھی آ جائیں گے۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8

Comments

comments