شوگر:اپنے سبزیکٹ کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:ہمارے تو پریسکرائس کورسز ہیں جو کہ ہمیں کرانے ہوتے ہیں یا ختم کرنے ہوتے ہیں اور ٹیسٹ وغیرہ لیتے ہیں ان کو تیار کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میں نے 15-14ڈاکٹروں کو ایم فل کرایا ہے ،2کو میں نے پی ایچ ڈی کرایا ہے ، میری کلینیکل ریسرچ ہے ۔یہ انڈیکشن نہیں ہے یہ میری ملک کے لیے خدمت ہے ۔

شوگر:کارڈیک سرجری کے حوالے سے ہمارے ملک کے اندر ریسرچ ہو رہی ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:امریکہ اور انگلینڈ جیسے ملکوں میں زیادہ تر ریسرچ پر زور دیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں جو سرجن ہیں وہ زیادہ وقت نہیں دیتے ہیں ۔ ان کو بھی ریسرچ کرنی چاہیئے لیکن جو بنیادی سائیڈ کے لوگ ہیں جیسے کہ ہم لوگ ہیں، جو فیسلٹیز موجود ہیں ان پر ہم ریسرچ کرتے ہیں۔


شوگر:ریسرچ کے لیے کیا سہولیات ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:ہمارے ملک میں ابھی ریسرچ کی کوئی زیادہ سہولیات نہیں ہیں ، کوئی بھی انسٹیٹیوٹ ریسرچ کے لیے مکمل نہیں ہے۔ میڈیکل پروفیشن میں تو میرا خیال ہے کہ کوئی مکمل نہیں ہے ۔

شوگر:ریسرچ کے حوالے میں مستقبل میں کیا ہونا چاہیئے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:مستقبل کے لیے یہ ہے کہ حکومت ہمیں ریسرچ کرنے پر مدعو کرے، ہمیں اس کے لیے سہولیات دے۔سب سے بڑی چیز سائنسی لٹریچر ہے جو کہ موجود نہیں ہے ، ہمارے پاس اس کے لیے لائیبریاں ہونی چاہیئے ، ہمیں جو انسٹومنٹ چاہیئے وہ موجود ہوں۔ہمارے پاس نیٹ موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھی ہمیں سائنسی لٹریچر کی ضرورت ہے۔نجی اداروں کو بھی اس میں حصہ لینا چاہیئے اور جو قوم کے اچھے حیثیت والے لوگ ہیں ان کو چاہیئے کہ اس کام میں مدد کریں۔ ایک انڈکس میڈیکل نکلتا ہے جو کہ سال میں دو دفعہ نکلتا ہے اس میں ساری دنیا کی ریسرچ کے ریفرنس دیئے ہوتے ہیں ۔کم از کم ہمارے ہاں وہ انڈکس میڈیکل ضرور ہونا چاہیئے ۔ پہلے کچھ عرصہ کے لیے اسٹارٹ کیا تھا اب پھر نہیں ہے ریگولر ہونا چاہیئے ۔

شوگر:کارڈیک کے حوالے سے ہمارے ہاں اعلیٰ ڈگری کون سی ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:سرجری کے لیے تو ایف آر ایس سی ہوتا ہے ، پاکستان کا ایف سی پی ایس ہے اورکارڈیک سرجری میں امریکن بورڈ ہوتا ہے یہ بڑی ڈگریاں ہیں۔یہ ڈگریاں ہو گئی لیکن یہ کام سلک پر ہو گا ۔ سلک بڑھانے کے لیے تجربہ ضروری ہے ، باہر امریکہ جائیں تو وہاں دیکھیں کہ کارڈیک سرجری کتنی ایڈوانس جا رہی ہے ا سکے مطابق پریکٹس کرے ۔

شوگر:پاکستان کی کارڈیک سرجری اور باہر کی کارڈیک سرجری میں کیا فرق ہے کہ لوگ زیادہ تر باہر کی سرجری کو ترجیح دیتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:باہر کی سرجری کو اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ وہاں لیٹس فیسلٹیز موجود ہیں اور کوئی ایسی بات نہیں ہے، باقی ہمارے جو سرجن ہیں وہ سب کچھ کر سکتے ہیں ، ان سے بھی اچھا آپریشن کر سکتے ہیں لیکن وہاں لیٹس فیسلٹیز ہیں، وہاں انسٹومیٹ بھی انپرو ہوتے رہتے ہیں ۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8