شوگر:یہاں جو سہولیات موجود ہیں کیا انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:جی ہاں انہیں اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے ، دیکھیں سہولیات تو ہیں آپریشن ہو رہے ہیں۔

شوگر:ذیابیطس افراد کی سرجری کے لیے کوئی سپیشل سرجن ہونا چاہیئے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:یہی سرجن کام کریں گے ذیابیطس افراد عام آدمی سے مختلف نہیں ہوتا ہے اس میں صرف شوگر کا چکر ہوتا ہے۔ اس لیے کورسز ہونے چاہیئے باہر امریکہ انگلینڈ میں کورسز اٹینڈ کریں ۔

شوگر:ڈاکٹر صاحب آپ کی جو سپیشلائیزیشن ہے جس پر آپ کورسز بھی کرا رہے ہیں اس حوالے سے کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:دیکھیں انہیں اپنرو کرتے ہیں کہ یہ بیماری ہے اس میں کیا کیا لیول بڑھ گئے ہیں اور کیوں بڑھ گئے ہیں ۔ پاکستان میں زیادہ تر تو یہی کام ہوتا ہے کہ ایک سنپل آ گیا اس کو آپ نے ریلائز کرنا ہے باقی اسسٹنٹ کا کام ہے کہ اس کو انٹرٹریکٹ کرے ۔
یہ سب سے بڑا نقصان ہے کہ ہر لیبارٹریز اور ہسپتال میں کوالیفائیڈ لوگ نہیں ہیں لیکن جہاں پر میں کام کرتا ہوں وہاں پر سارے کوالیفائیڈ لوگ ہیں لیکن آپ کو یہاں96 %لیبارٹریاں ایسی ملیں گی جہاں نان کوالیفائیڈ لوگ کام کر رہے ہیں ۔

شوگر:مالیکیول بیسس اور لیول ڈیزیز کے جو آپ دیکھتے ہیں اس میں ہر قسم کی ڈیزیز آ جاتی ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:نہیں! ہر ڈیزیز کے سپیشل ٹیسٹ ہوتے ہیں جو چیزیں بڑھتی یا کم ہوتی ہیں ان کے سپیشل ٹیسٹ ہوتے ہیں ۔ جیسے آپ ذیابیطس کو ہی لے لیں اس میں ہم شوگر دیکھیں گے کہ لیول کیا ہیں اس کے علاوہ انسولین کے لیول دیکھیں گے اور کیٹونز باڈیز دیکھ سکتے ہیں ، کولیسٹرول دیکھ سکتے ہیں اس کی پروفائل سٹڈی کریں ٹوٹل فیٹس کتنے ہیں اس میں یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔ ذیابیطس افراد کے کڈنی کے لیے ڈائیلاسز ہوتا ہے البتہ جو یہ گینگروز ہوتے ہیں ان کو تو کاٹنا ہی پڑتا ہے کیونکہ ڈایابیٹیز نیوروپیتھی کے اندر جو انگلیاں نیلی ہو جاتی ہے یا تو ڈاکٹر اسے کنٹرول کریں ،شوگر کنٹرول رکھیں یہاں میں آپ کو ایک دوائی بتاتا ہوں جو کہ میں نے لیٹس پڑھی ہے ’’لے کیوئیپیسٹ‘‘یہ ڈایابیٹیز نیوروپیتھی جس میں سائینسز ہوتا ہے انگلیاں ڈیمج ہو جاتی ہے ۔ اب ان بچوں کی چھوڑ دیں جو کہ انڈیا جا رہے ہیں آپ انسٹیٹیوٹ میں جا کر بڑوں کی دیکھیں کہ کتنے وہاں روزانہ آپریشن ہوتے ہیں اور کتنے وہاں زندہ رہتے ہیں ا ور کتنے مرتے ہیں وہ آپ کو بتا دیں گے کہ گو کہ ہماری سرجری بڑی افیشنٹ ہے ۔

شوگر:آپ کے سبزیکٹ میں اس وقت کتنے لوگ ہیں جو کہ ہائی لیول پر پہنچ چکے ہیں اور پاکستان میں اس کا کیا سٹیٹس ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:دیکھیں جی ایک ڈاکٹر سعید صاحب ہیں پنجاب میڈیکل کالج سے پی ایچ ڈی ہیں ایم بی بی ایس کیا ہوا ہے ۔ یہاں ڈاکٹر ضمیر صاحب ہیں جنہوں نے ایم بی بی ایس ایم فل پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے ۔ باقی میرا خیال ہے تھوڑے ہی دو تین لوگ ہیں ۔ویسے بائیو کیمسٹری میں بہت لوگ آپ کو ملیں گے لیکن میں آپ کو بتاؤں کہ بائیو کیمسٹری کی کئی برانچیز ہیں ٹیکسٹا ڈائیگنوسز، گڈ بائے کیمسٹری اور فارماسیوٹیکل ڈائیگنوسز یہ ہومن ڈائیگنوسز ہیں ، اس میں ڈاکٹر سعید صاحب، ڈاکٹر ضمیر صاحب اور میں خود ہوں ۔میں سمجھتا ہوں کہ بائیو کیمسٹری میں مزید نکھار آنا چاہیئے ۔ ہمارے ملک میں بائیو کیمسٹری اتنی ایڈوانس نہیں ہے ۔ امریکہ انگلینڈ چلے جائیں وہاں مریض ہسپتال کے اندر داخل ہوتا ہے تو اس کی تمام بائیوکیمسٹری چیک کی جاتی ہے بلڈ ، یورین سب چیک کیے جاتے ہیں ، جب وہ کنسلٹیشن کے لیے جاتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس ساری رپورٹ پڑی ہوتی ہے اسکو دیکھ کر اس نے ٹریٹمنٹ کو پریسکرائس کرنا ہوتا ہے لیکن ہماری بائیو کیمسٹری اتنی ایڈوانس نہیں ہے ہم ان سے کافی پیچھے ہیں اور سب سے لیٹس میڈیکل سائنس میں بائیو کیمسٹری ہے جو میری کی ہسٹری بتاتی ہے۔ آپ ڈایابیٹیز ملائٹس میں فزیالوجی ، اناٹومی میڈیسن تو ایکسپلائن نہیں کر سکتے ہیں جب تک کہ آپ باڈی میں دیکھ نہ لیں کہ بیٹا سیلز انسولین بنا رہے ہیں یا کہ نہیں بنا رہے ہیں، انسولین کی موجودگی میں گلوکوز مالیکیول وہ کس طرح سیل میں انٹر ہوتا ہے ، اس کی انٹری کو انسولین کی آسان کرتی ہے ، اندر جاتا ہے تو میٹابولائز ہوتا ہے۔ یہاں میں ملک میں بائیو کیمسٹری میں یہ سہولیات اتنی ایڈوانس نہیں ہیں لیکن ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ سب ہو جائے۔

شوگر:پاکستان میں کب سے بائیو کیمسٹر ی پر کام ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام: پاکستان میں یہ کام80ء سے شروع ہوا ہے ، پہلے یہ پیپر کمبائن تھا یہ فزیالوجی کا پارٹ ہوا کرتا تھا ۔ 80ء میں ہم نے اس کو علیحدہ کروایا اب یہ علیحدہ پڑھائی جاتی ہے اور یہ ایک مکمل سبزیکٹ ہے ۔ پہلے جو ہمارے سٹوڈنٹ امریکہ جایا کرتے تھے یا انگلینڈ جایا کرتے تھے ان کے امتحانات میں75 %ہوا کرتے تھے ، اس لیے اس کی انپورٹنٹ محسوس کی اور اس کرنا پڑا اور ماشاء اللہ اچھے ڈاکٹر کو بائیو کیمسٹری آتی ہے ۔اب یہ اکثر میڈیکل کالج میں سبزیکٹ پڑھایا جاتا ہے ۔80ء سے لے کر یہ پڑھایا جا رہا ہے اور اس میں پوری فیسلٹیز ہیں ۔اس میں انٹر ہونے کے لیے ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو ایم فل ہونا ضروری ہے ۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8