شوگر:بائیو کیمسٹری کے حوالے سے ہماری لیبارٹریوں کی رپورٹیں کتنی قابلِ اعتبار ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میں تو یہی کہوں گا کہ جہاں پر سبزیکٹ سپیشلسٹ کام کر رہے ہیں ان کی ریلائیبل ہیں، بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ جو کیٹس سپلائی ہوتی ہیں کہیں وہ اوور ڈیٹ یا ان کی ساخت میں کوئی خرابی نہ آگئی ہو اور وہ صحیح ٹیسٹ نہ دے ۔ ویسے جہاں پر سبزیکٹ سپیشلائز کام کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہیں ۔ ایک ہی سنپل دو لیبارٹریوں سے چیک کرنے والے سے جو مختلف رپورٹ آتی ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مختلف کٹیں اویلیبل ہیں وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں کوئی کیسی کوئی کیسی ہے ۔اگر یہ دیکھنا ہو کہ رزلٹ صحیح ہے یا نہیں تو تین لیبارٹریوں سے چیک کروائیں اور دو کا جو صحیح ہو وہ ٹھیک ہے 15-10کا آگے پیچھے فرق ہے تو سمجھیں کہ وہ فائنل ہے لیکن اگر کہیں کراس میس ٹیک ہے کہ کسی کو شوگر ہے اور وہ نارمل بتا رہا ہے تو وہ ہلاکت ہے ۔ اس لیے لوگوں کو چاہیئے کہ وہ اچھی لیبارٹریز سے ٹیسٹ کروائیں ۔
شوگر:میڈیسن میں ایم ڈی آپ نے کہاں سے کیا تھا؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میڈیسن میں ایم ڈی میں نے امریکہ سے کیا تھا۔ جو بنیادی طور پر بائیوکیمسٹ ہو وہ سرجن بنے یا میڈیسن سپیشلسٹ بنے تو وہ بہت اچھا سپیشلسٹ ہے ۔ہم بائیو کیمیکل میٹرن کو ہی ہم نے ڈیل کرنا ہے سرجن اپنے طور سے اسے ڈیل کرے گا فزیشن اپنے طریقے سے کرے گا لیکن یہ سب بائیو کیمسٹری ہی ہیں ۔جس بیماری کا ڈائیگنوسز ہی نہیں ہو گا اس کا آپ کیا علاج کریں گے تو اس کے لیے تشخیص مقدم ہے اوربائیو کیمسٹری اس کے لیے بہت مدد گار ہے۔

شوگر:ایڈز یا اس جیسی سیئریس بیماریوں کی تشخیص کے لیے کوئی لیٹس ٹیکنالوجی آ رہی ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:ایک ٹیسٹ ہے جو کہ کرتے ہیں لیکن یہ وائیرل ڈیزیز ہے اور اس میں ہم سب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ ایچ آئی وی کا مریض ہے ۔

شوگر:پاکستان میں بائیو کیمسٹری کے حوالے سے بتائیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:بائیو کیمسٹری ابھی چائلڈ ہولڈ کے اندر ہے اور یہ اس چیز پر انحصار کرے گا کہ جتنا ہمارا ملک ماڈرن ہوتا
جائے گا یہ سبزیکٹ بھی ایڈوانس ہوتا جائے گا ۔اس میں ٹیکنالوجی بڑی انوالپ ہوتی ہے،انسٹومنٹ انوالپ ہوتے ہیں ، ہر ٹیسٹ کے لیے نئی چیز ہوتی ہے ۔

شوگر:لیبارٹریوں کے انچارج ڈاکٹر ہونے چاہیئے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:وہی لوگ ہونے چاہئیں جو ہومن باڈی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اب بائیو کیمسٹری پنجاب یونیورسٹی میں بھی ہے وہاں بھی ایک پروفیسر بائیو کیمسٹری ہے لیکن ان کو کیا پتا کہ ڈائیگنوسز کیا ہوتی ہیں ، انہوں نے پیرو بائیو کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔بائیو کیمسٹری ہومن باڈی سبسٹنٹ کی سٹڈی ہے ، اس میں پروٹین، کاربوہائیڈریٹ ، پانی ، منرلزہے، جیسے کہ ہندوں جلاتے ہیں توپیچھے کیا بچتا ہے ، راکھ بچتی ہے ، راکھ کیا ہوتی ہے؟وہ آرگینک میٹر کہاں ہے جس میں سوڈیم پوٹاشیم اور دھاتیں اوردوسری چیزیں بھی ہیں لیکن آرگینک میٹرل اس میں سے ختم ہو جاتا ہے نان آرگینک رہ جاتا ہے، آرگینک پانی ہوتا ہے، چربی ہوتی ہے ، پروٹینز ہو گئی ، کاربوہائیڈریٹس ہو گئے یہ سارے آرگینک میٹر ہیں اور جو نان آرگینک ہیں وہ راکھ کے اندر رہ جاتے ہیں ۔

شوگر:ڈاکٹر صاحب آپ فارغ وقت میں کیا کرنا پسند کرتے ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میں تھوڑی ایکسرسائز کرتا ہوں ، ریسٹ کرتا ہوں اور پڑھتا ہوں کیونکہ پڑھنے کے بغیر گزارا نہیں ہوتا ہے ۔ ایک کالج میں بائیو کیمسٹری کا ٹیچر ہوں ، بائیو کیمسٹری کا ایک اوڈینیری سٹوڈنٹ ہوں مجھے بائیو کیمسٹری نہیں آتی ہے میں اسے پڑھتا ہوں اسے سیکھتا ہوں اور میں مرتے دم تک اس سبزیکٹ کو سیکھتا رہوں گا ۔ یہ بہت بڑا سبزیکٹ ہے یہ ایک سمندر ہے۔ یہی سبزیکٹ جو کہ علاج بھی بتائے گا اور بیماری بھی بتائے گا کہ بیماری کس طرح بنی ہے ۔

شوگر:پاکستان میں جینز کے حوالے سے بھی لیبارٹریز میں کام ہو رہا ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:جی نہیں ابھی ایسا پاکستان میں نہیں ہو رہا ہے ،ہم سائٹس اصل میں بے ایمان ہیں اللہ نے ہمیں اتنی تعلیم دی ہے اس کو بڑی فیسیلٹریز ہیں ، بڑے انسٹومنٹ ہیں، وہاں کا جو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ ہے اسے چاہیئے کہ نئی چیزیں دے، کلوننگ کرے اور دوسری چیزیں کرے لیکن ایسا کام نہیں ہو رہا ہے۔ گورنمنٹ نے پوری فیسلٹیز پرووائیڈ کی ہیں، وہاں ہر چیز موجود ہے لیکن پھر بھی کام نہیں ہو رہا ہے۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8