شوگر:پراسٹر لینڈم کے بارے میں بتائیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:پراسٹرلیڈ م کے بارے میں یہ ہے کہ کتنی ہی قسم کے پراسٹر لینڈم ہوتے ہیں، بلڈ پریشر کو لو کرتا ہے ، کنٹرکشن ہوگئی ہے، کنٹرائن ہے۔

شوگر: نارملی یہ دیکھا گیا ہے کہ ہیومن باڈی کی بائیو کیمسٹری تبدیل ہوتی ہے تو اس کی کازز ایکسٹرنل ہوتی ہیں ، انٹرنل تبدیلی کے لیے ایکسٹرنل کازز ہوتی ہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام: دیکھیں میں آپ کو تبدیل کر کے بتاتا ہوں۔ آپ ایک انسان کو میٹھا کھلائیں بہت زیادہ اور میٹھا کھانے سے پہلے اس کی شوگر بھی نارمل ہے۔ کچھ عرصے کے بعد سال یا چھ ماہ بعد اس کو شوگر ہو جائے گی۔

شوگر: ہمارے ڈاکٹر کہتے ہیں کہ زیادہ میٹھا کھانے سے شوگر نہیں ہوتی؟

ڈاکٹر عبدالسلام:زیادہ میٹھا کھانے سے ہی شوگر ہوتی ہے۔ ا س کو میں سادہ الفاظ میں بیان کرتا ہوں۔ دیکھیں انسولین جو نکل رہی ہے ، آپ شوگر زیادہ کھاتے ہیں ، اس میں تو ایک ہی مقدار نکلنی ہے۔

شوگر:بیٹاسیلز کی مقدار تو بہت زیادہ ہوتی ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:بیٹا سیلز انسولین بھی تو تیار کر رہے ہیں۔

شوگر:انسولین تو غیر محدود ہوتی ہے اور خودکار سسٹم ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:غیر محدود نہیں ہوتی ، خودکار سسٹم ضرور ہے۔ خودکار سسٹم یہ ہے کہ جب انسولین نکلتی ہے تب گلوکوز لیول بڑھتا ہے ، آپ یہ نہ کہیں کہ وہ بہت سارے نکل آئے ہیں ، ایک من شوگر کھالیں اور اس کے ایک من کے لیے انسولین بڑھا دیں۔ لوگ 5,5یا 6,6کلو میٹھا کھا جاتے ہیں تو بیٹا سیلز انسولین نکال نکال کر پاگل ہو جائیں گے، جب ایگزاسٹ ہو جاتے ہیں تو انسولین نہیں بنتی تو شوگر ہو جاتی ہے۔ سمجھ آئی بات کی۔ میری نظر میں ہر بندے کو شوگر ہو سکتی ہے ، آپ مانیں یا نہ مانیں۔ یعنی بیٹا سیلز کے ایگزاسٹ ہونے سے ہی بیماری شروع ہوتی ہے۔

شوگر:وہ ڈاکٹر جو بائیو کیموسٹری میں پریکٹس کر رہے ہیں ان کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:ڈاکٹری میں داخلہ لینا بہت مشکل ہے۔ جو لوگ ڈاکٹری میں آتے ہیں، داخلہ لیتے ہیں، ایم بی بی ایس کرتے ہیں وہ اتنی محنت کرتے ہیں کہ ڈاکٹر بنیں اور اسی جذبے سے وہ محنت کرتے ہیں کہ ہم ڈاکٹر بنیں اور جب وہ ڈاکٹر بنتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ایک اچھے ڈاکٹر بنیں ، یہ سوچ اچھی ہے۔ ہر ڈاکٹر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اچھا ڈاکٹر بنے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فوزویشن بھی کرلیں۔ جس کو کرنی ہوتی ہے وہ کرنے چلا جاتاہے اور یہاں پاکستان میں وہ کروایا بھی جا رہا ہے۔ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر وہی آتے ہیں جو ڈیزائر ہوتے ہیں اور دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہمیں ڈاکٹر بننا ہے اور اچھے سے اچھا ڈاکٹر بننا ہے۔ اس کے بعد پھر اینٹی ٹیسٹ ہے وہاں پھر بھی میرٹ ہے تو اتنے بیریئر کراس کر کے ڈاکٹر آتا ہے ۔

شوگر:ماہنامہ شوگر آپ نے پڑھا پڑا ہے، اس کے علاوہ دوسرا لٹریچر بھی ہے جس کا مقصد لوگوں کو ذیابیطس کے بارے میں اویئرنیس دینا ہے تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ پارٹی سپیٹ کر رہا ہے لوگوں کو اویئرنیس دینے میں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میں سمجھتا ہوں یہ آپ کے ادارے کی بڑی اچھی کنٹری بیوشن ہے کہ لوگوں کو اویئرنیس دینا۔ اس میں ذیابیطس پر دنیا میں جو جو اچھے کام ہو رہے ہیں اس کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں ، جیسے گلوکومیٹر ،گلوکوواچ اور اب گلوکوانہیلر بھی آ رہا ہے، انجکشن پمپ بھی آ رہا ہے۔ یہ سارے چیزیں پاکستانی لوگوں کو آپ کا ادارہ دے رہا ہے۔ ایک ایسی چیز بھی ایجاد ہوئی ہے جو آپ باڈی میں لگا دیں تو انسولین اپنے آپ ہی انجیکٹ ہوتی رہے گی۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8