شوگر:جی وہی گلوکوزمیٹر اور انسولین پمپ کو ملا کر ایسی چیز بنائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام: یہ تو جناب پینکریاز ہی بیٹا سیلز بن گئے ہیں ، اس کا ہی نعم البدل ہے یہ۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ ان چیزوں کی موجودگی میں ذیابیطس افراد نارمل زندگی گزار سکیں گے۔ بس اب ان کا یہ نظریہ ٹھیک کرنا ہے کہ جی ہم ذیابیطس فرد ہیں ہمارے جسم میں انسولین نہیں بن رہی ان سے کہیں کہ ہم نے جو آپ کو اتنی چیزیں بنا کے دے دیں ہیں اب تو انسولین لگانی پڑتی ہے ناں پھر وہ اپنے آپ ہی آٹومیٹکلی کنٹرول کرے گی۔ جی ہاں سب سے بڑا پرابلم بھی یہ ہے کہ بار بار ٹیکا لگانا پڑتا ہے اس کے لیے اب انہیلر بن رہے ہیں ، انسولین پیچ بن رہے ہیں، پٹی باندھ لیں اور مساموں کے ذریعے خود بخود جسم میں چلی جائے گی۔

شوگر:آپ کے خیال میں شوگر اخبار ہر گھر میں جانا چاہئیے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:جی ہاں ہر گھر میں جانا چاہئیے۔ میرا خیال ہے کہ یہ جو آج کل کی ہماری زندگی ہوگئی ہے ناں بڑی سیرینٹلی لائف ہے، کھانا کھا کر بیٹھے رہتے ہیں بس ایک جگہ جمع ہوتا رہتا ہے۔ ویٹ بڑھ رہا ہے اور ویٹ کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسولین مطابقت نہیں رکھتی اس کے ساتھ ، بیٹا سیلز انسولین بناتی رہتی ہے پھر شوگر کا مسئلہ بن جاتا ہے تو یہ اویئرنیس آنی چاہئیے۔ شوگر اخبار بہت اچھا نالج دیتا ہے۔ اس میں آپ ڈپریشن کے بارے میں بھی بتاتے ہیں ، دوسرے جو سکس کے مریض ہیں ذیابیطس میں بھی ایسا ہو جاتا ہے اس کا بھی آپ نے شروع کیا ہوا ہے ۔ ڈپریشن کا جہاں تک تعلق ہے تو آج کل امیر لوگوں کو بھی ڈپریشن ہے اور جو غریب ہیں وہ بھی اکثر انڈر ٹینشن ہی رہتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا چاہیئے اور جو زندگی گزارنے کا اسلامی طریقہ ہے اس کو اپنانا چاہیئے تو یہ ساری بیماریاں کنٹرول ہو سکتی ہیں، پانچ وقت نماز ادا کرنا یہ ایک ورزش بھی ہے اور دل اور جسم کی بھی ایکسرسائز ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ پیٹ میں خالی جگہ رکھ کر کھائیں اس کا بہت اثر ہوتا ہے یہ کتنا بڑا اصول ہے جو لوگ ایسا کریں گے انہیں کبھی شوگر نہیں ہو گی۔ جب میں نے اس پر تھوڑا سا کام کیا تھا تو میں نے سوچا کہ یہ تو ہر بندے کو شوگر ہو سکتی ہے اس بیماری کے پیدا کرنے میں ٹینشن تو میجر ایفکٹ ہے ، شوگر ہارٹ کی بیماریاں،ہائیپر ٹینشن ، ٹینشن تو کینسر بنا سکتی ہے ۔

شوگر:آپ کی نظر میں اچھا طرزِ زندگی کیا ہے؟

ڈاکٹر عبدالسلام:میری اس سے مراد اسلامی طریقہ زندگی کو اپنائیں نہ اس میں شراب ہو گی، نہ زیادہ کھائیں گے، نشے والی کوئی چیز نہیں ہو گی ، آپ اسلامی طریقے اپنانے پر بھی زور دیں۔ اس میں جو دولت مند ہیں ان کو اپنی دولت کا، لڑائی جھگڑوں کا ، وراثت کا بے شمار ان کو خطرات ہوتے ہیں چوری کا ڈکیٹی کا ان پر بھی کام کریں، اسلامی طریقے سے ان کی ڈویلپمنٹ کریں،ایسا کرنے سے ذیابیطس پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے ،اسی طرح بلڈ پریشر بھی نہیں ہو گا، یہاں تک کہ ٹینشن کینسرہی نہیں بہت ساری بیماریاں پیدا کرتی ہے ، بہت بری چیز ہے، اللہ سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہیئے ،اس سے ہماری بہت سی بیماریاں کم ہو جائیں گی ، اللہ تعالیٰ نے اسلامی معاشرے کو بہت ہیلتھ فل بنایا ہے ۔

شوگر:قوم کے نام کو اچھا سا پیغام اپنے تجربات کی روشنی میں دینا چاہیں؟

ڈاکٹر عبدالسلام:ہم مسلمانوں کو اسلامی طریقہ حیات پر ہی چلنا چاہیئے اس سے ہماری بیماریاں بھی بہت کم ہو جائیں گی اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس پر صبر کرناچاہیئے یعنی دولت کی خواہش دو کروڑ ہے چارکروڑ ہو جائے یہ بھی ٹینشن پیدا کرتی ہے ، غریب لوگ ہیں جو اللہ نے دیا ہے وہ ٹھیک ہے، اچھے خوش اخلاق طریقے سے محنت کرنی چاہیئے، اپنی آمدنی بڑھائیں ، اللہ تعالیٰ پر یقین رکھیں اور محنت کریں ۔ انسان جب دنیا میں اترتا ہے تو اس سے پہلے ہی اس کا رزق بھیج دیا جاتا ہے بعض اوقات انسان خود اسے ٹھوکریں مار دیتا ہے ، محنت نہیں کرتا ہے یا کچھ اور چیزیں آڑے آجاتیں ہیں ۔ میرا تو پیغام یہی ہے کہ اسلامی طریقے سے زندگی گزارنی چاہیئے ، اس سے انشاء اللہ صحت بھی اچھی رہے گی اور معاشرہ بھی اچھا رہے گا۔ جب لوگ شراب پیتے ہیں تو اس سے جگر کا نقصان ہوتا ہے، معدے میں زخم پڑ جاتے ہیں ، سکن پر اثرات ہوتے ہیں اسی لیے اللہ نے پہلے ہی روک دیا کہ آپ اسے نہ پئیں۔ اسی طرح سور کا گوشت کھانے سے سکن سے بدبو آنا شروع ہو جاتی ہے جیسے کہ انگریزوں سے آتی ہے اور سکن کی بیماریاں بہت زیادہ ہو جاتی ہیں اسی لیے اللہ نے یہ ساری چیزیں روک دی ہیں اگر ہم اسلام پرچلیں گے تو بہت سی بیماریوں سے بچ جائیں گے ۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8