ڈاکٹراسراراحمد ٹائپ 2 ذیابیطس فرد ہیں،ماہنامہ شوگر نے ان سے ذیابیطس اور رمضان کے حوالے سے گفتگو کی جوقارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔

شوگر:اکثرلوگوں کوجب ذیابیطس تشخیص ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں’’مجھے ہی کیوں ہوئی؟‘‘اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ڈاکٹراسراراحمد: جیسی دوسری بیماریاں ہیں ویسی ہی ذیابیطس بھی ایک بیماری ہےاوراس میں یقیناً انسان کےاپنےغلط طرزِزندگی کا بھی دخل ہے، باقی کچھ خاندانی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ رزیادہ کھایا جائے،اُس میں رِچ فوڈ ہواورجسمانی سرگرمی اتنی زیادہ نہ ہو کہ کیلوریزاستعمال ہوسکیں تو پھرموٹاپا، بلڈ پریشر‘ذیابیطس،دل کےامراض اوراسی طرح کی دیگرخرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ بس یہ عام سی باتیں مجھےمعلوم ہیں۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

شوگر:ذیابیطس مینجمنٹ میں ذہنی سکون بہت کردارادا کرتا ہے،آج کل کےحالات میں ذہنی سکون کیسےحاصل کریں؟

ڈاکٹراسراراحمد:سٹریس دو نوعیت کا ہوتا ہے۔ایک تواپنےکچھ ذاتی مسائل جیسےمالی مشکلات‘کچھ خاندانی جھگڑے‘بعض لوگوں کےلیےاولاد کےمسائل ہوتے ہیں۔اس کا راستہ توایک ہی ہےکہ انسان اللہ تعالیٰ کےساتھ اپنا تعلق قائم کرے اوراس بات پرایمان پختہ کرےکہ جوکچھ بھی اس دنیا میں ہوتا ہےوہ اللہ کےحُکم سے ہوتا ہے،اس کی مرضی اوراجازت کے بغیرکچھ نہیں ہوتا اوراس میں یقیناً خیرکا کوئی نہ کوئی پہلو ہوتا ہے اگرچہ ہمیں نظر نہیں آتا، ہم کوتاہ نظری سےکام لیتے ہوئے ظاہرکو دیکھتے ہیں۔ اپنےمعاملات اللہ کےحوالےکردیں،سکون اسی سےملےگا۔ دوسری قسم کا سٹریس یہ ہےکہ جوکچھ دنیا میں ہورہا ہے اس کی وجہ سےانسان کو صدمہ ہو،فلسطین میں مسلمانوں کےساتھ کیا کچھ ہورہا ہے؟پھر اگرکسی ذریعےسے یہ بھی اندازہ ہوجائےکہ آئندہ کیا ہونے والا ہے؟حالات کدھرجارہے ہیں؟معرکۂ خیر وشر برپا ہوتانظرآتا ہے،لگتا ہےمسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچنے والا ہےکیونکہ ہم بحیثیت قوم اللہ کےعذاب کے مستحق ہوچکے ہیں کیونکہ ہم نےاس کے ساتھ وعدہ خلافی کی،ہم نے اس نیت سےایک ملک بنایاکہ اس میں اسلام نافذ کریں گے‘لاکھوں جانیں گئیں‘ایک کروڑآدمی اِدھرسےاُدھر بےگھر ہوئےاورہزارہاعورتیں اغواء ہوئیں،کس لیے؟اسلام کےلیے لیکن اسلام ہم نےنافذ نہیں کیا تویہ بہت بڑاجرم ہےجس کی سزا توملنی ہے۔اگر کسی کو ان چیزوں کی وجہ سےصدمہ پہنچتا ہےتو یہ بھی ڈپریشن کی ایک صورت ہے،میں خود بھی ہروقت اس ڈپریشن میں مبتلا رہتا ہوں،اس کا علاج کوئی نہیں ہے۔ اس کے لیے تو حضورصلعم سے بھی قرآنِ مجید میں کہا گیا کہ ’’اے نبیؐ! شاید آپ اپنے آپ کو اس صدمے سے ہلاک کر لیں گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے‘‘ یہ ایسا صدمہ ہے جسے جھیلنا ہی پڑے گا، بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ کر نہیں پاتا، کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا۔

شوگر:آپ جانتے ہیں کہ ٹائپ 1ذیابیطس افراد انسولین پر انحصار کرتے ہیں جس کے بغیر اُن کا گزارا نہیں ہے، یہ لوگ اگر ماہِ رمضان میں انسولین لگائیں تو ہائیپو کا خدشہ ہوتا ہے، اگر نہیں لگاتے تو شوگر کی زیادتی کے باعث غشی کا خطرہ ہوتا ہے، ایسے لوگ رمضان المبارک میں کیا کریں؟

ڈاکٹر اسرار احمد:یہ ان لوگوں میں شمار ہوتے ہیں جن پرروزہ رکھنا فرض نہیں رہتا۔ شریعت میں اس کی گنجائش موجود ہے۔ ایسے لوگ روزہ رکھنے کی بجائے روزانہ ایک آدمی کو کھانا کھلائیں جسے روزے رکھوا دینا کہتے ہیں۔ کسی غریب کو صبح شام کھانا کھلا دینا ان کے لیے کفارہ بن جاتا ہے۔

Page:  | 2

Comments

comments