شوگر:ٹائپ 2ذیابیطس افراد انسولین نہیں لیتے بلکہ گولیاں کھا کر یا غذا کے ذریعے شوگر کنٹرول کرتے اور روزے بھی رکھتے ہیں، ایسے افراد کے حوالے سے اسلام میں کیا حکم ہے یعنی دن میں کسی وقت اپنی بلڈ شوگر چیک کرانے میں کوئی حرج تو نہیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد:کچھ انجکشن وہ ہوتے ہیں جن میں’’غذا‘‘بھی موجود ہوتی ہے ، یقیناًیہ روزے میں نہیں لگوائے جا سکتے لیکن محض دوا پر مشتمل انجکشن مثلاً پنسلین یا انسولین وغیرہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح ایک قطرہ خون نکال کر بلڈ شوگر چیک کرنے سے بھی میرے خیال میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔

شوگر: ریگولر انسولین کا ٹیکہ خون میں براہ راست نہیں جاتا بلکہ یہ جذب ہونے میں خاصا وقت لیتا ہے،کیا روزے کی حالت میں افطاری سے چالیس پینتالیس منٹ پہلے انسولین کا ٹیکہ لگایا جا سکتا ہے تاکہ روزہ دار بر وقت افطاری کر سکے اور اس کی بلڈ شوگر بھی کنٹرول میں رہے۔

ڈاکٹر اسرار احمد: مسئلہ یہ ہے کہ یہ چیزیں علمِ فقہ سے تعلق رکھتی ہیں اور میں بنیادی طور پر علمِ فقہ کا ماہر نہیں بلکہ قرآن کا طالب علم ہوں، قرآن میں فقہی احکام بہت کم ہیں تاہم ایک اندازے کی حد تک یہ کہہ رہا ہوں کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ کوئی فتویٰ نہیں، فتویٰ آپ کسی مفتی ہی سے لیجئے۔

شوگر: ایک سوال یہ ہے کہ کسی فرد نے روزہ رکھنے کے وقت گولی کھا رکھی ہے اور بعد میں اسے محسوس ہوتا ہے کہ شوگر انتہائی کم ہو رہی ہے تو اُس کے لیے کیا حکم ہے؟ کیا وہ روزہ توڑ دے؟

ڈاکٹر اسرار احمد: پہلی بات یہ ہے کہ اگر اِس قسم کا معاملہ ہے تووہ روزہ کیوں رکھے جبکہ شریعت میں گنجائش موجود ہے کہ وہ کسی کو کھانا کھلا کر روزے کا کفارہ دے سکتا ہے۔ دین میں جو بھی رخصت ہے اس کا فائدہ اٹھانا چاہئیے، فائدہ نہ اٹھانا ایک طرح سے ناشکری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رعایت سے فائدہ نہیں اٹھا رہے، یہ ایک طرح کا تکبّر بن جاتا ہے۔

شوگر:آپ کی ذیابیطس ہسٹری کیا ہے اور اِسے کِس طرح کنٹرول میں رکھتے ہیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد: کئی سال سے ٹیسٹ کرواتا تو یہ کہا جا تا کہ آپ بارڈر لائن پر ہیں۔ ڈیڑھ سال قبل ہیمو گلوبن اے ون سی کرایا تو کہاگیا کہ آپ کو ذیابیطس نہیں ہے لیکن اب ذیابیطس ہے، اگرچہ بہت زیادہ نہیں ، گلوکوفیج سے گزارہ چل رہا ہے۔ کبھی 122اور کبھی 130ملی گرام شوگر ہوتی ہے۔ چند دن پہلے چیک کرائی تو 107ملی گرام تھی۔میں نے ابھی تک کوئی خاص پرہیز شروع نہیں کیا، صرف چائے میں چینی حتیٰ الامکان نہیں ڈالتا۔ واک وغیرہ نہیں کر پاتا کیونکہ شروع سے میری عادات بیٹھ کر کام کرنے والی ہیں ‘ بیٹھے رہنا‘ سوچنا‘ غور کرنا، میں مفکّر قسم کا انسان ہوں‘ زیادہ بھاگ دوڑ کرنے والا اور عملی آدمی نہیں ہوں حالانکہ اسلامی جمعیت طلباء اورجماعتِ اسلامی میں بہت زیادہ فعال رہا اور بہت کام کیا لیکن فطرتاً میں ایسا نہیں ہوں البتہ میری غذا مرغن نہیں سادہ سی ہوتی ہے لیکن میں نے اپنے اوپر کوئی خاص پابندی نہیں لگائی کہ چاول نہیں کھانے‘ یہ کھانا ہے وہ نہیں کھانا، بس روٹی ٹھیک طریقے سے کھاتا ہوں۔مجھے ورزش‘ بھاگ دوڑ اور کھیل وغیرہ کی عادت نہیں ۔ اب تو میرے دونوں گھٹنے مصنوعی ہیں اور کمر میں بھی دو جگہ گڑبڑ ہے کیونکہ میں نے بہت عرصے تک آلتی پالتی مار کر تین تین گھنٹے کے درس دئیے ہیں، چلنا اور کھڑا ہونا بھی مشکل ہے بلکہ کھڑا ہونا چلنے سے بھی زیادہ مشکل ہے، نماز بھی بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔

شوگر:ماہنامہ شوگر کے حوالے سے کچھ بتائیں؟

ڈاکٹر اسرار احمد:ماہنامہ شو گر اچھی معلومات دیتا ہے۔

Page:  | 2