شوگر خاوند کو ہو یا بیوی کو اُس سے نبھا دونوں کو کرنا ہوتا ہے
: مُنیر نیازی

جیون ساتھیوں میں سے کسی ایک کو ذیابیطس ہو تو دوسرا اِس سے لاتعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ اِس ’تیسری شریکِ حیات‘ کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہیں، مجبوری سے کیا جائے یا خوشی کے ساتھ۔ خوش دلی سے تسلیم کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ ایک حقیقت پسند طرزِ عمل کے باعث زندگی گزارنا آسان تر ہو جاتا ہے۔ اِس ضمن میں ماہنامہ شوگر بہت سے سروے اور کئی ایسے جوڑوں کے انٹرویو بھی کرتا رہتا ہے جن میں سے ایک کو ذیابیطس ہے لیکن دونوں مل کر اِس کا سامنا کر رہے ہیں۔

اِسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر ہم نے چند ایسی معروف شخصیات سے رابطہ کیا جو اپنی زندگی کی گوناگوں مصروفیات کے باوجود نہایت ہمت اور خندہ پیشانی سے اپنی یا اپنے جیون ساتھی کی ذیابیطس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ معروف شاعر منیر نیازی جہاں اُردو زبان واَدب میں بذاتِ خود ایک روایت ہیں وہیں پرتخلیقی میدان میں گوناگوں مصروفیات کے باوجود اپنی اہلیہ کی ذیابیطس میں بھی اُن کے شریک و غمگسار ہیں۔ پچھلے دنوں ماہنامہ شوگر نے جناب منیر نیازی سے اُن کی شخصیت اور فن کے ساتھ ساتھ اُن کی نجی اور گھریلو زندگی کے بارے میں ایک تفصیلی انٹرویو کیا جس کی تفصیلات اگلے شمارے میں شائع کی جائیں گی۔ فی الوقت ملاحظہ کیجئے اُن کی اور شریکِ حیات کی صحت کے بارے میں مختصر گفت

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

شوگر :آپ کی صحت عموماً کیسی رہتی ہے؟

مُنیر نیازی : حال ہی میں مجھے دِل کی تکلیف ہوئی تھی جس کی وجہ سے شیخ زاید ہسپتال میں رہا۔ ایک دن ای سی جی کے لیے اپنے ڈاکٹر کے پاس گیااُنہوں نے ای سی جی دیکھ کر شیخ زاید میں داخل کرا دیا۔ ڈاکٹر نے کہا آپ یہاں سے تندرست ہوئے بغیر نہیں جا ئیں گے۔ آکسیجن کے ساتھ ایک اور سلنڈر تھا،نیبولائزر اور انہیلر دیا اور کہا کہ وقتاً فوقتاً چیک اپ کرواتے رہیں۔

شوگر:ہم لوگ ذیابیطس کے بارے میں آگہی پر کام کر رہے ہیں؟

مُنیر نیازی : یہ بہت خوشی کی بات ہے ۔ امریکہ جانے سے پہلے میں نے 2 ہسپتالوں ، جناح ہسپتال اور جواد کارڈیک سنٹر سے چیک اپ کروایا تھا۔ اُن لوگوں کا کہنا ہے کہ چیک اپ کرواتے رہنا چاہئیے لیکن میں اِس معاملے میں بہت سُست واقع ہوا ہوں۔

شوگر: صحت کے دیگر معاملات میں کیسے ہیں؟

مُنیر نیازی :میں خود توذیابیطس کے اثر سے محفوظ ہوں تاہم میری بیگم کو ذیابیطس ہے۔ میں اُن سے کہتا رہتا ہوں کہ روٹین میں چیک کروا لیا کریں۔ کراچی کی ایک شاعرہ ہیں فاطمہ حسن اُنہوں نے ایک دیسی سانسخہ بتایا ہے کہ پنیر بوٹی استعمال کیاکریں ،وہ اِسے بھی استعمال کرتی ہیں۔ یہاں ایک لیڈی ڈاکٹر ہیں جو ایک ایئر مارشل کی بیگم ہیں، وہ بھی شوگر کی مریضہ ہیں وہ بھی یہی پنیر بوٹی استعمال کرتی ہیں اور بڑی سرعت سےنارمل ہوئی ہیں۔ وہ فوج میں ہیں ایک دفعہ کھانا کھاتے ہوئے انجکشن سے انسولین لگا رہی تھیں جسے دیکھ کر میں بہت حیران ہوگیا۔

شوگر :آپ کی اہلیہ ذیابیطس کے علاج کے لیے کچھ کرتی ہیں؟

مُنیر نیازی :جی ہاں ! غذاپرہیز سے لے کر ڈاکٹر سے چیک اپ کرانے تک تو پابندی سے عمل ہورہا ہے لیکن ورزش نہیں کرتیں۔ پہلے جو دوا دیتے تھے وہ بعد میں تبدیل کر دی، جیسے جیسے ڈاکٹر حضرات تبدیلیاں کرتے ہیں ویسے ہی کرتی رہتی ہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8

Comments

comments