شوگر:جب شریکِ زندگی کو ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کا دوسرے پارٹنر پر اثر پڑتا ہے تو آپ کا تجربہ کیسا رہا؟

مُنیر نیازی: جس قدر ہو سکے تعاون کرتا ہوں۔ مجھے اِس بارے میں کچھ پتا ہے اِس لیے اِس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوشش کرتا رہتا ہوں۔

شوگر: میں اپنے قارئین کے سامنے ایسی شخصیات کو رکھتے ہیں جنہوں نے اپنے شعبہ زندگی میں نمایاں کام کئے؟

مُنیر نیازی: پاکستان میں شخصیتیں بہت ہیں جناب، ہر شعبہ حیات میں ہم لوگ بغیر عقل کے، بغیر تخلیقی جوہر کے موجود ہیں۔ تعلیم میں، عدلیہ میں، پولیس میں جو 302 کی جو دفعہ آزادی سے پہلے چل رہی تھی وہ ابھی تک موجود ہے، جو کیمسٹری 56سال پہلے پڑھائی جاتی تھی وہی اب پڑھائی جا رہی ہے، مثال کے طور پراورینٹل کالج میں زبان و ادب میں کسی کی استعداد کا اندازہ لگانے کا جو طریقِ کار اُس وقت تھا وہ آج بھی ہے ، وہی چار، پانچ اصول جو اس وقت تھے اب بھی وہی ہیں۔ کہیں بھی تخلیقی کام ہمارے لیے شجرِ ممنوع بن گیا ہے،زندگی کے ہر شعبے میں ہم تخلیق کے بغیر ہی ہم گھوم رہے ہیں اور جہاں تخلیق نہیں ہوتی تخریب ہوتی ہے، ہم تخریب میں گھوم رہے ہیں، ہر شعبہ حیات میں تخلیق کا فقدان ہے۔


شوگر:کچھ ابتدائی زندگی کے بارے میں بتائیں؟

منیر نیازی:سب کچھ بھول گیا ہے کہ ابتدائی زندگی کیسے گزری۔ خانپور ضلع ہوشیارپور میں پیدا ہوا، پرائمری کا کچھ حصہ وہیں گزرا۔ تقسیم سے پہلے ہم یہاں آگئے، ہمارے چچا نیازی ٹرانسپورٹ کے نام سے کاروبار کرتے تھے، جب میں 1برس کا تھا تو والد صاحب فوت ہوگئے تھے ۔ پرائمری کا کچھ حصہ اور پھر میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول منٹگمری (موجودہ ساہیوال) سے کیا۔ پھر 47ء سے پہلے کالج جانے کے بجائے خاندان کو بغیر بتائے نیوی میں بھرتی ہو گیا۔بمبئے جہاں ہمارا ٹریننگ سنٹر تھا ایچ ایم آئی ایس ڈلہوزی ایک ازکارِ رفتہ جہاز کنارے پر بریک واٹر کے اوپر پتھریلی سی زمین پر سیمنٹ بجری وغیرہ سے بنائے ہوئے پر لنگر انداز تھا تو وہاں پرٹریننگ لی۔ وہ زندگی کچھ عجیب تھی، صبح سویرے جہاز کے ڈیک صاف کرو، صبح صبح ٹھنڈے پانی سے نہا رہے ہیں پھرمیں واپس بھاگا لیکن پکڑا گیا سزا ملی۔چونکہ ضد آگئی تھی اس لیے بھاگنے کی کوششیں جاری رہیں تو پارٹیشن تک ہم ان کے ہاتھوںمیں رہے اسی دوران اپنی تھوڑی سی تعلیم بھی مکمل کر لی تھی۔ ریاستوں میں فیس کم ہوتی ہیں۔بہاولپور سے انٹرمیڈیٹ کیا ، انٹرمیڈیٹ کے بعد تھرڈ ایئر یہاں دیال سنگھ کالج میں داخلہ لیا۔ فورتھ ایئر میں محبت ہوگئی اور اِسی محبت میں یہاں سے ہجرت کر کے کشمیر (سری نگر) چلے گئے۔ خیال تھا کہ پھر پرنس آف ویلز کالج جموں چلے جائیں گے۔وہاں پر نندہ بس سروس چلا کرتی تھی اُس کے ذریعے جموں پہنچے سامان وہیں بس سٹاپ پر رکھا میں نے کہا ذرا کالج تو دیکھ کر آئیں۔ کالج دیکھا تو بڑاردیتھامیں نے کہا آگے سری نگر تک چلتے ہیں وہاں خلیفہ عبدالحکیم جو ایک اچھے سکالر فلاسفر تھے پرنسپل تھے۔جب وہاں ڈاکٹر تاثیرپرنسپل تھے، سری پرتاب کالج میں تو اِس دور میں اس کے دو حصے کر دئیے گئے۔

شوگر :14اگست 1947ء کو آپ کہاں تھے؟

مُنیر نیازی :اسلامیہ کالج جالندھر میں وہاں فورتھ ایئر کر رہا تھا بس پھر سری نگراور خانپور کی کشش ایسی تھی جو اپنی طرف کھینچتی تھی جیسا بھی تھا لیکن اپنی مٹی کی خوشبو ، اس کے مکان، کھیت، جوہڑ، بلبلیں، پہاڑیاں یہ سب کچھ بہت یاد آتا تھا۔ اشفاق احمد نے اِس کی بڑی اچھی تصویر کشی کی ہوئی ہے ، اشفاق والدہ کی طرف سے ہمارے عزیز بھی ہیں۔ جالندھر اور ہوشیارپور کا فاصلہ کوئی 15میل کا تھا۔ اسٹیشنوں کے نام بھی مجھے ابھی تک اچھی طرح یاد ہیں۔ آدم پور، نصر آباد، شام چوراسی، ہوشیار پور کومنسٹ اسٹیشن تھے۔ جالندھر چھاؤنی میں ہاکی کھیلا کرتا تھا اور اس کے اچھے کھلاڑیوں میں شمار ہوتا تھا۔ مجھے دیکھ کر اسلامیہ کالج جالندھر نے ایک ٹیم بنانے کا پروگرام بنایا وہ اس لیے کہ انہوں نےجو میرے لیکچر شارٹ تھے اُن کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا ارشد لودھی جوپنجاب کے وزیر مال رہے اِن کے بڑے بھائی اسلم لودھی بھی ایک اچھے کھلاڑی تھے اور ٹیم کے سنٹر فارورڈ تھے۔ ٹیم ہوشیار پور اور اردگرد کی جگہوں پر جہاں تک جاسکتی تھی وہاں جاتی تھی۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8