شوگر:شعرو ادب میں آپ کی پہلی پہچان اور تعارف منٹگمری ساہیوال سے بنی؟

مُنیر نیازی:بالکل صحیح! پارٹیشن کے بعد لوگ تو الاٹمنٹوں میں لگے رہے مجھے یہ دھُن تھی کہ ایک پبلشنگ ہاؤس، ایک ہفتہ وار پرچہ سات رنگ اور ایک بک شاپ منٹگمری جیسی جگہ پر شروع کیا۔ سارا خاندان حیران تھا کہ یہ کیا کر رہا ہے۔ کوئی کہتا یہ دہریہ ہوگیا کوئی کہتا یہ کمیونسٹ ہوگیا ہے لیکن اب سوچتا ہوں ایسا کام کرنے کی بجائے واقعی اُس وقت الاٹمنٹیں ہی کروانی چاہئیں تھیں۔ اس ملک میں فکر کی اور لٹریچر کی بات کرنا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والی بات ہے۔

شوگر:اگرہم غلطی پر نہیں تو آپ ہی نے کہا تھا کہ میں اس خوبصورت سرزمین میں گلاب ہی گلاب اُگاؤں گا؟ اب اس کے بارے میں ہیں؟

مُنیر نیازی:جی ہاں! یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب میری ادبی خدمات کے صلے میں مجھے زمین دی گئی۔ گورنر ہاؤس سے ایک سیکرٹری صاحب آئے کہ یہ ثابت کیجئے کہ یہ زمین آپ نے سیاسی دباؤ سے نہیں لی میں نے کہا ایسی کوئی صورت ہے ہی نہیں کیونکہ میں نے کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی ۔ ان میں کوئی ہارٹ لسٹ آدمی لگتا ہی نہیں تھا عبدالباری کے دور میں تھوڑا بہت تھا لیکن جلدی بیزار ہوگیا تھا۔ پھرروڈ پر میاں افتخار الدین جب مجھے لے کر جانے والے لوگ راتوں رات فرار ہوگئے اور میں قابو میں آگیا۔

شوگر:ممتاز دولتانہ صاحب کے بارے میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ شروع میں ایک حد تک تھے؟

مُنیر نیازی:ان کا اور ممدوٹ کا آپس میں جو جھگڑا تھا وہ میرے علم کے مطابق الماس نامی ایک خاتون کی وجہ سے روز ایک آدمی قتل ہوتا تھا ، دادو خاں کے پاس بھاٹی گیٹ کے اندر خضری دروازے والی سائیڈ پر اس طرح کافی ہوتا تھا۔ دولتانہ کے بارے میں یہ تھا کہ وہ پڑھا لکھا آدمی ہے، تھوڑا سا سوشلسٹ پر یقین رکھتا تھا۔ یہ نوابوں والے ٹھاٹھ اتنا معلوم ہے کہ پان کھاتا تھا اس میں کچھ گولی ڈال کر۔ دونوں الاٹمنٹ کرا رہے تھے ہم کو یہ اچھا ہی نہیں لگا۔ ہم سوچتے تھے کہ پاکستان کا کسی کو پتا ہی نہیں تھا ہم کہتے لوگ روٹی کھائیں گے ہم بھی کھالیں گے نہیں کھائیں گے تو ہم بھی نہیں کھائیں گے۔ وہ زندگی کلچرڈ لیول پر بھی بہت اچھی تھی۔ مثلاً پتنگ بازی اس وقت کوئی معنی لگتے تھے۔ پھر لاہور کی زمین کافی تھی۔ باغوں کا اور سرسوں کے پھول والا شہر تھا۔ اندر پیلی ساڑھیاں، پگڑیاں، مٹھائیاں ایک دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہندو بنیا کے خوف سے پاکستان بنا ، بعد تک سینٹ ہال میں جاوید اقبال وغیرہ وہاں آتے تھے تو میں سنتا تھا ہمارے ہاں تو سلام کرتے تھے لیکن کوئی اتنا زیادہ سود نہیں دیتے ہیں یہ تو بدنصیب لوگ ہیں اس سے اچھے تو وہ لوگ تھے۔ نوکری پیشہ لوگ ہیں کیونکہ ہندوؤں کو سبقت مل جاتی ہے۔ سنا ہے اب بھی سنتے ہیں لیکن ایک چیز بن گئی ہے غلط یا صحیح ہے اس کو برقرار رکھنا ہے۔ اب جو انڈیا سے لوگ آتے ہیں میری بیگم خانپور کی ہے پیچھے سے ہوشیار پور سے تھی یہاں میجر عزیز کے ماموں تھے فوت ہوگئے ان لوگوں کی بیٹی کی شادی میری بھائی سے ہوئی جوہر ٹاؤن میں۔ یہ مکاں بنایا مالک مکانوں سے تنگ آیا ہوا تھا پبلشنگ ہاؤس سیل کروانا، اور مالک مکانوں سے تنگ آنا یہ مجھے دو بڑے جھٹکے لگے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں بی بلاک میں تھا یہ مجھے حسین نقی پنجاب پر چھائے ہوئے تھے ، پی پی آئی کے ایک ہی راستہ ہے یہاں کے لوگوں سے بچنے کہ دن رات شراب اور یہ قصوریوں کی فیملی ہمارے دور دراز کے رشتہ داروں میں سے ہیں، احمد رضا قصوری کابڑا بھائی شیری ان کے ہاں کبھی میرے دفتر میں کبھی ان کے دفتر میں۔ بس جی اگر ختم ہوئی ہے شراب تو حبیب جالب جو کہ ہمارے سیالکوٹ کے نیازی فیملی کے ہیں اور ہمارے وہاں ساری بستی میں سدے دینے والے ہوتے تھے پیغام دینے والے جیسے نائی وغیرہ۔ جیسے پٹھانوں کی بارہ بستیاں تھیں ان کو بسیاں کہتے تھے ادھر بستیوں کو بسیاں کہتے تھے تو میں نے وہاں کی کلچر لائف دیکھی ہے بڑی مسحورکن ہے، پرانے مکان چھوٹی اینٹوں کے ،شام کو بزرگ دیوان خانے میں پوست پیتے تھے ہر پٹھان کا ایک چھوٹا باغ ہوتا تھا اس میں پوست کے کھیت ہوتے تھے کئی دفعہ طوطے وہاں آکر بیٹھ جاتے تھے۔ پچھلے دنوں میرے پاس کچھ لوگ آئے کہ ہم ایک انجمن بنا رہے ہیں کہ منیر نیازی سکول آف تھاٹ۔ میں نے کہا کہ میں نے کیا خاص کام کیا ہے؟ میں تو خود آج تک یہ نہیں سمجھ پایا کہ میرا مکتبِ فکر کیا ہے؟ میں کیسے سکول آف تھاٹ بن گیا۔ یہ تو ہے کہ کوئی فرد تحقیق کرے اور اس میں سے نکالے کہ یہ کیا ہے۔ جس طرح سوشلزم یا مارکس ازم کو نکالا جس طرح فرائیڈ نے کہا کہ مجھ سے پہلے شاعر لاشعور کو دریافت کر چکے تھے۔ اس طرح سے نکالا گیا ہے۔ مجھے تو لکھنے سے فرصت نہیں اب سال ہوا میں نے کچھ لکھا ہے اندر سے انسپریشن نہیں ہوتی۔ اور طوطے کے خراٹوں کی آواز آتی تھی۔ شام کو ان کی واحد کلب لائف یہ تھی کہ پرانے دوست اکٹھے ہوتے اور بھگو کے رکھے ہوئے ڈوڈے نچوڑ کر پیتے میں اپنے نانا کے ساتھ جایا کرتا تھا اس شوق میں 2گھونٹ لگاتا تھا کہ اس کے پاس گڑ کھانے کو ملے گا۔

شوگر:پبلشنگ کے حوالے سے بتائیے؟

مُنیر نیازی:وہ ارژنگ پبلشرز تھا ، المثال تو آخری پبلشنگ ہاؤس تھا اس میں میرا خاص مقصد یہ تھا کہ ایک ہسٹری پاکستان کی جرنلسٹ لکھتے ہیں کہ م ش صاحب کے بارے میں آتا ہے کہ ایک خاص رقعہ قائداعظم کو پکڑایا جو بڑا خفیہ قسم کا تھا ، اُس کے بعد بڑی کوٹھیاں وغیرہ بنالیں یعنی لفافہ ازم کی بنیاد اس وقت رکھی گئی۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8