ہر ایک کہتا ہے میں نے قائداعظم سے ہاتھ ملایا، میں نے کہا اس کے بعد اس ہاتھ سے کیا کام لیتے رہے، جڑیں کاٹتے رہے ہو ان ہاتھوں سے یہ بات اس حد تک میرے ذہن میں ہے کہ میں شکاگو میں بیٹھا تھا ایک آدمی آیا میرا پاس ایک خاتون تھی اس کا میاں خاتون اپنے میاں سے کہنے لگی اگر تم مجھے پہلے نہ ملے ہوتے تو میں منیر نیازی سے شادی کر لیتی۔ وہ کہنے لگی مجھے آپ کی کتاب چاہئیں میرے پاس دو تین کتابیں تھیں ایک ان کو دے دیں کل 13کتابیں تھیں کلیاتِ منیر اور وہ کلیاتِ منیر وہاں پہنچی ماورا والوں نے ایک بے کار سی کلیاتِ منیر نیازی کے نام سے شائع کی۔ ایک خاتون میرے پاس آٹوگراف کے لیے آئی میں نے اس کو کہا ایک اور لے آؤ میں پھر ایک اور دستخط دئیے۔ جتنے میرے پاس پیسے جمع ہوتے تھے تو میں اس کا پبلشنگ ہاؤس بنا لیتا پھر ناکام کر دیتا۔ جب پہلا پبلشنگ ہاؤس بنایا تو اس کے پہلے مینجر سے کہا کہ پیسے نکالوکہنے لگا خان جی! رات میں چلا گیا گانا سنا ادھر بندے پیسے دے رہے تھے میں نے سوچا کہ ایسا نہ ہو لوگ کہیں کہ خان جی کا بندہ پیچھے رہ گیا اس لئے وہاں پیسے لٹا دئیے میں نے اس کو شاباس دی اور اس کو نکال دیا دوسرا بندہ بڑا سوفٹ سپیکنگ بڑا مدلل انسان اس نے سیدھا کہا کہ جی میں نے چوری کی میں نے اسے مارا اور کتے والی زنجیر سے اس کو چارپائی کے ساتھ باندھ دیا لیکن شاعر کا دل تھا کوئی گھنٹہ بعد اس کو کھولا دیسی گھی ڈال کر دودھ پلایا۔ زخموں پر ٹنکچر وغیرہ لگائی 500روپیہ میری جیب میں پڑا تھا وہ آدھی رات کو چوری کر کے بھاگ نکلاکیونکہ زندگی کو کسی سسٹم کے تحت نہیں لاسکتے۔ کسی انسان کو بیان کرنا ہو تو میرے خیال میں کوئی ایسا سسٹم نہیں جس کے تحت بیان کیا جا سکے کوئی فریم ورک ایسا نہیں۔

شوگر:مجید امجد صاحب کے ساتھ آپ کی بہت دیر محبت رہی، اس بارے میں تھوڑا جاننا چاہیں گے؟

مُنیر نیازی: میرے اردگرد بہت سے رائٹرز ہوتے تھے مجھے بھی شوق تھا رائٹر بننے کا۔ ساحر لدھیانوی اور دوسرے لوگوں کو میں کبھی میٹرو لے جاتا تھا پچھلے لاہور کی ایکو باقی تھی سٹیفلز میٹرو، لیونٹ، کافی ہاؤس ، سائمن کہنے لگا آپ وہاں جا رہے ہیں تو مجید امجد سے ضرور ملئے گا وہ مجید امجد کے بہت مداح تھے۔ اس کی ایک نظم امروز سویرے میں چھپی تھی جس کے ایڈیٹر ساحر لدھیانوی تھے۔ ساحر اُس کا ایک شعر مجھے یاد رہ گیا ہے ابد کے سمندر کی اک موج جس پر میری زندگی کا کنول تیرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجید امجد کو ضرور مل کر آنا۔ وہ سول سپلائی میں انسپکٹر تھا میں نے کہا آپ بھی نظم لکھتے ہو وہاں اور بھی صدیق کلیم، مجید امجد ، سید احمد اعجاز اس طرح کے بندے تھے۔ مجھے ان میں سے یہ سب سے بہتر لگا۔ ایک بندہ ہوتا ہے جس سے آپ ڈائیلاگ کر سکتے ہیں ورنہ تو ایسے بندے بھی ہیں جن کے بارے میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ کسی اور فریکوئنسی پر بات کررہے ہیں اور آپ کسی اورپر ایک دوسرے سے ڈائیلاگ نہیں ہو سکتا۔ میں شعر کہتا ہوں تو میرے لیے سب سے پہلی مصیبت یہ ہوتی ہے کہ شعر کس کو سناؤں، یہاں کون سا ایسا بندہ ہے جس کو میں شعر سناؤں۔ اگر بندے نے تعریف کر دی تو تب میرا بیڑا غرق اور اگر تنقید کر دی تو تب اس لیے میں شعر کہہ کر رکھ لیتا ہوں اور چاروں طرف سوچتا ہوں کہ ایسا کون سا اس وقت مجید امجد میرے ساتھ تھا ، مجھے آج تک سیاست کا نہیں پتا چلا وہ تھوڑا بہت سیاسی ذہن رکھتا وہ سات رنگ کا ایڈیٹوریل پیج لکھتا تھا میں اس کے کالمز۔ شاعری میں جب پہلی نظم لکھی تو مجید امجد حیران رہ گیا کہ آج تک ایسی نظم نہیں لکھی گئی۔ وہ چھپی بھی ہے۔ 49,50ء میں شاعری چھوڑی۔ کبھی ظفر اقبال چچا میاں عبدالحق بھی ایک آدھا ایڈیٹوریل لکھ دیا کرتے تھے۔ بڑا کامیاب پرچہ تھا جو مشرقی پاکستان بھی جایا کرتا تھا اور یہاں بھی بکتا تھا۔

شوگر: کیسا تجربہ رہا؟

مُنیر نیازی: ادبی پرچہ تھا فنی لحاظ سے بہت اچھاتھا بس فنانس کا بہت مسئلہ رہا۔ اشتہار لینے کا طریقہ نہیں آتا تھا۔ پاکستان ٹائمز میں چھپتا تھا، اس وقت ادیبوں، شاعروں کو رستہ ہی نہیں ملتا تھا۔ گروہ بندی کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ شوگر وہ زمانہ ترقی پسند تھا اور غزل پر بھی کام ہو رہا تھا ۔ ادب برائے ادب کا نعرہ لگانے والا ایک نیا مکتب فکر بھی سامنے آ رہا تھا۔ آپ کا ان سب سے ایک الگ قدوقامت تھا ایک لفظ میں اگر کہیں تو نان کنفورمسٹ تھے یعنی آپ نے کسی پلڑے میں جانے کا نہیں سوچا ، کہا جاتا ہے جالندھر اور ہوشیار پور نے ایک ایک حفیظ (حفیظ ہوشیارپوری اور حفیظ جالندھری) پیدا کیا لیکن دو ضلعے مل کر ایک منیر ہی پیدا کر سکے ہیں۔ مُنیر نیازی:جی بالکل وہ سبھی لوگ تو ایک روایت کے اندر آتے ہیں۔ روایت سے باہر جا کر سوچنا ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مجھے وہ روایت سمجھ میں ہی نہیں آتی تھی۔ میں ابھی تک پاکستان کو قبول نہیں کرتا کیونکہ مجھے سمجھ ہی نہیں آتی کہ میں یہاں کیسے رہوں، آج تک میں نے نوکری نہیں کی۔ زمیندار میں بطور کالم نویس چلا گیا یا فلم کے لیے کچھ گیت لکھ دئیے لیکن میں نے جہاں بھی کام کیا خوب محنت سے کیا۔ المثال کی کتاب آپ کے سامنے ہے میرا اس ادارے کو بنانے کا مقصد یہ تھا کہ ایک تو یہ ہسٹری آف پاکستان تھی م ش سے یہ لکھ رہے ہیں دیگر اخبار نویس بھی لکھ رہے ہیں ایک ہسٹری کرایٹو آدمی لکھ رہا ہے۔ جو کسی خاص مقصد کے لیے نہیں لکھ رہا بلکہ معروضی طور پر ہے۔ اس میں ایک چیز سوچی ہے کہ ان کو کہاں سے شروع کریں، فیض سے جو سینئر آدمی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ ہی پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی انجمن ترقی پسند معدوم ہونا شروع ہوئی۔ روس میں سوشلزم تھوڑا سا دبنا شروع ہوا تو یہ انجمن بھی غائب ہوگئی۔ آگے آپ نے کہاں جانا ہے کیا رخ ہے اگر اِس کو کسی ترتیب میں لایا جائے تو کسی جہت میں جائیں گے لیکن ایسا ہوتا نہیں کیونکہ تخلیقی آدمی کوئی راستہ طے کرکے نہیں نکلتا کہ اس مقصد کے لیے لکھنا ہے ایک کالم نگار یا صحافی اور شاعر ادیب میں یہی فرق ہے۔ نیوز سے میرا ایک آکر انٹرویو لے گیا میں نے کہا ابھی میرے اندر سے انسپریشن نہیں ہوتی میں نہیں لکھتا۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8