شوگر:ایک زمانہ ایسا بھی گزرا 70sکا جب آپ سب سے بالکل منفرد نظر آتے ہیں اس کے بعد رومانویت جو آپ میں نظر آتی تھی آیا وہ عمر کا تقاضا تھا یا کیا وجہ تھی کیونکہ وہ چیز نہیں رہی تھی؟

مُنیر نیازی: ہوسکتا ہے شاعری کو سمجھنے کے لیے سٹینڈرڈ وہ نہ رہے ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاعری کی قدر شناسی، اُسے قبول یا مسترد کرنے کے معیار تبدیل ہوگئے ہوں۔ میں ایک سیاسی پارٹی میں تھوڑا بہت جاتا رہا ہوں وہاں پائے جانے والے دباؤ کی وجہ سے یہ پتا چلتا رہتا تھا کہ غریبی اور امیری کے ٹکراؤ کو موضوع بنانا ہمارے ہاں شہرت حاصل کرنے کا بنیادی سلسلہ ہے۔ مسائل وغیرہ ایک باقی رومانٹی سیزم کی وضاحت کرنا آج تک ممکن نہیں ہے۔ یہ آپ کے اندر ایک چیز جمع کرتا ہے جب آپ لکھنے لگتے ہیں تو وہ مخصوص مضمون کے لیے تو نہیں لکھتے کیونکہ اس طرح وہ جرنلزم بن جاتا ہے، سٹیٹمنٹ بن جاتی ہے۔ پچھلے دنوں یہ بات بڑی عام تھی کہ آدمی جب بوڑھا ہوتا ہے تو اس کی یادداشت کھو جاتی ہے ، کافی پمفلٹ بانٹے گئے پریس کلب میں میٹنگ ہوئیں ، میں نے کہا میں اوٹاوہ جاتا ہوں وہاں ایک دریا ہے اس کے پار فرانسیسیوں کی بستی ہے میں پار جاتا ہوں ایک لڑکی نے میری طرف دیکھا مجھے اور کچھ یاد نہیں ، لڑکی کا سراپا یا شکل یاد نہیں میرے اندر ایک اثر ہوا وہ ابھی تک یاد ہے۔ میں ناروے جا رہا تھا مانچسٹر سے لو فلائٹ پر لے کر گئے۔ وہاں جا کر نیچی اڑان پر شفق کو دیکھا وہ ابھی تک ذہن میں ہے۔ کشمیر، ہوشیارپور ابھی انہی دنوں میں ایک دن لکھا نہیں جا رہا تھا میں نے کہا چلو یار خانپور چلیں خانپور داخل ہوئے ہیں راستے میں ایک درخت آیا وہاں بیٹھے ہیں اور ایک نظم ہوگئی ایک خزاں زدہ باغ اور بونداباندی۔

شوگر:ن م راشد صاحب کی شخصیت کے بارے میں کچھ بتائیں کیونکہ آپ نے ان کے ساتھ ایک وقت گزارا ہے اور ان کے ساتھ وقت گزارنا بہت مشکل کام ہے؟

مُنیر نیازی: جی اس کے ساتھ وقت گزرانا بڑا مشکل کام ہے اس کے بیٹے شہریار نے مجھے کہا جو کہ بعدازاں سول سروس میں آگئے دفعہ مجھے ان کا پیغام ملا یہ تب کی بات ہے جب بمبئی میں کونسل جنرل تھے۔ حنیف رامے ملے اور مجھ سے کہا کہ سنا ہے آپ پبلشنگ ہاؤس بنانا چاہتے ہیں میرے پاس اعجاز بٹالوی آیا تھا راشد کی کتاب کا مسودہ لے کر راشد کو کبھی میں نے پسند تو نہیں کیا تو آپ اس کی تعریف کرتے رہے ہیں۔ اگر آپ کو پسند ہو تو اس سلسلے میں اعجاز بٹالوی سے مل لیں۔ میں یہی سوچ رہا تھا کہ اس دور کے لوگوں سے سے شروع کروں راشد، فیض، منٹو یہ گروپ پاکستان کے قیام کی ابتداء میں تھے۔ فیض کو لکھا تو انہوں نے بتایا کہ اُن کے سارے رائٹس گھر والوں نے لے لئے میں نے کہا چلو اچھا ہے۔ راشد کی کتاب کافی دنوں سے غلام عباس کے پاس پڑی ہوئی تھی۔ جن کا کراچی میں ایک پبلشنگ ہاؤس تھا لیکن وہ اسے چھاپنے کی جرات نہیں کر سکے۔ اسی مسودے میں اعجاز بٹالوی کے نام پیغام تھا کہ اعجاز خدا کے لیے میری کتاب چھپوا دو، مجھے رائلٹی سے چنداں غرض نہیں کتاب اچھی چھپنی چاہئیے کیونکہ اس کے بعد افتخار جالب وغیرہ نے ادیبوں اور شاعروں کی ایک جدید ترین نسل پیدا کر دی تھی اور وہ ان کی ہی کتابیں منگواتا تھا ۔ ایران میں میں نے ان کو خط لکھا کہ میں آپ کو منہ مانگی رائٹی دوں گا کتاب بھی خوبصورت چھاپوں گا بلکہ کاغذ بھی آفسیٹ پیپر کورین انگلش سبھی کے نمونے ایران بھجوائے اور اُن کی پہلی کتاب لا ؒ انسان چھاپی اس کے بعد ایران میں اجنبی اور سب سے پہلی کتاب ماورا بھی چھاپی۔ اس نے کہا میرا لڑکا شہریار پاکستان آ رہا ہے جو کہ یونیورسٹی میں داخلہ لے رہا ہے اُس وقت تک وہ رشیدہ خاتون کے ساتھ دوسری شادی کر چکے تھے۔ شہریار کی ایک بات مجھے یاد ہے کہ پہلی بار میں اپنے والد صاحب کوآپ کی معرفت ملا ہوں انہوں نے اپنی پہلی بیوی اور اُن کی اولاد سے تقریباً لاتعلقی اختیار کر چکے تھے اور اس کی تصویروں اگر آپ دیکھیں جیسے کسی ماڈل کو پینڈو بننے کا موقع ملے تو وہ بہت ہی زیادہ ماڈرن بن جاتا ہے۔ کالر ز کس طرح کے ہوں گے، ٹائی کی ناٹ کیسی ہو۔

شوگر:میرا خیال ہے کہ یہ شہریار نے ہی کہا تھا کہ ان کو دکھ سے نجات مل گئی جب ان کی والدہ فوت ہوئی تھیں بلکہ ان کے والد صاحب کو بھی نجات مل گئی ؟

مُنیر نیازی:جی بالکل۔ ان کی ایک بچی بھی جس کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ جس ہاسٹل میں رہتی تھی پلیٹیں اُٹھا کر لوگوں کو مارتی تھی پھر ان کی بیگم آئی تو ان کے ساتھ بھی اس سے پوچھا کہ شہریار کیسا ہے ادھر جتنا پیسہ چاہئیے تھا وہ ینگرز نے رائٹرز نے ان میں افتخار جالب تھا۔ وہ کہنے لگے جو میرے ساتھ گزری ہے میں آئیڈیالزم میں گزری ہے میں نے چیک بک ان کے سامنے رکھ دی کہ جتنا چاہئیے بھر لو میں نے کہا کوئی کنڈیشن نہیں یہ کتاب آپ کہیں اور بھی چھپوا سکتے ہیں اور میرا کوئی کمیشن بھی نہیں۔ جب کتاب چھپی تو غلام عباس آیا کہ یہ کتاب مجھے دے دو۔ اس میں کچھ سفارشیں بھی آئیں۔ ایک اس میں ایک اور بھی بات تھی کہ وہ کباب بہت شوق سے کھاتا تھا ، سیخ کباب ہوتے ہیں ناں موچی گیٹ کے اندر اب تو نہیں ملتے گوشت ملتا ہے ۔ پھر مزنگ چونگی پر جب کباب شروع ہوئے تو وہ وہاں بھی پہنچ گئے یعنی کھانے پینے کے بہت شوقین تھے۔ شوگر:جمیل جالبی صاحب بیس سال بعد یہاں آئے تو انہوں نے کہا بیس سال پہلے جو کتابوں کی دکان میں چھوڑ کر گیا تھا وہاں کھانے پینے کی دکان کھلی ہوئی ہے؟ مُنیر نیازی:بالکل درست کہا۔ شوگر:میرے خیال میں یہ جو آپ نے شعر کہا تھا کہ میں جس سے پیار کرتا ہوں اُس کو مار دیتا پبلشنگ ہاؤس کے بارے میں تو نہیں کہا۔ مُنیر نیازی:پوچھتے رہے مگر میں نے کہا نہیں۔ کچھ پتا نہیں اس بے وفا کا شہر کونسا ہے۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8