شوگر:فلمی شاعری کا کیسا تجربہ رہا؟

مُنیر نیازی:گندے لوگ ہیں، معلوم ہوتا تھا پاگل کے بچے بیٹھے ہوئے ہیں اب بھی بجائے اس کے کہ ان میں کمی واقع ہوتی زیادہ سے زیادہ بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ کمرشل ازم نہیں ہے کیونکہ جہاں تخلیق نہ ہو تو وہاں تخریب ہوتی ہے۔ ہم لوگ صرف تخریبی دور میں گھوم رہے ہیں۔شوگر:اب آپ کی طرف سے کوئی نئی چیز نہیں آرہی؟ مُنیر نیازی:نہیں نئی چیزیں آرہی ہیں۔ ایک آدھ نئی کتاب آ ہی جاتی ہے۔ ان دنوں میں بہت کم لکھا ۔ ایک تخلیقات چھپ رہی ہے۔ شوگر:1994ء میں کلیات کے نام سے کتاب چھپی تو جب شاعر خود ہی کہہ دے کہ یہ میری کلیات ہے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا مزید کچھ کہنے کا ارادہ نہیں۔پھر؟ مُنیر نیازی:وہاں لوگوں نے کہا کہ کلیات زندہ شاعروں کے لیے نہیں ہوتی۔ میں نے 200کاپیاں دیں ، 12کاپیاں نکلی ۔ہر نیا ایڈیشن جو آتا تھا اس میں تیرہ لیکن چودھویں تیاری کے عمل میں ہے۔

شوگر:اخبار میں بھی آپ نے کالم نویسی کی وہ کیسا تجربہ رہا؟

مُنیر نیازی:زمیندار اور اب جنگ میں لیکن میں نے دیکھا کہ کالم نویسی میں کالم کو یہاں کے بارے میں زیادہ لکھنا پڑتا ہے ایک تنخواہ آپ مالک سے لیتے ہو اور تین تنخواہیں اس سیاسی بندے سے لیتے ہو جس کو آپ پروموٹ کر رہے ہیں تو یہ مجھے پسند نہیں آیا۔ جو آزادی سے لکھنے والا بندہ ہے اس کو یہ پسند نہیں آ سکتا۔ زمیندار میں اس زمانے میں گیا جب اس کو مرزائیوں کی موومنٹ میں بند کر دیا گیا۔ اور موومنٹ بھی ایسی تھی کہ وہ گروپ مولوی عبدالعلی خان گردیزی پھر میاں صاحب تحریک انہوں نے کوشش کر کے مل جل کر پلینڈ اور پیچھے جماعت اسلامی کا بھی کافی رول تھا پرچہ بند ہوگیا اور منصور علی نے ایک پرچہ آثار کے نام سے نکالا اس میں علی ستیانہ ، ظہور شاہ ایڈیٹوریل میں شامل تھے مجھے رائٹرز میں شامل کیا پھر جب اصغر علی خان رہا ہو کر آیا تو سارے سٹاف کو نکال دیا۔ میں وہاں کچھ دیر رہا ، مسابقت کا احساس رہتا کہ یہ کیا لکھتے رہتے ہیں لیکن اسی ردعمل میں وقت کیوں ضائع کروں اپنا رستہ بدلا۔ سوئے ہوئے ہیں لیکن کوئی جگہ نہیں، پیدل ہی شاہی قلعے اس کے ساتھ کوئی دکان ہے دال سے روٹی کھالی، کھانا کھائے پھر پیدل چلنا۔ اس زمانے میں مال پر بھی ٹانگے چلتے تھے۔ فلم والے بھی ایسے تھے جو دس دس ہزار روپے کا کہا دیا دو سو روپیہ۔ گندے دوست۔ دوست بھی ایسے کہ مجھے یہاں ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوگیا۔ یہاں رہنے کا یہ طریقہ ہے کہ اس سے پہلے کہ پبلک آپ کی مت مار دے آپ دوسرے کی مت ماردو۔ میں نے کہا میں اپنے بچوں کو کیا جواب دوں گا وہ ہرٹ ہوں گے۔ ایسے گندے ڈائریکٹر جو وہاں سے پٹ کر آئے تھے انڈیا سے وہ یہاں آگئے سٹوڈیو الاٹ کروالئے فلمیں بنائیں فلمیں بھی وہ جو ذہن کو پوشیدہ رکھ کر دیکھنی پڑتیں۔ پروڈیوسر بھی ایسے یہ تھی فضا تو اس میں کتنی دیر نکال سکتا ہے بندہ۔

شوگر:آپ کی صحت عموماً کیسی رہتی ہے؟

مُنیر نیازی:ابھی مجھے اٹیک ہوا تھا تو مجھے شیخ زید لے جایا گیا۔ ان دنوں میں میں نے شراب بہت زیادہ پیتا تھا۔ اس میں آپ کا اپنا ارادہ بھی شامل ہوتا ہے۔ وہ احباب جو آپ کے ماحول میں ہوتے ہیں وہ بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اپنا نہ بھی دل کرتا ہو تو وہ لوگ پلا دیتے تھے۔ جرنلزم میں آپ کو پتا ہے کہ لکھنے کے لیے شراب کتنی ضروری ہے تو میں ان لوگوں سے منگوا لیا کرتا تھا۔ ایک دن میں اپنے ڈاکٹر کے پاس گیا ای سی جی کے لیے مستجاب ڈاکٹر تھا پہلے اس نے یہاں ہسپتال بنایا بعد میں وہ شارجہ چلے گیا اس نے ای سی جی دیکھ کر شیخ زید داخل کرا دیا۔ اس کا ایک لفظ مجھے یاد ہے میں نے کہا منیر بھائی ہمارے ڈاکٹروں کا بھی ایک ہے۔ میرا ڈاکٹر انچارج ناظم بخاری تھا مجھے تو پتا نہیں تھا کہ مجھے ہوا کیا ہے میرے دوستوں نے پوچھا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ جب یہ یہاں آئے تو چھاتی جام تھی۔ دس ہزار روپے میں نے ایک رائٹرز کی انجمن ہے اس کو دیا۔ اس کا عارف انچارج ہے۔ اکیڈمی آف لیٹرز۔ انہوں نے کہا ہمارے ہاں یہ رواج ہی نہیں ہے کہ پیسے لے کر علاج کرانا تو انہوں نے واپس کر دئیے۔ جب ڈاکٹر نے ہزار روپے کا ٹیکہ، 800دوا لکھ کر دی تو وہ پریشان۔ تو جس کو پیسے نہ دو تو وہ ناخوش جس کو دوتو وہ خوش۔ میرے والد صاحب نے کرو۔ کراچی کی ایک شاعرہ ہے فاطمہ حسن اس نے ایک دیسی سا نسخہ بتایا ہے کہ پنیر بوٹی کو استعمال کریں تو وہ استعمال کرتی ہیں۔ یہاں ایک لیڈی ڈاکٹر ہے بیگم وہ ایئر مارشل کی بیگم ہیں۔ وہ بھی شوگر کی مریضہ ہیں وہ بھی یہی پنیر بوٹی استعمال کرتی ہیں اور بڑی سرعت سے نارمل ہوئی ہے۔ وہ فوج میں ہیں ایک دفعہ کھانا کھاتے ہوئے انجکشن سے انسولین لگا رہی تھیں میں حیران ہوگیا۔

شوگر:آپ کی اہلیہ بھی ذیابیطس کے علاج کے لیے کچھ کرتی ہیں؟

مُنیر نیازی:جی ہاں پرہیز سے لے کر ڈاکٹر سے چیک اپ کرانا۔ جو پہلے دوا دیتے تھے وہ بعد میں تبدیل کر دی۔ جیسے جیسے وہ تبدیلیاںکہا کہ نیازی صاحب کو کہنا کہ پیسے ان لوگوں کو دینے کی بجائے کوڑے میں پھینک د ینا۔ میں نے ڈاکٹر سے کہا کہ میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا آپ نے یہاں سے تندرست ہوئے بغیر نہیں جانا۔کچھ سمجھ نہیں آتی کہ بندہ کیا کرے۔ اس نقطہ نظر سے کہ سوشلسٹک ہوگئے، کمیونسٹک ہوگئے اس میں بھی خاص سٹائل آ جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آکسیجن کا سلنڈر اور ایک اور سلنڈر اور موبلائزر اور یہ انہیلر واقتاً فوقتاً چیک اپ کرواتے رہیں۔ بہ اچھا بندہ ہے میں کبھی کبھی جاتا ہوں تو بڑے اچھے طریقے سے چیک کرتا ہے اس کے ساتھ بلڈ پریشر بھی چیک کرتا ہے۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8