شوگر:ہم ذیابیطس پر ریسرچ کرتے ہیں؟

مُنیر نیازی:میں امریکہ گیا تھا تو دو ہسپتالوں سے میں نے چیک اپ کروایا تھا ایک جناح ہسپتال اور دوسرا جواد کارڈئیک سنٹر سے چیک کروایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ چیک کرواتے رہنا چاہئیے لیکن میں اس معاملے میں بہت سست ہوں۔ میرے لیے چیک بنانا بڑا مسئلہ بنتا رہا ہے لیکن پیسے نکلواتا رہا ہوں کیونکہ وہاں ایک دو بندے ہوشیار پور کے ہوتے تھے جو کہ انچارج ہیں بینک میں وہ مجھے جانتے بھی تھے لوگ انس رکھتے ہیں جبکہ میں لوگوں سے کم ملتا ہوں ۔

شوگر:میرے خیال میں ذاتی میل ملاپ کے علاوہ کتابوں کے ذریعے زیادہ کمیونیکیشن ہوتی ہے ؟

مُنیر نیازی:جی بالکل۔ میری 6کلیات ہیں لوگ کہتے ہیں کہ زندہ لوگوں کی کلیات نہیں ہوتی تو میں نے بتایا ہے کہ زندہ لوگوں کی ہی تو کلیات ہوتی ہے۔ میں اب کوئی پرچہ ساتھ نہیں رکھتا، میرے پاس کوئی کتاب نہیں ہوتی۔ اسلام والوں نے کہا کہ ایسی کتاب ہم نے آج تک برصغیر میں نہیں دیکھی۔ چاہئیے تھا کہ ایسی کتاب سنبھال کر رکھوں جس میں میرے متعلق تعریفی کلمات ہوں لیکن میں نہیں رکھتا، میں کچھ دیر رکتا پھر کہتا ہوں آگے چلیں کیونکہ شاعر کو قیام نہیں کیونکہ شاعر نے قیام تو وہ مرشد بن جاتا ہے۔ یہ تو سفر ہے۔میں ذیابیطس کے اثر سے محفوظ ہوں۔میری بیگم کو ذیابیطس ہے میں اس کو کہتا ہوں کہ چیک کروالیا کرتے ہیں ویسے ہی وہ کرتی ہیں۔ ایکسرسائز سے انہیں نفرت ہے۔

شوگر:جب شریکِ زندگی کو ذیابیطس ہوتی ہے تو اس کا دوسرے پارٹنر پر اثر پڑتا ہے تو آپ کا کیسا تجربہ رہا؟

مُنیر نیازی:میں جتنا تعاون کر سکتا ہوں کرتا ہوں۔ مجھے اس بارے میں پتا ہے میں اس کو سبسائیڈ کرنے کی کوشش کرتا ہوں میرے اندر خودبخود کوئی ایسی چیز ہے مثلاً آپ خدا پرست ہیں اس کے لیے آپ گراف بنا کر یا شکشہ لے کر نہیں بتا سکتے کہ آپ کے اندر ان بارن ہے۔ جب خدا کا نام لیتے ہو تو کوئی گرو نہیں آکر آپ کو بتائے گا۔ شوگر:پہلے جو آپ کا کلام ہے وہ بڑا الوف سا یکتا تنہا بندہ نظر آتا ہے، بعد میں آپ نے انتساب بھی لکھے ہیں اللہ کے نام، رسول کریم کے نام؟ مُنیر نیازی:نہیں شروع سے ہی ایسا تھا۔ یہ میرے پاس کتاب پڑی ہے اس کو کوئی پڑھتا ہے، آیت الکرسی پڑھتا ہے یا دعائے جمیلہ پڑھتا ہے، شکر ہے اللہ کا۔ زیادہ مانگتا نہیں ، مانگنا بھی چاہئیے۔

شوگر:اس وقت جب آپ نے شاعری شروع کی تو اس وقت ترقی پسندی ایک فیشن اور روایت بھی تھا؟

مُنیر نیازی:جی میں اس سے لنک رہا۔ جس طرح پیپلزپارٹی والے بلاتے ہیں تو ان کے پاس چلے جاتا ہوں، جماعت اسلامی، طاہر القادری جو تپاک سے بلائے چلا جاتا ہوں۔

شوگر:ایک مختصر سے عرصے میں یہ دیکھا گیا کہ آپ کو عطاء اللہ خان نیازی، کوثر نیازی اورعمران خان نیازی یعنی نیازیوں کے ساتھ کچھ زیادہ لگاؤ تھاوہ کیا تھا؟

مُنیر نیازی:سب ویسے ہی کوئی زیادہ نہیں۔ کوئی خاص سبب نہیں تھا بلکہ ایک انجمن پٹھاناں جس کو چار پانچ سال ہوگئے ہیں پرچہ بھی نکالتے ہیں جس کا پریذیڈنٹ جسٹس جبار بنے ہوئے ہیں اس میں میرا نام معاون ایڈیٹر کے نام سے شامل رہا ہے سہیل احمد اور اشفاق احمد ،اشفاق تو چالاک آدمی ہے وہ تو ایسے ہی بابے جو آؤٹ ویٹ کرتے ہیں یا آپ کے سکالرز مگر وہ کنونس نہیں کرتا۔ جب ضیاء آیا تو ٹی وی پر میرا ایک ڈائیلاگ ہونا تھا اس کے بعد اس نے داڑھی رکھی ، تلقین شاہ والا اشفاق میں نہیں دیکھنا چاہتا بلکہ دھوپ اور سائے زیادہ اہم ہے ۔ دھوپ اور سائے میں نے لکھا تھا۔ یہ سارے بھائی کسی کے کام نہیں آسکتے۔

شوگر:کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جو بھی کام کیا جائے تخریبی یا تخلیقی دونوں کے لیے پی آر بہت ضروری ہے؟

مُنیر نیازی:ضروری چیز ہے لیکن میری طرف دیکھیں میری کوئی پی آر نہیں کرتا۔ آپ میرے دوست بن گئے ہیں، تحریر کی معرفت بنے ہیں ، آکسفورڈ یونیورسٹی والے، آکسفورڈ پریس ہے جو بھی کریٹیسیزم ہوتا ہے وہ مجھے لکھ بھیجتے ہیں۔ ایک کتاب چھاپی ہے فیروز سنز نے سین ڈیاگو میں پنجابی میں نظموں کا ترجمہ کر کے کتاب بنائی ہے The Colors of Sielenceایک میری اور کتاب ہے انگریزی میں داؤد کمال نے ترجمے کئے ، کچھ توفیق رفعت نے کئے، کوئی میں کام کرتی تھی مجھے امریکہ سے ایک خط آیا کہ میں سے اس قدر تنگ آئی ہوں کہ میں نے ترجمہ کیا ہے تراجم کے بارے میں اپنے اپنے رویے ہوتے ہیں داؤدکمال ایک یادداشت اپنی بیگم ساتھ لایا وہاں امریکہ میں تو میری بیوی کو کہنے لگا کہ آپ کا شوہرپرنس آف ورڈز ہے ۔ انگلش تو میری سبجیکٹ ہے تو اس کو ٹیمپریری نہیں لے سکتا۔

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8