شوگر:آپ کی ایک نظم ہے وہ کہتی ہے کون، میں کہتا ہوں کہ میں کھولو یہ بھاری دروازہ مجھ کو اندر آنے دو اس کے بعد ایک لمبی چپ اور تیز ہوا کا جھونکا یعنی پانچ چھ شعروں میں ایک کیفیت بیان کر دی گئی ۔

مُنیر نیازی:لمبی نظم۔ اشفاق نے میری پہلی پنجابی کتاب چھاپی تھی۔ پنجابی میں سے لے کر چھاپی تھی۔ شیخ ایاز وغیرہ نے ملنا وہ پختون اکیڈمی کے صدر تھے انہوں نے کہا ہم نے اتنا کام کیا ہے آپ نے پنجابی میں کچھ نہیں کیا ہم نے اخبار تک نکال لیا۔ تین دفعہ انہوں نے بار بار کہا میں نے کہا اچھا۔ میں نے یہاں آکر زور لگا کر بندے اکٹھے کر کے وائس چانسلر ز، ڈاکٹرز بلا کر ، پھر رائٹر گِلٹ میں پنجابی کو ری جینک فارم کیا۔ عبدالسلام خورشید کو سیکرٹری بنایامنظور احمد کو ساتھ رکھا چار پانچ میٹنگ اپنی نگرانی میں کروائیں۔ بی بی عذرا تاج، بیگم سلطانہ محمود، پیر احمد گجراتی ان سب کو اکٹھے کر کے میٹنگ کروائی اس کے بعد میں آگیا۔ میرا کام تو اچھے آئیڈیاز دینا ہے بیٹھ کر مستری کی طرح کام کرنا تو نہیں۔ عجیب ہی خواب تھا کوئی کنکریٹ نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے شاید اسی وجہ سے خدا نے میری شاعری میں اتنا اثر اور مقبولیت دی۔ میں نے ان کو یہ کہا کہ طرزِ تعمیر ہمارا اپنا ہونا چاہئیے کیونکہ جاپان نے اس زمانے میں تجربہ کیا تھا میں نے کہا میں آپ کو اپنے آرکیٹیکٹ سے ملواتا ہوں میں نے چار میٹنگز کروائیں اس میں وقار عظیم، احسان دانش، جمشید محمود اختر، بلا کر چار پانچ میٹنگز کروائیں۔ اس کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ میں ایک دن گیا تو طفیل نقوش والا ، اس میں میں نے دیکھا کہ پراپرٹی ڈیلر کا کمرہ جس نے الیکشن میں اس کی مدد کی تھی۔ رائٹرز اس میں کم، کوئی بندہ پریس کا مالک ہے، اس میں صرف منیر نیازی کا ہی نام نہیں۔ اقبال ٹاؤن اسی کی ایک توسیع ہے۔ گرج میں نہیں کرتا جو ہوتا ہے خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ مجھے فتوح الغیب جو برصغیر میں پہلی دفعہ چھپی اس میں ہے کہ آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں وہ قبول نہیں ہوتی تو آپ سوچتے ہیں وہ اللہ کی حکمت ہے۔ اگر قبول ہو جاتی فرض کیا آپ دولت مانگتے او روہ قبول ہو جاتی تو وہ دولت تمہاری دشمن بن جاتی، آپ برباد ہو گئے ہوتے۔ سہیل وڑائچ کا مضمون ہے ناں کہ اگر آپ کو بادشاہ بنا دیا جائے تو آپ کیا کریں گے تو میں نے کہا جائیداد بنانے سے منع کروں گا۔ صرف عورتوں پر ہلکا ہاتھ رکھنا، کسی مرد بچوں کے لیے جائیداد اکٹھا نہ کرنا۔ ایران میں جتنا ریولیوشن ہوا ہے ٹین ایجرز نے کیا ہے یہ وہی لڑکے ہیں جو سائیکل پر لڑکیوں کو چھیڑتے تھے۔

شوگر:آپ اس معاشرے میں کوئی امید افزا تصویر دیکھتے ہیں کہ کوئی مثبت تبدیلی آئے گی؟

مُنیر نیازی:نہیں اس وقت آپ کے پاس کوئی کرایٹو بندہ نہیں جو سب لوگوں کو لے کر چینلائز کرے۔

شوگر:یہ تو کہیں سے بھی نمودار ہو سکتا ہے؟

مُنیر نیازی:جی کب اور کہاں وہ ظاہر ہوتا ہے کوئی نہیں جانتا۔

شوگر:79
ء سے تقریباً 15,16سال پہلے جلاوطنی کی زندگی گزاری اس سے پہلے انہیں کوئی بہت زیادہ نہیں جانتا تھا ، پہلے کیسٹیں آنا شروع ہوئیں، پیرس میں سال گزارا اس کے بعد یکدم انقلاب آگیا؟

مُنیر نیازی:جی بالکل کچھ پتا نہیں کہ آپ کسی اور طرف لگے ہوئے ہو اور ادھر سے آپ کو بشارت آجائے۔ آپ بھی مایوس بیٹھے ہوں۔ کوئی ملازمت نہیں، کہیں کچھ نہیں، کبھی کبھی مشاعرے آتے ہیں ایک جیسے ہی بدشکل چہرے ، ایک جیسے لوگ ، غلیظ نظمیں، غلیظ غزلیں، آپ نے غزلوں کی بات کی تھی مجھے ایک جاپانی مداح ملا، جتنے بندے بھی میرے ساتھ ہوتے تھے تو سب کی دعوت کرتا تھا۔ اتنا اس نے چاہا اس نے کہا ہائیکو جتنا آپ سمجھتے ہو وہ کچھ نہیں بنیادی چیز خیال ہے خیال پرائمری چیز ہے فارم سیکنڈری چیز ہے۔ ہائیکو میں اگر خیال کی کوئی مشابہت آتی ہے تو وہ ان کے پاس ہی ہے۔ یہ بات اس نے ٹی وی پر انٹرویو میں کہا۔ میرے ساتھ جتنے بندے ہونے ان سب کی دعوت اور شراب کافی وغیرہ کے ساتھ تواضع کرتا تھا۔ میں ہالی ڈے ان کے کمرے میں بیٹھا تھا کہ وہ کہنے لگے کہ تین بوتلیں آپ کے کمرے میں رکھوا آیا ہوں۔ انہوں نے کہا ایک سنتوری سپیشل وہسکی بنائی ہے اور اس کے ساتھ واڈکا۔ تبسم کاشمیری ، اسد مفتی ہالینڈ سے آیا ہوا یہاں کا ہی رہنے والا،ایسے بندے دروازے پر دستک ہوئی کہنے لگا آپ کے کمرے کے باہر ایک درویش کھڑا ہے اس کے پاس بوتل ہے جتنا مانگتا ہے اسے دے دو۔ واپس آیا تو خالی بوتل، کہتا ہے ڈیک لگائی ہے تو بوتل خالی ہوگئی۔

شوگر:بہرحال بڑی خوش قسمتی ہے کیونکہ ایک عرصے سے آپ کے ساتھ ملاقات کی خواہش تھی اور وہ خواہش پوری ہوئی بھی تو ایسی تفصیلی ملاقات کی شکل میں۔

مُنیر نیازی:تین میرے ساتھ جشن منیر نیویارک میں منائے گئے، ایک لاس اینجلس ادھر وہاں ایک عجیب بات بھی ہوئی۔ واشنگٹن میں اظہار کاظمی جو یہاں ریڈیو اسٹیشن کا ڈائریکٹر ہے اس کے گھر ٹھہرا واشنگٹن میں، وہاں دوبندے کو پتہ چلا ایک عابدہ وقار وقار امبالوی کی بیٹی اور ایک منظور اعجاز کھلنڈڑا وساکی کے ساتھ نجم حسین سید گروپ پنجابی کا رائٹر وہ آیا کہ میں نے ملنا ہے میں نے کہا آج نہ آنا جس دن مشاعرہ ہوگا اس دن آنا۔ باتوں باتوں میں وہ کہنے لگا پریم چوہدری مرگیا۔ میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے میں نے اسے بھرتی کیا اور اس مردے کو ترقی بھی دیتے رہے ہو مجھے عجیب خیال آیا جب کوئی بات اچھی ہو تو میں اس کو دوسرے زاویے سے بھی سوچتا ہوں شہدا ء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو مردہ مت سمجھو یہ ہو سکتا ہے کہ زندوں میں مردہ لوگ پھرتے ہوں، آپ کی ٹریفک خراب کر دیتا ہے، آپ دن رات کی محنت سے روٹی آگے رکھتے ہیں ایک مردہ آتا ہے اور سب روٹی کھاجاتا ہے، سارا ملک بے چین کیا ہوا ہے بظاہر زندہ جس جہاں میں تو ہے زندہ اس کو زندہ مت سمجھ

Page:  | 2 | 3 | 4 | 5 | 6 | 7 | 8