جن لوگوںمیں ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے وہ اچانک ڈیپریشن اور ڈینائل میں چلے جاتے ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟ ’’مشکلات زندگی کالازمی حصہ ہیں، یہ ساتھ ساتھ ہیں۔ آپ کو اپنا رویہ اس قسم کا کرنا ہوگا کہ اینگزائٹی ، ڈیپریشن اور سٹریس سے بچیں ۔ اگر آپ ڈینائل کا شکار ہوں گے تویہ آپ ہی کی پرفارمنس پر منفی طور پر اثر انداز ہو گا اورسوائے آپ کے کسی کو نقصان نہیں ہوگا ۔ اس کے لئے ہمارے پاس سائیکالوجی کے ٹولز ہیں۔ ہم ٹائپ1 اور ٹائپ2 ذیابیطس افراد کو وہ ٹولز سکھا سکتے ہیں ۔‘‘ ذیابیطس کے بارے میں آپ کا کوئی ذاتی تجربہ؟ ’’ذیابیطس کے ساتھ میر ی وابستگی بہت پرانی ہے، میر ے والد اوروالدہ دونوں ذیابیطس کے مریض ہیں۔ ہمارے خاندان میں ذیابیطس چلی آتی ہے۔ میری دادی بھی شوگر کی مریضہ ہیں اس لئے ہم بہنیں بہت زیادہ احتیاط کرتی ہیں ۔ہم نے ایسا لائف سٹائل اپنایا ہے جس سے ذیابیطس کے امکانات بہت حد تک کم ہو جاتے ہیں۔میںمیٹھا نہیں کھاتی، ورزش کا بہت خیال رکھتی ہوں۔ذیابیطس ہونی ہو تو کبھی بھی ہوسکتی ہے لیکن ہم اس کے مقابلے کے لیے ٹیکنیکس سکھاسکتے ہیں جو بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔ان میں این ایل پی،یوگا ،ریکی اور کرومو تھراپی شامل ہیں۔‘‘ این ایل پی کے بارے میں کچھ بتائیں؟ ’’نیورو لینگویسٹک پروگرامنگ کی بنیاد یہ ہے کہ ہمارا ذہن امیجزیا تخیلات اور تصویروں کی صورت میں سوچتا ہے۔ انہی امیجز کی مدد سے ماہرینِ نفسیات فرد میں تبدیلی لاتے ہیںاور اسے ڈیپریشن اور اینگزائٹی سے نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایک فرد اپنے تصورات کے ذریعے اپنی مختلف نفسیاتی کیفیتوں پر قابو پانا سیکھا ہے۔ این ایل پی کے سیشن پانچ منٹ لیتے ہیں اور انتہائی موئثر ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ذیابیطس کیلئے گروپ سیشنز بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں ۔‘‘
مستقبل کے بارے میں آپ کی کیا پلاننگ ہے؟ ’’ایسا تعلیمی پروگرام متعار ف کرانا چاہتی ہوں جس سے لوگوں میں آگاہی پیدا ہو اور ذہنی صحت کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ ٹریننگ کے مواقع میسر آئیں۔ اس مقصد کے پیش ِنظر مختلف اداروں میں سیمینار کر رہی ہوں۔ایک میگزین شروع کیا ہے، مجھے ایک ٹی وی پروگرام بھی آفر ہوا ہے جو پی ٹی وی ورلڈ پر انشااللہ تعالیٰ جنوری سے آرہا ہے۔‘‘ آپ کے پاس زیادہ تر کس طرح کے کیسز آتے ہیں؟’’زیادہ تر سٹریس اور ڈیپریشن کے آتے ہیں۔ ڈیپریشن کی وجہ سے خود کشی کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ آجکل بچوںمیںبھی بہت ٹینش ہے۔ چونکہ چھوٹے بچے پر ہپناسس پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتااس لئے میں امیجری کی ٹیکنیک استعمال کرتی ہوں۔ ہمارے ہاں والدین اپنا جائزہ نہیںلیتے کہ ا ن کے کسی رویے کا بچے پر کیا ا ثر ہوگا۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ڈاکٹر، سائیکالوجسٹ اور سوشل ورکر کا کردار آپس میں مربوط نہیں۔اسی طرح نفسیاتی رویے کی تبدیلی کی بجائے سکون آور ادویہ پر ضرورت سے زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔‘‘

عقیدے اور مراقبے سے نفسیاتی علاج میںمدد لی جا سکتی ہے؟ ’’ میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حوالے سے مراقبہ سکھاتی ہوں، میں انہیں کہتی ہوں کہ اللہ کا نام اپنے پورے جسم میں پھیلائو اس سے لوگ بہت سکون محسوس کرتے ہیں۔ پھر میں انہیں کہتی ہوں کہ رات سونے سے پہلے دعا کیجئے اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھئے۔ اللہ کہتا ہے کہ تم مجھ سے مانگو میں تمھاری شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں۔ آپ اللہ سے مدد مانگیں اگر آپ کیلئے بہتر ہوگاتو وہ چیز ہوجائے گی اور اگر آپ کیلئے بہتر نہیں ہوگا تو اللہ نے کوئی بہترمصلحت رکھی ہوگی۔‘‘ بطور سائیکالوجسٹ ذیابیطس افرادکے لئے کوئی پیغام ؟’’یہ عقیدہ انتہائی غلط اور منفی ہے کہ ہمیں تو بس ذیابیطس ہوگئی ہے، اب ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے، یہ رویہ تبدیل کرنا چاہئیے ۔ زندگی میں ہر چیز کا حل ہے۔یہ حل چاہے انسولین کی صورت میں ہو،غذا یا پرہیز کی صورت میں یا ورزش کی صورت میں،انسان کو یہ حل تلاش کر کے اس کی پابندی کرنی چاہئیے۔ اکثر لوگ ذیابیطس سے اس لئے گھبراتے ہیں کہ انہیں اپنا لائف سٹائل تبدیل کرنا پڑتا ہے۔قوتِ ارادی سے زندگی میں کافی تبدیلیاں آسکتی ہیں ۔ ذیابیطس کے مریض اپنامورال کم کرنے کی بجائے اپنی توانائی جمع کریں، آگے بڑھیں اور بہتر زندگی کے لئے نئی باتیں سیکھیں کیونکہ بہت ساری چیزیں انسان سیکھ سکتا ہے۔ لوگ جب یہ چیزیں سیکھیں گے تو انہیں پتا چلے گا کہ ان سے کس حد تک زندگی میں مددمل سکتی ہے ۔ مائنڈپاور بہت اہم ہے ،آپ جو چیز سوچیں گے وہی اپنی زندگی میں کریں گے کیونکہ انسان کا لا شعور بہت مضبوط ہے۔ وہ جو کچھ سوچتا ہے و ہی ہوتا ہے اور جب آپ مائنڈ کنٹرول ٹیکنک سیکھتے ہیں توآپ میں حوصلہ اور اعتماد آجاتا ہے جسے آپ زندگی میں استعمال کرسکتے ہیں۔‘‘