یونیورسٹی کالج لندن سے بطور سائیکاٹرسٹ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وسیم کی مدد کرنے کے لیے شاید ہما ہی سب سے موزوں شخصیت تھیں۔ وسیم کا کہنا ہے ’’وہ بہت زبردست تھیں، انہوں نے مجھے جلد اپنی ذیابیطس کو قبول کر لینے میں بہت مدد دی‘‘۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ صرف 3 ہفتوں کے بعد وسیم کرکٹ کے میدان میں واپس آ چکے تھے ۔اُنہیں جلد ہی معلوم ہو گیا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ورزش ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے جسے وہ زندگی بھر ترک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

’’یہ بات کہ مجھے خود کو بہت فٹ رکھنا ہو گا میرے لیے بہت بابرکت ثابت ہوئی، فٹ رہنے سے ذیابیطس بھی کنٹرول میں رہے گی اور میں زندگی بھر اپنی فٹنس کو برقرار رکھوں گا۔ میں گالف بھی شوق سے کھیلتا ہوں جس میں بہت سی ورزش ہوجاتی ہے ‘‘۔

تشخیص کے تھوڑا عرصہ بعد ہی اُنہیں اپنی جسم کی ضروریات کے بارے میں درست اندازہ ہو گیا ۔کیوں نہ ہوتا؟ وہ کھلاڑی جسے وزڈن جیسے مستند صحیفہ کرکٹ میں ’’ون ڈے انٹر نیشنل میں آج تک پیدا ہونے والا بہترین باؤلر ‘‘ قرار دیا گیا ہو اس کے لیے یہ جاننا کیا مشکل تھا؟ 

وسیم نے ’’سپیڈ ، سپن اور سٹاپ ‘‘ کی بے نظیر خوبیوں کی مدد سے ون ڈے انٹر نیشنل میں 40,000 سے زیادہ زبردست قسم کی گیندیں کرائیں جس کی قیمت اُن کے جسم کو ہرنیا، رانوں کے پٹھوں اور کندھوں میں کھنچاؤ ، مہروں کے درد اور دیگر بہت سی چوٹوں کی صورت میں ادا کرنی پڑی ۔ ایک مرتبہ انہوں نے ہلکے پھلکے موڈ میں ایک بات کہی جو بہت مشہور ہو گئی ’’کرکٹ نے سیروں کے حساب سے گوشت کا خراج لیا ہے ‘‘۔بادی النظر میں ازراہ مذاق کہی گئی یہ بات بہت فکر انگیز تبصرہ ہے۔

کرکٹ چھوڑنے کے بارے میں وسیم اکرم کہتے ہیں ’’ہاں یہ سچ ہے کہ طبیعت قدرے ناساز رہی تھی، مجھے گلے کی انفیکشن تھی جس سے انسان ویسے ہی کمزور ہو جاتا ہے لیکن اصل بات یہ تھی کہ پہلے جیسا جوش و خروش کھو چکا تھا اور مجھے اس کا احساس بھی تھا ۔میرا خیا ل ہے کہ میں کھیل جاری رکھنا چاہتا تھا اور اس کو جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی لیکن ہیمپشائر کاؤنٹی کے حکام کو آگاہ کر دینا زیادہ موزوں تھا ۔ میں اس قسم کا فرد نہیں ہوں جو صرف اس بات پر خوش رہتا ہے کہ چلو پیسہ آ رہا ہے ۔ تقریباً 20 برس سے کھیل رہا تھا ، فطری امر ہے کہ اتنے عرصے میں انسان ویسے ہی تھک جا تا ہے جس کا ذیابیطس سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ بھی معلوم تھا کہ میں کھیل جاری رکھ سکتا ہوں کیونکہ اچھی فارم میں تھا لیکن زیادہ اہم بات اُس وقت فیصلہ کرنا ہے جب فن اپنے جوبن پر ہو۔یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں تھا جس میں ذیابیطس کی شدت میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا یا وقت کا ایمپائر اُنگلی اُٹھا کر ایک تھکے ہوئے ہیرو کو آؤٹ قرار دے رہا تھا۔

وسیم بڑے اعتماد سے کہتے ہیں ’’یقیناًمیں نے ریٹائرمنٹ کے وقت اپنا ایچ بی اے ون سی چیک کروایا تو وہ 5.8 %نکلا جو کہ کچھ اچھا ہی تھا ، میں بالکل ٹھیک تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی میں بہت سے ایسے مواقع بھی آتے ہیں جب آپ کو اس نوعیت کے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

سو اس طرح ایک زبردست کیرئیر اپنے اختتام کو پہنچا اور وسیم ایک ٹیسٹ میں 10 وکٹیں لینے والے کم عمر ترین کھلاڑی ، مجموئی طور پر 414 ٹیسٹ وکٹیں 3,000 ٹیسٹ رنزاور ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 500وکٹیں لینے والے سب سے پہلے کھلاڑی کے اعزازات اپنے ساتھ لیے رخصت ہو گئے ۔

اگرچہ ان کا کرکٹ کیرئیر تو پھولوں کے گلدستے کی مانند نہیں رہا لیکن ٹیم کے ساتھیوں نے انہیں 500 گلابوں کا تحفہ پیش کیا ۔ ذیابیطس تشخیص کے آس پاس کے زمانے کو ان کے لیے سخت ترین وقت قرار دیا جا سکتا ہے ۔ وہ قبل ازیں بارہا اس بات کا ذکر کر چکے ہیں اور اگرچہ اس انٹرویو میں انہوں نے واضح طور پر اس کا ذکر نہیں کیا لیکن اشارتاً اس پر بات ضرور کی اور اپنے گزشتہ فکر انگیز ’’سیروں گوشت کا اخراج‘‘ والے ریمارکس کے برعکس جذباتی آواز میں ’’شدید ذہنی دباؤ‘‘کی اصطلاح استعمال کی ۔

اگرچہ یہ امر بہت تکلیف دہ ہے لیکن جب وسیم پر کوئی تبصرہ اور بالخصوص اُن کی صحت پر کوئی بات کی جائے تو لا محالہ یہ تذکرہ بھی ضرور آئے گا کہ میچ فکسنگ کی تحقیقات میں جس طرح ان کو لمبے عرصے تک بے رحمی سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ، جس سے اُن کی ذات کے علاوہ کرکٹ کو بھی نقصان پہنچا ۔بعد ازاں ان کو بے گناہ قرار دیا گیا لیکن اس ذہنی اذیت کا اندازہ لگائیے جو ان شہ سرخیوں اور الزامات کی تصویریں چھپنے کے زیر اثر انہیں ملی ہو گی جیسے وہ کھیلوں کی دُنیا میں کسی بدترین جرم کا ارتکاب کر چکے ہیں ۔ایک موقعہ پر انہوں نے خود اپنا پُتلا جلتے ہوئے بھی دیکھا ۔

الزام تراشی کی اس مہم میں با عزت طریقے سے سرخرو ہو جانے کے باوجود خود ان پر ، ہما اور چھوٹے بچوں پر جو ذہنی دباؤ رہا وہ ناقابل برداشت تھا اور یقیناًایسی صورتحال میں اس کا مقابلہ کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جب انٹرنیشنل کرکٹ کی ضروریات کے تحت آپ کو سوٹ کیس اٹھائے صبح و شام جہاں گردی بھی کرنا ہو ۔ اگرچہ اب یہ واقعات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں اور ان پر مزید رونے دھونے کی ضرورت نہیں لیکن وسیم کا ’’شدید ذہنی اذیت ‘‘ کی طرف اشارہ یقیناًسنجیدگی پر مبنی ہے ۔شاید یہی تلخ تجربات کسی حد تک اس بات کی وضاحت بھی کر تے ہیں کہ وہ 37 برس کی عمر میں خود کو اتنا تھکا ہو ا کیوں محسوس کرتے تھے ۔

Page:  | 2 | 3