اس سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے انہیں ’’انتہائی سخت جان‘‘کا خطاب کیوں دیا گیا ، شدید چوٹیں ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں، انہوں نے دُشنام طرازی کا جس باوقار طریقے سے سامنا کیا اور ذیابیطس تشخیص کے بعد والے 6 برسوں میں جو کرکٹ کھیلا اس میں بہت سے زبردست ریکارڈ قائم کئے ۔اس بات کی اہمیت اس اعتبار سے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ میچ کے دنوں میں انہیں خوراک اور انسولین کی کیسی سخت پابندی کرنا پڑتی ہو گی ؟

سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بہت سے مداحوں کے خیال میں وسیم اکرم آج تک دنیا کے بہترین آل راؤنڈ ر ہیں ۔’’بیٹنگ یا فیلڈنگ سے پہلے میں اپنے ٹیکے لگانا بھولتا تھا اور نہ ہی ایک آدھ چاکلیٹ اپنے ساتھ رکھنا ‘‘۔ اگر بیٹنگ کر رہا ہوتا تھا تو یہ اشیا(چاکلیٹ یا جیلی بین)ایمپائر کے حوالے کر دیتا تھا۔  پھر وہ مسکراتے ہوئے بتاتے ہیں ’’بعض اوقات ان میں کچھ ایمپائر کی جیب سے ہی غائب ہو جاتی ہیں لیکن یہ زیادہ بڑا مسئلہ نہیں تھا ۔ بڑی بات یہ تھی کہ ساری دنیا جانتی تھی کہ وسیم کو ذیابیطس ہے اور یہی بات سب سے اہم تھی ‘‘۔

ذیابیطس کے ساتھ ان کے تجربات نے انہیں پاکستان میں ایک ذیابیطس آگہی مہم شروع کرنے پر ابھارا ، جہاں اُن کے بقول ذیابیطس کے نفسیاتی دباؤ پر قابو پانے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ میں نے بہت سے لوگوں کے سامنے اس پر بات کی ہے حتٰی کہ ایسے افراد کے سامنے بھی جومجھے ذاتی طورپر نہیں جانتے لیکن بنیادی طور پر یہ پیغام اُن کے لیے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ اگر یہ جوان ذیابیطس کے باوجود کرکٹ کھیل سکتا ہے تو ہم کیوں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ؟ اور اسی بات کے پیش نظر میں نے مہم کو جاری رکھنے کا عزم کیا تھا ‘‘۔

اب تو میں خود ایک مکمل ’’ڈاکٹر‘‘ بن چکا ہوں کیونکہ مجھے اس بارے میں اتنا علم حاصل ہو چکا ہے کہ جو عام حالت میں ممکن نہ تھا ۔مجھے یا د ہے کہ جب ذیابیطس تشخیص ہوئی توکچھ نہیں جانتا تھا ، مجھے وہ صدمہ بھی یاد ہے اور یہ سوچ بھی کہ شاید کبھی بھی خود کو ذیابیطس کے تقاضوں کے مطابق نہ ڈھال پاؤں۔ اب تویہ عالم ہے کہ کہیں جاتے ہوئے ٹوتھ برش وغیرہ اُٹھانے سے پہلے ذیابیطس نگہداشت کا سامان اپنے ساتھ رکھنے کے بارے میں سوچتا ہوں ۔

وسیم کا کیرئیر ایک زبردست سفر ہے جس میں بہت سی غیر ضروری رکاوٹیں بھی آئیں ۔عمران کے بعد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اُس وقت کپتانی جیسا ناقابل رشک فریضہ بھی سنبھالنا پڑا جب کھلاڑی شہنشاہ (عمران ) کے بعد ایک دوسرے انداز میں چلنے کے عادی ہو چکے تھے، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وسیم کے خلاف بغاوت کر دی ۔اُنہیں بیک فٹ پر جانے پر مجبور کیا گیا تاہم وہ اپنی فرنٹ فٹ کی شہرت برقرار رکھنا چاہتا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ ہراساں کرنے والے بلے بازوں کے سامنے تلوار سونتے کھڑا نظر آ تا ہے ۔

وسیم نے برسہا برس فرسٹ کلاس کرکٹ کا لطف اُٹھایا لیکن اُن میں سے بہترین لمحات کو دُہرانے میں اُنہیں بہت زیادہ وقت نہیں لگا ۔
’’1992 کا ورلڈ کپ بہت زبردست تھا ‘‘۔ وہ ان لمحات کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں جب پاکستان کی ٹیم عمران کی قیادت میں انگلینڈ کی صفوں کو درہم برہم کر رہی تھی اور آسٹریلین فلڈ لائٹ کی روشنیوں میں اُس وقت ورلڈ کپ جیتنے میں وسیم اکرم نے نمایاں کردار ادا کیا۔

کرکٹ وسیم کی گُھٹی میں پڑی ہوئی ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ اُنہیں ویون رچڑڈ جیسے کرشماتی کھلاڑی کے خلاف باؤلنگ کرنے کا موقعہ بھی ملا ہے جو ان کے نزدیک ’’دنیا کے بہترین ‘‘ بیٹسمین تھے ۔ وہ اپنے بارے میں ساری دنیا کے اس تاثر کو درست نہیں سمجھتے کہ وہ دنیا کے بہترین آل راؤنڈر ہیں ۔

وہ بڑی سادگی سے جواب دیتے ہیں’ ’نہیں ! میرے خیال میں کپل دیو اس اعزاز کے مستحق ہیں ، میں تو ان کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا‘‘۔

اس لے جنڈ کی کمال درجے کی سادہ مزاجی کے سبب شائقین اُنہیں زیادہ عرصہ کرکٹ سے دور نہیں رہنے دیں گے ۔وہ کہتے ہیں ’’میں ذیابیطس کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں لیکن کرکٹ سے میرا ناطہ بھی اٹوٹ ہے ‘‘۔ وقت گزرتا گیا ، پھر شریک حیات کی جدائی کا صدمہ سہنا پڑا ۔ آج وسیم اکرم پھر سے ایک بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ۔

Page:  | 2 | 3