میں شوگر کا مقابلہ کر سکتا ہوں تو آپ کیوں نہیں؟

’’میں نے اپنی بہترین کرکٹ شوگر ہونے کے بعد ہی کھیلی ۔‘‘
’’ذیابیطس سے بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں میری اہلیہ ہما کا بہت ہاتھ ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن سے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہما ہی وسیم اکرم کی مدد کے لیے موزوں ترین شخصیت تھیں۔‘‘

’’بیٹنگ یا فیلڈنگ سے پہلے اپنے ساتھ چاکلیٹ رکھنا نہیں بھولتا، یہ اشیا امپائر کے حوالے کرتا ہوں تو بعض اوقات ان کی جیب سے ہی غائب ہو جاتی ہیں۔‘‘ وسیم اکرم کی حِس مزاح لاجواب ہے ۔

یہ 2009ء کی بات ہے جب ڈایا بیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان میں وسیم اکرم کے ساتھ ذیابیطس پر بات چیت ہوتی رہی۔ ایک کاؤنسلر کی حیثیت سے ایک افسانوی کرکٹر کی زندگی میں چمک دھمک لانے کا بہترین موقع تھا۔ یہ سب میرے روز مرہ کام سے ہٹ کر تھا۔ روزانہ ڈایا بیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان سے نکل کر ریس کورس پارک جانا، وسیم اکرم کے ہمراہ ایک لمبی واک کرنا اور اِس دوران خوشگوار ماحول میں ذیابیطس کے اسرارورموز پر باتیں کرنا ایک زبردست معمول بن گیا۔ مزے کی بات یہ کہ لوگوں کی بے موقع دخل اندازی سے بچنے کے لیئے وسیم اکرم کے گیٹ اَپ میں کچھ تبدیلی کرنا روز کا معمول تھا۔ یہ سب کچھ بہت دلچسپ تھا کہ آج بھی اُن ملاقاتوں کی یادیں ایسے تازہ ہیں جیسے کہ یہ کل کی بات ہو۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

وسیم اکرم تب سے ہی شہ سرخیوں کا حصہ بنتے آئے ہیں جب وہ 17 برس کو چھوٹی سی عمر میں آتے ہی کرکٹ کے میدان پر چھا گئے ۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کی خبر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی اور ہم نے اسی حوالے سے وسیم اکرم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایک کرکٹ ہیرو کے طور پر ان کی زندگی کے عروج و زوال کی داستان سنی۔

جب وسیم اکرم جیسا جینئس ، سخت محنتی ، ریکارڈ ساز، انقلابی اور سب سے بڑھ کر ایک ذیابیطس ٹائپ 1 فرد کرکٹ کو خیر بار کہہ دے تو ’’ایک عہد کا خاتمہ‘‘جیسے بارہا دہرائے جانے والے فقرات بھی اپنی افادیت برقرار رکھتے ہیں کیونکہ وسیم اکرم کی شخصیت کے بارے میں شاید اس سے بہتر کوئی الفاظ لانا مشکل ہے ۔ان کی شاندار پرفارمنس کا ہم پلہ چار دانگ عالم میں ڈھونڈھنے سے بھی نہیں ملے گا ۔شاید یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں عمران اور وسیم ہی ایسے کرکٹر ہیں جنہیں بے تکلفی سے اُن کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ پہلے عمران کا ڈنکا بجتا تھا اور پھر وسیم نے اُ ن کی جگہ لینے کی کوشش کی ، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ درحقیقت یہ روئس رائس جیسا شاہانہ امیج رکھنے والے پاکستانی کرکٹ کے بادشاہ عمران ہی تھے جنہوں نے وسیم کی خصوصی سرپرستی کی ۔

وسیم اکرم جیسے زبردست کرکٹر کا کوئی ثانی مستقبل میں دیکھنے کو نہیں ملے گا جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ماضی میں بھی اُن جیسا کوئی نہیں دیکھا ۔ جب وہ 1984 میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی کرکٹ میں نمودار ہوئے توکرکٹ کے ماہرین کے بقول ’’بال پر ان کا کنٹرول فطرت کے تمام ضابطوں کو پیچھے چھوڑتا چلا گیا ‘‘۔  اس بارے میں لوگوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی بائیں کلائی کے زور پر بالنگ کی ایک بالکل نئی اور انقلابی تکنیک متعارف کرائی ہے جسے ’’ریورس سپن‘‘کہا جاتا ہے ۔ وہ ایک انسان اور کھلاڑی ہونے سے کہیں پہلے ایک ’’لے جنڈ ‘‘ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ 1997 ء میں جب لاہور میں انہیں ذیابیطس ٹائپ 1 تشخیص کی گئی تو پوری دنیائے کرکٹ سر پکڑ کر رہ گئی۔ 37 برس کی عمر میں جب وہ ریٹائر ہو رہے تھے تو بہت سی آنکھیں پُر نم تھیں اور بہت سے لوگ افسردہ جن میں خود وسیم اکرم بھی شامل تھے۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’’ذیابیطس تشخیص کے وقت مجھے سخت مایوسی ہوئی کیونکہ ہر طرح سے فٹ تھا اور پورے خاندان میں کوئی ہسٹری موجود تھی اور نہ ہی دور دور تک اس کا کوئی شائبہ ‘‘۔اُنہیں کئی مہینوں سے اندازہ تو ہو رہا تھا کہ کمزوری، وزن میں کمی ، راتوں کو بار بار اٹھ کر پیشاب کرنے جیسی علامتوں کی صورت میں کوئی گڑ بڑ تو ضرور ہے لیکن ذیابیطس کی طرف دھیان تک نہیں گیا ۔وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ بعد ازاں ہونے والی تشخیص اُن کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔ اُنہیں معلوم تھا کہ وہ کسی نہ کسی طور اس صورتحال پر قابو پا لیں گے لیکن بحالی کے عمل کو تیز تر کرنے میں ان کی اہلیہ ہما کا بہت ہاتھ تھا۔

Page:  | 2 | 3

Comments

comments