ذیابیطس مجھے ہمیشہ رہے گی لیکن میں اسے اپنی زندگی پر حکمرانی نہیں کرنے دوں گی: زیبا بختیار

زیبا بختیار کی زندگی کہ ابتدائی ایام کوئٹہ میں بسر ہوئے، زیبا فون پر کم بولتی ہیں مگر جب وہ ملی تو خاصی روانی سے باتیں کئے جا رہی تھی اور اُن کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی۔ بظاہر شوبز نے اس کی زندگی کو اپنے دائروں میں محیط کیا ہوا ہے، لیکن ان کی زندگی کے کئی پہلو نمایاں ہیں۔

زیبا بختیار نے فلمی دنیا میں آنے سے پہلے پی ٹی وی کہ ایک ڈرامے میں کام کیا ایک گھنٹے کا یہ پلے انار کلی بہت مقبول ہوا، خصوصاً اس کا وہ سین لوگوں میں آج تک نقیش ہے، جس میں زیبا کے ہاتھ کیچڑ میں لتھڑے ہوئے ہیں۔ گورے چٹے ہاتھوں میں لگا ہوا کیچڑیوں محسوس ہوتا تھا جیسے حنا بکھر گئی ہو۔

زیبا بختیار کا شمار ہمارے ملک کے نامور ستاروں میں ہوتا ہے۔ چند متنازعہ واقعات سے قطع نظر اُن کی فنی قابلیت سے انکار ممکن نہیں۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے بیک وقت ممبئی اور لاہور کی فلمی جادونگری میں اپنے فن کا لوہا منوایا۔ عدنان سمیع کے ساتھ علیحدگی کا تنازعہ اور پھر اپنے بیٹے اذان کے حصول کی قانونی لڑائی طویل عرصے تک ملکی منظرنامے پر چھائی رہی۔ ماہنامہ شوگر کے حوالے سے زیبا بختیار کا انٹرویو کرنے میں ہماری دلچسپی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ وہ ٹائپ 1 ذیابیطس ہیں۔ جب اُن سے انٹرویوکے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خوش دلی سے آمادگی ظاہر کی۔ جب اُن سے انٹرویو کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے خوش دلی سے آمادگی ظاہر کی۔

upper

Dr. Sadaqat Ali

ڈاکٹرصداقت علی، ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ پاکستان اورولنگ ویز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ہیں۔ وہ نہ صرف ملک کے ممتاز ماہرِ نفسیات ہیں بلکہ انسانوں کی عادات اور طرزِ زندگی میں صحتمند اور مثبت تبدیلی لانے کی بہترین مہارت بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈاؤمیڈیکل کالج، کراچی سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد امریکہ میں ہیزلڈن، مینی سوٹا سے کاؤنسلنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ اب تک ذیابیطس کے ہزاروں مریض اُن کی پُراثرکا ؤنسلنگ کی بدولت صحتمند اور کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

lower

مقررہ وقت پر جب ہم سمندر کنارے رہائش گاہ پر پہنچے تو وہ پہلے سے ہمارا انتظار کر رہی تھیں۔ رسمی بات چیت کے بعد ہم نے باقاعدہ گفتگو کا آغاز کر دیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ آپ کو ذیابیطس کب تشخیص ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ : آج سے ۲۵ سال قبل مجھے ذیابیطس لاحق ہوئی اس سے قبل میرے خاندان میں کسی کو ذیابیطس لاحق نہیں تھی، شروع شروع میں جب ابتدائی علامات نمودار ہوئیں تو میں ڈاکٹر کے پاس گئی، اور بہترین لیبارٹری سے ٹیسٹ کروائے لیکن اس میں کچھ نہیں نکلا۔ ڈاکٹر کی ہدایت پر تین یا چار مہینے بعد بار بار خون ٹیسٹ کرواتی رہی لیکن وہاں سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق مجھے کوئی مرض لاحق نہ تھا۔ کچھ عرصے کے بعد لاہور اپنی آنٹی سے ملنے گئی تو وہ مجھے چھوٹی سی لیب میں لے گئیں وہاں سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق میرا شوگر لیول 590 ملی گرام تھا۔

ذیابیطس کا علم ہوتے ہی آپ پر ایک بم گِر جاتا ہے اور چاروں طرف والے دوست، عزیز آپ کو مُحّبت میں گھیر لیتے ہیں۔ آپ ان کی کِسی بات کو رد کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور پھر کوئی لہسن کھانے کا مشورہ دیتا ہے کوئی کریلے کا جوس پینے کو کہتا ہے، کوئی خصوصی گلاس میں پانی پینا تجویز کرتا اور میں نے ان میں سے کوئی بھی ٹوٹکا نہیں آزمایا۔ میں مُعالج کے مشوروں پر عمل کرتی ہوں، مثلاً انسولین جاری رکھو، زیادہ پانی پیو، دھوپ میں بیٹھو، مساج کراؤ اور سادہ لذیز خوراک استعمال کرو، اس خوراک نے مُجھے کتنا سمارٹ بنایا،میں ان سب چیزوں کو انجوائے کرتی ہوں۔میں نے اپنی ذیابیطس کو اپنے بس میں رکھنے کے لیے ایسے لوگوں کی سوانح عمری کا سہارا لیا جو کہ اس مرض کے بادجود بہت ہی زیادہ نارمل اور مُکّمل زندگی گُزار رہے ہیں۔

زیبا نے بتایا کہ عام مریضوں کی طرح اس نے ذیابیطس کے علاج کے لیے کبھی ٹوٹکے استعمال نہیں کئے۔اسٹینڈرڈ میڈیکل ٹریٹمنٹ پر مُکّمل یقین رکھتی ہوں، ذیابیطس پر ماڈرن لٹریچر کا مُطالعہ کرتی ہوں اور اس سے استعفادہ کرتی ہوں۔” اب میں سمجھتی ہوں کہ ذیابیطس ایسی خوفناک بیماری نہیں بلکہ آپ جدید علاج کی بدولت ایک نارمل زندگی گُزار سکتے ہیں۔ میری موجودگی اس بات کا ثبوت ہے۔ اب تو ذیابیطس کی نگہداشت میری فطرت ثانیہ بن چُکی ہے۔

زیبا نے بتایا کہ میں ورزش کے لیے باقاعدگی سے وقت نکالتی ہوں، اکثر ایروبکس کرتی ہوں، یوگا بھی کر لیتی ہوں۔ یوگا ایسی چیز ہے جس کے لیے تو جہ کا ارتکاز بہت ضروری ہے بار بار دخل اندازی ہوتی رہے تو یوگا نہیں ہو سکتا۔ اس لیے میں یوگا صرف اس وقت شروع کرتی ہوں جب مجھے اندازہ ہو کہ آدھ گھنٹے تک کوئی فون نہیں کرے گا یا دروازے کی گھنٹی نہیں بجے گی۔

Page:  | 2 | 3 | 4

Comments

comments