انڈیا کی فلموں میں کام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے زیبا کہتی ہیں کہ وہاں کے لوگ بہت اچھے ہیں بہت پیار اور خلوص سے ملنے والے ہیں۔ پاکستانیوں سے تعصب حکومتی سطح پر تو ہو سکتا ہے لیکن عام بھارتی عوام پاکستانیوں کے بارے میں برا نہیں سوچتے۔میں کچھ عرصہ قبل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے لیے دبئی گئی تھی، ایک انڈین فلم یونٹ بھی اسی ہوٹل میں آ کر ٹھہرا ہوا تھا جہاں ہم رہائش پذیر تھے۔ اِن میں سے کچھ لوگوں کے ساتھ میں پہلے بالی ووڈ فلموں میں کام کر چکی تھی۔ وہ لوگ بار بار یہی کہتے رہے کہ تم بالی ووڈ کیوں چھوڑ کر چلی گئی، واپس آ جاؤ اور ہمارے ہاں تو یہ رویہ ہوتا ہے کہ پلیز مت آؤ، ہمیں پڑھے لکھے لوگ نہیں چاہئیں۔

پاکستان اور بھارت کی فلم انڈسٹری کا آپسی موازنہ کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ میرے خیال میں ہم لوگ میڈیا کے حوالے سے بہت پیچھے ہیں۔ محض فلمی ساز وسامان خریدنے سے ذہن یا نفسیات تبدیل نہیں ہوتی۔ اُن لوگوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ اتنی بہتر بنا لی ہے کہ وہ فلم انڈسٹری کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں کے اذہان پر حکومت کرتے ہیں لیکن ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا، شروع میں جب زی ٹی وی کا آغاز ہوا تو اِن کے پاس پروگرام نہیں تھے۔ انہوں نے ٹیلی کاسٹ کرنے کے لیے ہم سے پروگرام مانگے تھے، لیکن ہم نے انکار کر دیا۔ اگر ہم اُس وقت زی ٹی وی پر پروگرامز دے دیتے تو آج ہمارے پروڈیوسرزاِن کے دفتروں کے باہر نہ بیٹھے ہوتے۔ اعلٰی تعلیم یافتہ زیبا بختیار کو جب راج کپور فیملی نے اپنی فِلم میں ہیروئن بننے کی آفر کی تو پہلے یقین ہی نہیں آیا، راج کپور نے اِنہیں لندن کی ایک تقریب میں دیکھا تھا۔ بعد ازاں حسینہ معین زیبا کو لے کر ممبئی گئیں اور کپور خاندان سے متعارف کروایا جس وقت حنا کی اِبتدائی کاغذی تیاریاں ہو رہی تھیں اِنہیں بہت سی مُشکلات پیش آئی۔ وہ حنا کی شوٹنگ پاکستان کے شمالی علاقوں اور پشاور میں کرنا چاہتے تھے، تاکہ کہانی کو اصل مقامات پر فلمایا جائے مگر اِنہیں اِس کی اجازت نہ مِل سکی اور یوں زیبا بختیار کو فِلم کی تیاری کے لیے بھارت جانا پڑا۔ پہلی دفعہ زیادہ کام کرنے سے اِس کے ذہن پر بوجھ پڑا مگر اپنی سوجھ بوجھ سے اس نے اِتنی بڑی ٹیم کے ساتھ کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا لیکن یہی وہ دور تھا جب اچانک زیبا کو شدید تھکن ہونے لگی، اسے ہر وقت پیاس رہنے لگی، زبان پر کانٹے چُبھنے لگے، یہ زیبا کے لیے حیران کن تھا۔ دِن رات شوٹنگ کی اور شوگر کے اُتار چڑھاؤ۔۔۔

یہ سب کُچھ زیبا کی سکت سے زیادہ اس نے فوری طور پر انڈین ڈایا بیٹکس ایسوی ایشن کے صدر ڈاکٹر بجاج سنگھ سے رابطے کی کوشش کی وہ نہ مل سکے لیکن اُن کے اسسٹنٹ نے زیبا کو انسولین کی ڈوز ایڈجسٹ کرنے میں کچھ مدد فراہم کی۔ یہاں زیبا کو بتایا گیا کہ اسے روزانہ انسولین کے ٹیکے لگوانا پڑیں گے۔ میں نے کبھی سوئی نہیں لگوائی، کیا میں انسولین پی نہیں سکتی؟ ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا گھبراؤ نہیں انسولین لگانے کے لئے کوئی بڑی یا خوفناک سوئی درکار نہیں ہوتی اور اس کی تکلیف اتنی بھی نہیں ہوتی جتنی کہ جسم پر ایک چٹکی کاٹنے سے ہوتی ہے ایک ہفتے بعد زیبا کو محسوس ہوا کہ اب نہ تو اسے باربار پیاس لگ رہی ہے اور ٹانگوں میں رہنے والا درد بھی نہیں ہو رہا بہت ہی جلد زیبا کی صحت بیتر ہونے لگی، لیکن شوگر کے اتار چڑھاؤ اب بھی اسے پریشان کر رہے تھے، شوگر بڑھی ہوتی تو غنودگی رہتی شوگر کم ہونے سے پسینے آتے لیکن گزارہ مزارہ ہو رہا تھا۔ زیبا کے بھائی ڈاکڑ سلیم بختیار امریکہ میں رہتے تھے انہوں نے فوری طور پر زیبا کو وہا ں بلایا اس کا تفصیلی معائنہ ہوا ذیابیطس ٹائپ ون تشخیص کی گئی نئے سرے سے انسولین تھراپی شروع ہوئی۔ پھر ایک دن زیبا بہت بری حالت میں جناح پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں آئی، اس کا برا حال تھا سارے جسم پر دانے نکلے ہوئے تھے۔ جس حسین ساحرہ کو میں نے دیکھا تھا اس کے حسن کو گرہن لگا ہوا تھا۔ یہ زیبا سے میری دوسری ملاقات تھی، یہاں پر سینئر معالج نے اس کا بھرپور علاج کیا۔ زیبا نے ایک سوال کے جواب میں کہا مجھے اپنا خیال خود رکھنا پڑتا ہے کیونکہ دوسری صورت میں اپنا کام نہیں کر سکتی۔ میں کبھی شوگر کی وجہ سے کام سے دُور نہیں ہو سکتی، ذیابیطس ہونے پر میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ اس کے علاج کیے لے اور بھی بہتر طریقے ہو سکتے ہیں اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ آخر روزانہ انسولین کیوں لینی پڑتی ہے کیونکہ ہر دن تو ایک جیسا نہیں نہ ہوتا۔ یہ تو مجھے بعد میں پتا چلا کہ ساری زندگی انسو لین کے انجکشن لینے ہیں۔ اب یہ میرے لئے ایسے ہی ہے جیسے میں روزانہ اپنے دانت صاف کرتی ہوں اور پھر آہستہ آہستہ زیبا کے لئے بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئیں، اسے خود انسولین ڈوز ایڈجسٹ کرنے کا فن آ گیا۔

پاکستان فلم انڈسٹری کی پسماندگی کے بارے میں زیبا گہرا انداز فکر رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ “یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری میں کوئی بھی پاکستان کی بہتری نہیں چاہتا۔ کچھ عرصہ قبل میں نے ایک فلم بنائی، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے ساتھ کام کرنے والے 95% لوگوں نے بہت بے ایمانی کی۔ انہوں نے تکنیکی آلات کو خراب کرنے کی کوشش کی اور ڈسٹریبیوشن میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ اصل میں ہمارے اپنے لوگ ہی فلم انڈسٹری کی ترقی کے خلاف ہیں لیکن مین کسی کا نام نہیں لینا چاہتی ہوں۔

جب اُن سے پوچھا گیا کہ آج تک فلم کے مقابلے میں پاکستانی ڈراموں کی کارکردگی بہتر ہونے کی وجہ کیا ہے تو انہوں نے کہا ٹی وی ڈرامے تو ہمارے ہاں بہت اچھے بنائے جاتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ ٹی وی پلے کو کسی فلم فیسیٹول میں نہیں بھیجا جا سکتا، اس کے لیے ہمیں اپنی فلم انڈسٹری کو ہی ترقی دینا ہو گی۔ ہمارے ملک میں اب بھی بہت سے لوگ موجود ہیں جن میں فلم اندسٹری کو ترقی دینے کا جذبہ اور صلاحیت موجود ہے لیکن اُن کو آگے آنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ اس معاملے میں ہماری حکومت کا بھی قصور ہے، اگر حکومت فلم انڈسٹری کو سپورٹ کرے، اسے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے تو بہتری آ سکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو تاریخی مقامات پر شوٹنگ کی اجازت تک نہیں دی جاتی، کوئی ان سے پوچھے کہ کیا ہم وہاں کی اینٹیں اتار کر لے جائیں گے۔ زیبا سے میری دوسری ملاقات ایورنیوسٹوڈیو کے مالک کے گھر ہوئی، سجاد گل محفل سجائے ہو ئے تھے کہ یکایک زیبا کا رنگ پیلا ہونا شروع ہو گیا۔ اس نے سجاد گل سے کہا کہ تھوڑی سی میٹھی چیز منگوائیے۔ سجاد نے فوراً بازار سے مٹھائی منگوا بھجی۔ زیبا چینی کے انتظار میں تھی، تھوڑی ہی دیر میں وہ پسینے سے بھیگ گئی۔ اس نے دوبارہ چینی لانے کے لیے کہا۔ اس دفعہ اس کے لہجے میں کچھ تلخی تھی سجاد گل نے کہا کہ مٹھائی منگوائی ہے، زیبا نے کہا کہ مٹھائی کس خوشی میں منگوائی ہے؟ مجھے ذیابیطس ہے اور میری بلڈشوگر گر گئی ہے، ہائیپو ہو گیا ہے اور فوری چینی چاہے۔۔۔ بھاگ دوڑ ہوئی اور چینی مہیا ہو گئی۔

Page:  | 2 | 3 | 4