پھر میں نے زیبا کو عدنان کے ساتھ لاہور اسلام آباد جانے والی ایک فلائیٹ میں دیکھا۔ یہ ان کی چاہت کے آغاز کا دور تھا۔ عدنان پاگلوں کی طرح زیبا کو پسند کرتا تھا اور ہر وقت اس کے گُن گاتا رہتا تھا۔ کھانے پر ہوٹلوں میں بیٹھتے تو وہ بیسیوں ڈشوں کا آرڈر دے دیتا، پوری رات اسے گانا سناتا جس میں اس کے حسن کے قصیدے پڑھتا۔ ہالینڈ سے خاص طور پر زیبا کے لئے ٹیولپ منگوائے جاتے۔ عدنان کے والد اس وقت سویڈن میں پاکستان کے سفیر تھے پھر ان کی شادی ہو گئی۔اسلام آباد میں دونوں میں بہت پیا ر رہا پھر ان کی شادی ہو گئی۔ کافی عرصے تک، پھر بُرا دور شروع ہو گیا۔ عدنان کی تمام بہنیں زیبا کے خلاف تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ عدنان زیبا سے عمر میں بہت چھوٹا ہے اور اس نے ہمارے بھائی کو پھانس لیا ہے۔ زیبا بھی عدنان سے اپ سیٹ رہنے لگی کیونکہ وہ بہت کھاتا تھا اور بے تحاشا ڈرنک کرتا تھا پھر عدنان کے ساتھ جھگڑے شروع ہو گئے اور وہ بیٹے اذان کو دبئی لے گیا۔ زیبا ڈپریشن میں چلی گئی اور گم سم رہنے لگی۔ اذان کی بازیابی کے لیے ساری فائٹ زیبا کی بہن سائرہ بختیار نے کی جو وکیل ہے اور جس کے ساتھ زیبا سی ویواپارٹمنٹس بلاک 2 میں دوسرے فلور پر رہتی تھی۔

عدنان سمیع کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا لہجہ تلخ ہو جاتا ہے۔ اُن کا کہنا ہے یہ سچ ہے کہ شادی سے پہلے عدنان سمیع میری بہت آؤ بھگت کرتا تھا، دراصل اس کو توقع تھی کہ میں اس کے کیرئیر کی ترقی میں بہت اہم کردار ادا کر سکتی ہوں۔ آج بھی اس کے عروج کے پس منظر میں جو کچھ ہے، میں سب جانتی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت وہ جن لوگوں کے ساتھ انڈیا میں کام کر رہا ہے۔ ان سے میں نے ہی اسے متعارف کروایا تھا، لیکن مجھے اس کا افسوس نہیں۔ میں تو صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ اذان کے لیے، اپنے بیٹے کے لیے تھوڑا سا بہتر رویہ اپنائے۔

اذان کو حاصل کرنے کے لیے لڑی گئی طویل قانونی لڑائی کے بارے میں اُنہوں نے بتایا کہ ”مُجھے اِس لڑائی میں جیت کی توقع نہیں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت مدد مِلی۔ میری فیملی خاص طور پر والدہ نے بہت دعائیں مانگیں، اذان کو حاصل کرنا میری ضِد ہر گز نہیں تھی، مُجھے سمجھ نہیں آتی ایک ماں سے کِس طرح یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے بچّے کو چھوڑ دے۔ ایک ماں ایسا کِسی صورت نہیں کر سکتی، ایسا مُمکن ہی نہیں ہے۔

اپنے بیٹے کے بارے میں گُفتگو کرتے ہوئے زیبا کے لہجے میں خود بخود ایک ممتا بھری مُحبّت عود آتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ” میرا بیٹا اب ماشا ءَ اللہ جوان ہو چُکا ہے۔ پہلے تو اس کے سارے کام میں خود ہی کرتی ہوں۔ اس کے کھانے کا بندوبست کرتی ہوں، ہوم ورک بھی کروا دیتی ہوں لیکن چونکہ اسے خودمُختار زندگی گُزارنے کے قابِل بنانا بھی بہت ضروری ہے اس لیے روزمرّہ زندگی کے بہت امور نپٹانے کے لیے میں نے اِسے آزادی دے رکھی ہے۔ میں نے شروع سے ہی یہ کوشش کی ہے کہ اذان کے سامنے اِس کے باپ کی برائی نہ ہو لیکن اِس کے باوجود وہ اپنے باپ کو اچھّا نہیں سمجھتا اور اس کی وجہ صرف عدنان سمیع کا رویہ ہے۔

ہمارے مُلک کی سیاست کے بارے میں زیبا بختیار کے خیالات زیادہ مثبت نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ”پہلے تو صرف زیادہ میڈیا اور فِلم انڈسٹری میں ہی بُرے لوگ ہوتے تھے لیکن اب سیاست میں اِن سے بھی زیادہ غلط لوگ مِلتے ہیں، جِتنی انرجی میں سیاست میں آ کر ضائع کروں گی، اگر میں وہی شوگر کے مریضوں کی بہتری کے لیے اِستعمال کروں گی تو کم از کم کُچھ لوگوں کو تو فائدہ ہوگا، اِس لیے میں سمجھتی ہوں کہ سیاست میں پڑنا سراسر گھاٹے کا سودا ہے، مُجھے پتا ہے کہ میں رشوت نہیں لے سکتی اور نہ ہی اپنے ضمیر کے ساتھ بے ایمانی کر سکتی ہوں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت مُجھے سیاست میں اپنے لیے کوئی جگہ نظر نہیں آ رہی۔ “زیبا بختیار کے والد یحییٰ بختیار پاکسِتان کے اٹارنی جنرل رہ چُکے ہیں۔ کافی عرصہ پہلے اُن کا اِنتقال ہو گیا۔ اپنے والد کے مُتعلق گُفتگو کرتے ہوئے وہ افسردہ ہو گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “والد کی وفات کے بعد میری زندگی میں بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اب اکثر عدم تحفّظ کا احساس رہنے لگا ہے۔ دراصل میری شخصیّت کی تشکیل میں ان کا بڑا اہم کِردار رہا۔ عرصے تک میرا یہ معمول تھا کہ میں اکثر ان کے ساتھ کھانا کھاتی، اُٹھتی بیٹھتی اور تقریبات میں ان کے ساتھ ہی شریک ہوا کرتی تھی۔ اب تو میرے لیے ان کمروں میں جانا بھی دُشوار ہو گیا ہے جہاں پر وہ بیٹھتے یا سوتے تھے، اُن جگہوں کو خالی دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا ہے۔”

اپنے والد کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث زندگی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں گُفتگو کرتے ہوئے زیبا کا کہنا ہے ”آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ ابّو کی سیاسی سرگرمیوں کے باعث میرا پہلا اریسٹ وارنٹ 12 سال کی عُمر میں ایشو ہوا تھا۔ وارنٹ لے کر پولیس گھر پہنچ گئی، اُنہوں نے کہا کہ زیبا بختیار کہاں ہے؟ اُسے باہر بُلاؤ جب میں باہر نِکلی تو اُنہوں نے دیکھا کہ یہ تو بچّی ہے لہٰذا مایوس ہو کر لوٹ گئے۔ مُجھے یاد ہے کہ کوئٹہ میں میرے بھائی میڈیکل کالج میں جبکہ میں سکول میں زیرِ تعلیم تھی، اُس وقت پولیس اور انٹیلی جنس کی چار جیپیں ہمہ وقت ہمارے گھر کے باہر کھڑی رہتی تھیں۔ ہم سکول جاتے تو بِلاوجہ ہمارا پیچھا کیا جاتا تھا۔ آخر میں ہم نے شغل بنا لیا کہ بِلاوجہ کوئٹہ کی گلیوں میں گاڑی گُھماتے رہتے، انٹیلی جنس والے بھی ہمارا تعاقب کرتے، اُن کو گلیوں میں خوب گُھما پِھرا کر ہم خوشی خوشی واپس لوٹ آتے تھے، اب بھی میرا انداز ہے کہ میرے ٹیلیفون ٹیپ کیا جاتا ہے لیکن مُجھے اس کی پرواہ نہیں۔ نہ تو پہلے کوئی جُرم کیا تھا اور نہ ہی اب ایسا اِرادہ ہے۔”

Page:  | 2 | 3 | 4