اپنے والد اور بھٹو کے تعلق کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اُنہوں نے بتایا کہ “میرے والد اپنے جذبات اور احساسات چُھپانے والے شخص تھے تاہم میں جانتی ہوں کہ بھٹو کی پھانسی پر اُنہیں بہت دُکھ ہوا تھا، یہ ان کی زندگی میں آنے والا بہت بڑا صدمہ تھا۔ میں نے بہت کم اپنے والد کی آنکھوں میں آنسو دیکھے ہیں، وہ بہت ضبط رکھنے والے شخص تھے لیکن بھٹو کی پھانسی پر میں نے اُنہیں روتے ہوئے دیکھا۔”

نئے چینلز کے حوالے سے پُوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے بتایا کہ “اُس وقت پاکستان میں نئے چینلز آ رہے ہیں لیکن ان کے پروگراموں پر بھی انڈیا اور مغربی مُمالک کی چھاپ واضح نظر آتی ہے۔ ہمارے پاس ایک بھر پُور ثقافتی ورثہ موجود ہے لیکن ہم اسے دُنیا کے سامنے پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا میں سے جو لوگ فِلم انڈسٹری کی ترقّی چاہتے تھے انہیں نِکال باہر کیا گیا اور ان کی جگہ ایسے لوگ آ چُکے ہیں جِن کا فِلمی دُنیا سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اب تو فِلم سٹوڈیوز میں اکثر بدمعاش قسم کے لوگ آتے جاتے نظر آتے ہیں، حتّیٰ کہ ٹی وی پر بھی یہی لوگ اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کوئی بھی انڈین فِلم دیکھ لیں ہر چوتھے پانچویں سین یاگانے میں انڈیا کا ذکر آئے گا یا وہ اپنے مذہب کو مثبت پیرائے میں پیش کرتے ہیں۔ ہماری فلموں میں نہ تو کوئی پاکستان کو پوچھتا ہے اور نہ ہی مذہب کی بات کی جاتی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ مختلف ملکوں کی ثقافتی یلغار ہمارے معاشرے پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے تو انہوں نے کہا “آج کی دنیا میں فلموں کا مقصد محض تفریح نہیں رہا بلکہ مختلف ممالک اپنی ثقافت کو فلموں کے زریعے دوسروں پر ٹھونسے کی کوشش کر رہے ہیں۔انڈیا کی فلمیں واضح مثال ہیں وہ ہمیشہ اپنے کلچر کو تقویت دیتے ہیں۔ شاید عنقریب آپ سنیں گے کہ لوگ نکاح کے علاوہ پھیرے بھی لے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں تو اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو میڈیا کے زریعے ترقی دینے کا کوئی رواج موجود ہی نہیں”۔

اپنی مصروفیات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ فارغ وقت میں کتابیں پڑھتی ہو یا اپنے بیٹے کے ساتھ وقت گزارتی ہوں۔ ٹیلیویژن نہیں دیکھتی اور میوزک سننے کا شوق بھی بہت کم ہے۔”

اپنی خوراک اور فٹنس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے زیبا نے کہا “خوراک کے معاملے میں خاص ڈائیٹ پلان فالو کرتی ہوں متوازن غذا کھا کر خود کو فٹ رکھتی ہوں۔ جہاں تک ایکسر سائز کا تعلق ہے تو یوگا اور رننگ مجھے فٹ رکھنے کیلئے کافی ہیں۔ میں اچھی نیند کی قدرو قیمت بھی جانتی ہوں۔ آپ رات کو پرسکون نیند سو جائیں توصبح آپ بہتر دکھائی دیں گے۔ آپکا چہرہ آپ کے اندر کی عکاسی کرتا ہے۔ جس دن آپ ناخوش یا پریشان ہونگی آپکی جلد مرجھائی لگتی ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ پریشانیوں کے ساتھ نبردآزما رہیں، مشکلات کو زندہ ہونے کی دلیل سمجھیں، زندگی کو مثبت لیں، پھر آپ کی زندگی زبردست ہے۔”

شوگر کے مریضوں کی بہتری کیلئے وہ کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ “شوبز سے تعلق رکھنے والے لوگ جب فلاحی کاموں کی طرف آتے ہیں تو میڈیا پر اس کی بھر پور پبلسٹی کی جاتی ہے لیکن مجھے پبلسٹی کی کوئی خواہش نہیں، میں تو مثبت نتائج حاصل کرنے پر یقین رکھتی ہوں۔ اگر میری کاوشوں سے شوگر کے مریضوں کو فائدہ ہو گا تو میں سمجھوں کہ میرا مقصد پورا ہو گیا، بے شک مجھے اس کا کریڈٹ نہ بھی ملے۔”

وہ ا یک بہت خوبصورت شام تھی، کراچی کے فائیو سٹار ہوٹل میں زیبا چیف گیسٹ تھیں۔ یہ فنکشن ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر 14 نومبر کو ہو رہا تھا۔ پاکستان ڈایا بیٹکس کے صدر پروفیسر ڈاکٹر صمد شیرا نے زیبا کا تعارف پورے فخر سے کرایا، یہ زیبا کی سالگرہ کا بھی دن تھا۔ 14 نومبر۔ ہوٹل انتظامیہ نے اس کے لئے ہوٹل کی تاریخ کاسب سے بڑا کیک بنایا تھا۔ اس سیمینار میں ڈاکٹروں، ذیابیطس افراد اور حاضرین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کیا۔ جس میں زیبا نے کہا۔ “جب بھی ضرورت پڑی میں ذیابیطس مریضوں کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں گی۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے آپ خوفزدہ ہو جائیں لیکن یہ ایسی چیز بھی نہیں ہے جس میں آپ لاپرواہی برتیں، میں ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزارتی ہوں جیسے ذیابیطس نہیں ہے۔ میں اپنے اندر کے چھوٹے سے بچے کی آواز دھیان سے سنتی ہوں، میں ذیابیطس کی بھرپور مزاحمت کروں گی، میں اپنی صلاحیتوں کے ساتھ میں اس سے نبردآزما ہوں، میں زندگی کا بھر پورلطف اٹھاونگی، ذیابیطس مجھے ہمیشہ رہے گی لیکن میں اسے اپنی زندگی پر حکمرانی نہیں کرنے دوں گی۔ اس دن مجھے لگا کہ وہ ذیابیطس کے چیلنج پر پورا اُتر رہی ہیں۔

Page:  | 2 | 3 | 4