ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

پہلا تاثر

4

مقررہ دن ٹھیک چھ بجے وہ ڈاکٹر صاحب کے کلینک پہنچ گیا۔ اس نے ایک چھوٹے سے کمرے میں چند لوگوں کو بیٹھے دیکھا۔ کمرے کے ایک کونے میں میز کے پیچھے ریسیپشنسٹ فون پر کسی سے گپ شپ میں مصروف تھا۔ جاوید اس کے پاس پہنچ کر کھڑا ہو گیا اور فون کے ختم ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ ریسیپشنسٹ نے جاوید کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے تو کچھ عرصے اپنی گپ شپ کا سلسلہ جاری رکھا، پھر فون پر ہاتھ رکھ کر بولا’’جی؟‘‘

’’میرا نام جاوید ہے اور آپ نے مجھے چھ بجے کی اپوائنٹمنٹ دی تھی۔‘‘

’’ڈاکٹر صاحب ابھی تشریف نہیں لائے، آپ بیٹھیں ‘‘ ریسیپشنسٹ نے مختصر جواب دیا اور دوبارہ فون پر مصروف ہو گیا۔

جاوید دیواروں سے لگے فو م کے بینچ پر بیٹھ گیا اور کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ اسے حیرانی ہوئی کہ اتنے مشہور فزیشن کے ویٹنگ روم کی صفائی اور عمومی حالت زیادہ اچھی نہیں تھی۔ ایک دیوار پر پچھلے سال کا کیلنڈر لٹکا تھا۔

کچھ دیر بعد تقریباً پچاس سالہ بارعب شخصیت کمرے میں داخل ہوئی۔ ریسیپشنسٹ نے بھاگ کر ملحقہ کمرے کا دروازہ کھولا۔ ڈاکٹر صاحب مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تیزی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ریسیپشنسٹ نے اپنے نزدیک بیٹھے ہوئے ایک شخص کواندر جانے کا اشارہ کیا۔

یہ بد نظمی جاوید کیلئے غیر متوقع نہیں تھی۔ وہ کوفت اور بے چینی سے اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔ کوئی پانچ منٹ بعد جب پہلا مریض باہر آیا توریسیپشنسٹ نے ایک دوسرے مریض کو اندر جانے کا اشارہ کیا۔ کافی انتظار کے بعد جاوید کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ اس نے ریسیپشنسٹ کو یاد دلایا کہ میرے ساتھ چھ بجے کا وقت مقرر تھا۔جاوید کی ناگواری کو محسوس کرتے ہوئے ریسیپشنسٹ نے اس کو اندر بجھوا دیا۔

Comments

comments