ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

خود فریبی

7

جاوید خیالوں میں گم ڈاکٹر صاحب کے کمرے سے باہر آیا تو ریسیپشنسٹ نے انگشت شہادت کو انگوٹھے سے مسلتے ہوئے فیس کیلئے اشارہ کیا۔

’’فیس؟ میں توآج صرف رپورٹ دکھانے آیا تھا‘‘ جاوید نے کہا۔

’’فیس تو ہر دفعہ لی جاتی ہے‘‘ ریسیپشنسٹ نے بتایا۔

’’کتنی؟‘‘ جاوید نے ناگواری سے پوچھا۔

’’ایک ہزار‘‘ اس نے بائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو نچایا اور فضا میں بلند کر دیا۔‘‘

’’جاوید نے پیسے دے دیئے لیکن سوچا کہ ٹیسٹ رپورٹ دیکھنے پر دوبارہ پوری فیس لینا زیادتی ہے، اس کے خیال میں یہ ایک ہی مشورے کا تسلسل تھا، جاوید اپنا اعتبار بحال نہ رکھ سکا۔ وہ سوچنے لگا‘‘ کچھ ڈاکٹر صرف پیسے پر نظر رکھتے ہیں اور مقصد کو بھول جاتے ہیں، نا جانے کیوں؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کرکٹر بال پر نظر رکھنے کی بجائے سکور بورڈ کو تکتا رہے، اس طرح تو وہ بہت جلد بولڈ ہو جائے گا‘‘۔

’’جب جاوید کلینک سے باہر آیا تو اسے اس بات کا بھی یقین نہ تھا کہ وہ ذیابیطس میں مبتلا ہے۔ اس نے ذیابیطس سے متعلقہ دوا لی اور نہ ہی کسی سے ذکر کیا۔ جاوید کا خیال تھا کہ اسے محض معمولی زخم ہے اور خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے۔ وہ سوچنے لگا کہ ذیابیطس کے مریضوں کا حال تو بہت برا ہوتا ہے جبکہ میرا زخم چند دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔

Comments

comments