ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

پریت کا نظام

” بالکل یہی بات ہے” ڈاکٹر خرم نے کہا ”کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے کیسے پرکھا جاتا ہے، اسی لئے میں پیروی کے بارے میں اتنا پر جوش ہوں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ ذیابیطس سے بحالی کی ابتدائی تربیت سے کہیں زیادہ وقت پیروی پر خرچ کرنا چاہیے ورنہ لوگ کچھ ہی عرصے میں اپنے سابقہ رویوں کی طر ف پلٹ جائیں گے۔”

جاوید مسکرایا اور کہا ”زیادہ تر ہسپتالوں کی بے مقصد افراتفری تو کچھ اور ہی پیش کرتی ہے۔”

” اس ”افراتفری کا پھندہ؟”جاوید نے حیران ہو کر کہا۔

” اس سے کیا ہو گا؟” جاوید نے پوچھا۔

” یہ وہاں ہوتا ہے جہاں مریض اپنی دانست میں بہتری کیلئے بھاگ دوڑ کر رہے ہوتے ہیں اور کوئی ذرادیر رُک کر یہ جائزہ نہیں لیتا کہ دراصل ذیابیطس سے بحالی ممکن کیسے ہے؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ ”پریت کا نظام” سمجھ لیں تو آپ کو بہت مدد ملے گی۔”

” جو حکمِ حاکم ……” جاوید نے انکساری سے کہا ”لیکن پریت کا نظام ہے کیا؟”

Comments

comments