ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

اکبر پوان کون تھا؟

ڈاکٹر خرم نے ہنسنا شروع کر دیا ’’میں جانتا تھا کہ جلد کوئی آپ کو اکبر پوان کے متعلق بتا دے گا، آپ بیٹھ جائیے میں بتاتا ہوں۔‘‘

’’ جب میں پہلی بار یہاں آیا تھا تو جلد ہی میرا واسطہ اکبر پوان سے پڑ گیا۔ اس کا اصل نام اکبر پہلوان ہے لیکن لوگ روانی میں اسے اکبر پوان کہتے ہیں، اکبر پوان کی کہانیاں دور دور تک پھیلی ہوئی ہیں، وہ عصر حاضر کی بہت مشہور ہستی ہے۔ مثال کے طور پر مجھے بتایا گیا کہ ایک دن اسے ڈاکٹر شریف پر غصہ آ گیا تو وہ صبح سے شام تک میٹھی چیزیں کھاتا رہا، میں نے بعد ازاں اس کہانی کو چیک کیا تو پتہ چلا کہ یہ حرف بہ حرف سچ تھی۔‘‘

’’ کیا کوئی ایسے بھی کر سکتا ہے؟‘‘جاوید نے پو چھا۔

’’ اکبر پوان قریباً 6 فٹ 3 انچ لمبا اور خاصہ موٹا شخص ہے، جب ہماری 42 انچ چوڑی میٹنگ ٹیبل پر بیٹھتا تو قریباً میز جتنا چوڑا نظر آتا، اس کے بازو میری رانوں جتنے موٹے تھے، اس کا سر اس کے کندھوں پر گردن کے بغیر ہی فٹ تھا-‘‘

’’اس کی شخصیت کا خاکہ اتنا دلکش تو نہیں؟‘‘ جاوید نے کہا۔

’’ ہاں! وہ پرکشش نہیں ہے۔۔۔یا کم از کم پہلے نہیں تھا‘‘ ڈاکٹر خرم نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ‘‘میں پہلی بار اکبر پوان سے مریضوں کو ایک تربیتی سیشن میں ملا تھا۔ میں میٹنگ روم میں تربیت دینے کا تعلیمی مواد سیٹ کر رہا تھا، اچانک محسوس کیا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے، میں مڑا اور وہاں اکبر پوان میٹنگ روم میں ایک کونے میں تنہا براجمان تھا۔‘‘

آپ نے کیسے جانا کہ وہ اکبر پوان ہی ہے؟‘‘جاوید نے سوال کیا۔

’’ خصوصاً اس وقت جب مجھے اپنی مسکراہٹ کا کوئی جواب نہ ملا اور اس کی آنکھیں میرے جسم کے آر پار اُتر گئیں‘‘ ڈاکٹر خرم نے کہا ،’’ تو بس میں سمجھ گیا۔‘‘

’’مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے میں کسی پراسرار کہانی کی طرف بڑھ رہا ہوں‘‘ جاوید نے بات کاٹتے ہوئے پو چھا، ’’ پھر آپ نے کیا کیا؟‘‘

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4

Comments

comments