ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

امید کی کرنیں

’’بہت بہت شکریہ‘‘ جاوید نے ممنون ہوتے ہوئے کہا ’’ لیکن آپ کو کیسے پتا چلا کہ مجھے ذیابیطس ہے اور اس وقت میری بلڈ شوگر کم ہو گئی ہے۔‘‘

’’میں ماڈل ڈایا بیٹک ہوں‘‘ خالد محمود نے کہا۔

’’آپ کیا ہیں؟‘‘ جاوید نے حیران ہو کر پوچھا۔

’’میں ماڈل ڈایابیٹک ہوں، مجھے اپنی بلڈ شوگر پر قابو رکھنے میں مہارت حاصل ہے۔ مجھے بلڈ شوگر کم ہونے کا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ اسے ’’ہائیپو‘‘ کہتے ہیں۔ مجھے ’’ہائیپو‘‘ کی تمام علامات بتائی گئی ہیں، اس لئے یہ میرے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ ‘‘

جاوید کو اطمینان اور تسلی کااحساس ہوا کہ کوئی تو ہے جو اس کے مسئلے کو سمجھتا ہے۔

’’خالد صاحب! لگتا ہے آپ کے ڈاکٹر نے آپ کے مسئلے کو اچھی طرح سمجھا ہے‘‘ جاوید نے کہا۔

’’جی! میں نے خود اپنے مسئلے کو اچھی طرح سمجھا ہے‘‘ خالد نے جواب دیا۔

’’کیا کہا؟‘‘ جاوید کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔

’’جی میں ایک سسٹم سے منسلک ہوں‘‘ خالد نے جاوید کی حیرانی میں مزید اضافہ کر دیا ’’ذیابیطس دراصل ایک جسمانی بگاڑ کا نام ہے۔ اس لئے علاج میں ڈاکٹر کی بجائے مریض اپنی بیماری کی نوعیت کو سمجھے اور اس کی ذمہ داری قبول کرے تو علاج زیادہ مؤثر رہتا ہے۔ میں جس سسٹم کی بات کر رہا ہوں اس میں ماہر ذیابیطس صرف تشخیص اور علاج کا منصوبہ دیتا ہے، پھر بھی مریض کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ماہرین کی ایک ٹیم اس منصوبے پر عمل درآمد کی پابند ہوتی ہے۔ خود مریض ایک دوسرے کی بہت مدد کرتے ہیں۔ اس لئے ہم علاج کا کریڈٹ کسی ایک کی بجائے سسٹم کو دیتے ہیں۔ عام امور میں نچلی سطح پر نپٹا جاتا ہے۔ بشرطیکہ مریض کی فلاح و بہود کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو، اس طرح خاص امور کیلئے ڈاکٹروں کے پاس زیادہ وقت بچتا ہے۔ جس حد تک ہو نگہداشت کے امور مریضوں کے ہاتھ میں دیے جاتے ہیں اور جس حد تک ضروری ہو راہنمائی کے امور ڈاکٹر اپنے ہاتھوں میں رکھتے ہیں۔‘‘

’’کہیں آپ ڈایابیٹکس انسٹیٹیوٹ کی بات تو نہیں کر رہے؟‘‘

Comments

comments