ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

پہلا راز: ذمہ داریوں کا تعین

جاوید نے طفیل صاحب کو فون کیا اور ان سے وقت مانگا۔

’’آپ جب چاہیں تشریف لائیں، میرے پاس وقت ہی وقت ہے۔‘‘

فون رکھتے ہوئے جاوید نے سوچا ’’خوب جمے گی۔‘‘

جب جاوید طفیل صاحب کے کمرے میں پہنچا تو اس نے ایک ادھیڑ عمر آدمی کو مسکراتے ہوئے پایا ’’اچھا تو آپ ڈاکٹر خرم سے مل چکے ہیں، بڑی مرنجان مرنج شخصیت ہیں وہ، ہیں نا؟‘‘

’’ایسی ہی بات لگتی ہے‘‘ جاوید نے جواب دیا۔

’’کیا آپ خالد صاحب سے بھی مل چکے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں‘‘

’’کیا انہوں نے آپ کو بتایا ہے کہ وہ ماڈل ڈایابیٹک ہیں۔‘‘

’’بالکل انہوں نے بتایا ہے لیکن یقین نہیں آتا، کیا واقعی ایسا ہے؟‘‘ نوجوان نے پوچھا۔

’’بہتر ہے کہ آپ مان ہی لیں، ہر چند کہ وہ ادارے میں آتے رہتے ہیں لیکن صرف دوسروں کی خدمت کیلئے۔ اپنی ذات کیلئے وہ ڈاکٹر کے ساتھ بہت کم وقت گزارتے ہیں، دراصل وہ نئے مریضوں کی تربیت میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔‘‘

’’کیا مریضوں کی تربیت سے کوئی فرق پڑتا ہے؟‘‘

’’ہاں‘‘ طفیل صاحب نے کہا ’’دیکھیں! اپنے علاج کا تجربہ مجھے بتاتا ہے کہ ذیابیطس سے بحالی کے بارے میں میرا تصور اور ڈاکٹر کی سوچ میں بڑا فرق تھا۔ کئی دفعہ محض لاعلمی کی وجہ سے میری بیماری بڑھ جاتی تھی۔‘‘

’’کیا یہاں بھی کسی وقت ایسا ہوتا ہے؟‘‘ جاوید صاحب نے پوچھا۔

’’نہیں‘‘ طفیل صاحب نے کہا ’’ایسا یہاں کبھی نہیں ہوتا‘‘ طفیل صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ’’لوگوں کو ذمہ دار بنانے کا بس ایک ہی طریقہ ہے انہیں ذمہ داریاں دے دیں۔ ذمہ داریاں خصوصی رویوں کو جنم دیتی ہیں، نتائج خصوصی رویوں کو قائم رکھتے ہیں۔ یہاں ذمہ داریوں کا تعین کیا جاتا ہے۔‘‘

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6

Comments

comments