ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

دوسرا راز : حوصلہ افزائی

طفیل صاحب کے دفتر سے نکلتے ہوئے جاوید نے سوچا ’’چونکہ ذیابیطس دائمی مرض ہے اس لئے یہ یقیناً سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ آخر کوئی اس وقت تک ذیابیطس پر قابو کیسے پا سکتا ہے جب تک وہ مرض کی نوعیت اور علاج کا صحیح طریقہ اچھی طرح سے نہ جان لے؟‘‘ جاوید نے عمارت کا راستہ طے کیا اور دوسری منزل پر جانے کیلئے لفٹ پکڑی۔ جب وہ لئیق کے دفتر پہنچا تو وہ اس کی کم عمری سے بہت متاثر ہوا۔ لئیق شاید تیس کے لگ بھگ ہو گا۔

’’اچھا، آپ ڈاکٹر خرم سے مل چکے ہیں؟ بڑی مرنجان مرنج شخصیت ہیں وہ! کیا خیال ہے؟

کیا آپ خالد صاحب سے ملے؟ کیا انہوں نے ماڈل ڈایابیٹک ہونے کا بتایا؟‘‘

’’بالکل انہوں نے کہا تو تھا لیکن یقین نہیں آتا‘‘ جاوید نے کہا۔

’’آپ کو یہ بات ماننی ہی پڑے گی ، میں نے کبھی ان کی طبیعت خراب نہیں دیکھی۔‘‘

’’آپ بھی تو بہت فٹ نظر آ رہے ہیں‘‘ جاوید نے کہا۔

’’جی ہاں! باکل‘‘ لئیق نے انکشاف کیا ’’دراصل جب میں پہلی دفعہ علاج کیلئے آیا تھا تو ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا۔ 27 سال کی عمر میں ذیابیطس ہو جانا کوئی مذاق نہیں ہے۔ سعودی عرب میں ملازمت کے دوران اچانک میرا جسم گُھلنا شروع ہو گیا۔ ہسپتال میں دکھایا تو شوگر نکلی۔ انسولین کااستعمال شروع ہوا۔ ہسپتال والے میری زبان نہیں سمجھتے تھے اور میں ان کی۔ ایک رات میری اپنی غلطی سے ’’ہائیپو‘‘ ہو گیا۔ میں گھبرا کر پاکستان آ گیا، یہاں ہر کوئی ترس کھا رہا تھا۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں تو مایوس ہو گیا تھا۔ تب مجھے اس سسٹم کا پتا چلا۔ یہاں بھی انسولین لگی لیکن کبھی ’’ہائیپو‘‘ نہیں ہوا کیونکہ انہوں نے….‘‘

  • 1
  • اگلا صفحہ:
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6

Comments

comments