ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

تیسرا راز: تنبیہہ

7

’’جب ہمارے اوسان بحال ہوتے ہیں تو ہم اپنی غلطی پر ہنسی مذاق بھی کرتے ہیں۔‘‘

’’آپ تعریف اور تنبیہہ کے معاملے میں کیسے ہنس بول لیتے ہیں؟‘‘ جاوید نے پوچھا۔

بلقیس بیگم نے کہا ’’یقیناً، ڈاکٹر خرم نے ہمیں سکھایا ہے کہ اپنی غلطی پر ہنسنے کی کیا اہمیت ہے؟ اس طرح ہمیں پھر سے پرہیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔‘‘

’’اور آپ کی غلطی پر آپ کے اہل خانہ کچھ نہیں کہتے؟‘‘

’’کیوں نہیں، وہ بھی ڈاکٹر خرم سے سب سیکھ گئے ہیں۔‘‘

’’آپ کے خیال میں اس طرح تنبیہہ اتنی مؤثر کیوں ہوتی ہے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’آپ یہ ڈاکٹر خرم ہی سے پوچھنا‘‘ بلقیس بیگم اپنی میز سے اُٹھیں اور جاوید کو لے کر دروازے کی طرف چل پڑیں۔

جاوید نے وقت دینے پر شکریہ ادا کیا تو بلقیس بیگم مسکرائیں اور کہا ’’ آپ جانتے ہو کہ میرا اب کیا ہو گا؟‘‘ وہ دونوں ہنسے۔

برآمدے میں سے گزرتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ اس خاتون نے کتنے تھوڑے وقت میں اسے کتنی زیادہ معلومات دی ہیں۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ماڈل ڈایابیٹک بننا کس قدر آسان ہے! یہ تینوں راز واقعی فہم و فراست سے بھرے ہوئے ہیں مگر وہ اس بات پر حیرت زدہ تھا کہ ذمہ داری کا تعین، تعریف و حوصلہ افزائی اور تنبیہہ کیونکر مؤثر ہیں ؟

Comments

comments