ذیابیطس میں آپ تنہا نہیں!
باب

رازوں سے پردہ اٹھتا ہے

جب وہ ڈاکٹر خرم کے آفس پہنچا تو ان کی سیکرٹری نے کہا ’’آپ سیدھے اندر جا سکتے ہیں، وہ آپ ہی کے منتظر ہیں۔‘‘

’’ہوں! کچھ حاصل بھی ہوا یا یونہی بھاگ دوڑ کرتے رہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

’’ بہت کچھ‘‘ جاوید نے جوش سے کہا۔

’’ اچھا! تو مجھے بتاؤ‘‘ ڈاکٹر خرم نے حوصلہ افزائی کے انداز میں کہا ’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

’’میں جاننا چاہتا ہوں کہ یہ عام فہم باتیں اتنی کارآمد کیوں ہیں ؟‘‘

’’جاوید! سبھی کا یہی حال ہے، جب آپ جان لیتے ہیں کہ کوئی چیز کیسے کام کرتی ہے تو پھر اسے ستعمال کرنے کا رجحان بڑھ جاتا ہے اور تم جانتے ہو کہ جاننا اور استعمال نہ کرنا عملی طور پر نہ جاننا ہے۔ میں جو کچھ جانتا ہوں تمہیں بتانے میں خوشی محسوس کروں گا، بتاؤ کہاں سے بات شروع کروں ؟‘‘

آخر مریض پر ذمہ داری ڈالنے کی کیا تک ہے؟‘‘

’’ ادھر دیکھیے‘‘ ڈاکٹر خرم نے دیوار پر لگی تختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

جب ہم اپنی نگہداشت کی ذمہ داری
خود اُٹھاتے ہیں تو نگہداشت وحشت
کی بجائے چاہت بن جاتی ہے

Comments

comments